مرکزی حکومت اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو نوٹس جاری کردیا، ۱۹؍ مارچ کو اگلی سماعت ، نئے ضوابط کی وجہ سے پورے ملک میں پھیلی بے چینی کا بھی نوٹس لیا
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 11:16 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو نوٹس جاری کردیا، ۱۹؍ مارچ کو اگلی سماعت ، نئے ضوابط کی وجہ سے پورے ملک میں پھیلی بے چینی کا بھی نوٹس لیا
سپریم کورٹ نے یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) کے نئے مساواتی اور امتیاز مخالف ضوابط پر فوری روک لگا دی ہے اور مرکز حکومت اور یو جی سی سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بادی النظر میں یہ ضوابط غیر واضح معلوم ہوتے ہیں اور آئین کے مساواتی اصول، بالخصوص آرٹیکل ۱۴؍ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اس معاملے میں فی الحال ۲۰۱۲ء کے ضوابط ہی نافذ رہیں گے جبکہ اگلی سماعت ۱۹؍ مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔یہ کارروائی ان مفاد عامہ کی عرضیوں پر ہوئی جن میں کہا گیا تھا کہ نئے ضوابط بعض طبقات کو بطورِ خاص ممکنہ متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ جنرل زمرے کے طلبہ کو اس دائرے سے باہر رکھ دیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں کے مطابق اس سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے گویا امتیاز صرف مخصوص سماجی زمروں کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے، جو آئینی مساوات کے بنیادی تصور کے منافی ہے اور سماج میں تفریق کو بڑھا سکتا ہے۔
سماعت کے دوران عرضی گزاروں کے وکیل نے ضوابط کی ایک شق کو خاص طور پر چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امتیاز کی تعریف محدود اور غیر متوازن ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آئین تمام شہریوں کو یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے، اس لیے امتیاز کی تعریف بھی ہمہ گیر ہونی چا ہئے نہ کہ مخصوص گروہوں تک محدود۔ عرضی گزاروں کےوکلاء کے مطابق پہلے سے موجود تعریف کے ہوتے ہوئے نئی شق شامل کرنے کی ضرورت واضح نہیں اور یہی ابہام ضوابط کے غلط استعمال کے خدشات کو جنم دیتا ہے