چیف جسٹس کی بنچ سی پی ایم کی عرضی پر سماعت کریگی، آئینی عہدوں پر فائز افراد کی زہر افشانی کے خلاف پٹیشن بھی شنوائی کی منتظر ہے
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 9:43 AM IST | Guwahati
چیف جسٹس کی بنچ سی پی ایم کی عرضی پر سماعت کریگی، آئینی عہدوں پر فائز افراد کی زہر افشانی کے خلاف پٹیشن بھی شنوائی کی منتظر ہے
آسام میں بنگالی بولنےوالے مسلمانوں کو تحقیر آمیز انداز میں’’میاں‘‘ کہہ کر مخاطب کرنے اوران کے خلاف زہر افشانی کے عادی وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کے خلاف داخل کی گئی ایک عرضی پر پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی بنچ سماعت کریگی۔ یہ عرضی آسام کی بی جےپی اکائی کے ذریعہ پوسٹ کئے گئے اس ویڈیو کے خلاف سی پی آئی اور سی پی ایم نے داخل کی ہے جس میں شرما مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اے آئی سے بنائے گئے اس ویڈیو کا عنوان ’’پوائنٹ بلینک ٹارگیٹ‘‘ دیاگیا اوراس کے ساتھ ’نومرسی‘‘ یعنی کوئی رحم نہیں کا جملہ استعمال کیاگیا۔
پیر کو معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت اور جوائے مالیہ باغچی کی بنچ کریگی۔ ۱۰؍ فروری کو ایڈوکیٹ نظام پاشا نے چیف جسٹس سے فوری سماعت کی اپیل کی تھی جس پر وہ یہ کہتے ہوئے راضی ہوگئے تھے کہ جب الیکشن ہوتا ہے تواس کا کچھ حصہ سپریم کورٹ میں بھی لڑا جاتا ہے۔
ا س ویڈیو کے خلاف سی پی آئی ( مارکس وادی) اور عینی راجا نے دوعرضیاں دائر کی تھیں ،تیسری عرضی آسام کی ۴؍اہم شخصیات نے دائر کی ہے جس میں انھوںنے بسوا شرما پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید ۱۲؍لوگوں کے ذریعہ ایک علاحدہ عرضی دائر کی گئی ہے جس میں وزیراعلیٰ کے ذریعہ مسلمانوں کو میاں اور انھیں جہادی کہنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس عرضی کا دائرہ کار وسیع ہے کیوں کہ اس میں ہیمنت بسوا شرما کے علاوہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور قومی سلامتی کے مشیر اجے ڈوبھال کے بیانوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کے ذریعہ نفرت انگیزی پر قدغن لگانے کیلئے رہنما خطوط جاری کرے۔ گزشتہ ہفتہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے بھی عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ۲۷ ؍جنوری کو ہیمنت بسوا سرما نے ایک بیان دیا تھا جس میں کہا تھا کہ چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹروں کو انتخابی فہرست سے خارج کیا جائے گا ،انھوںنے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی پارٹی براہ راست میاں کے خلاف ہے ۔
مولانا محمود مدنی کی جانب سے دائر کی گئی اس عرضی میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی تقریر اس تناظر میں کہ وہ ایک اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہیں، کسی بھی طرح سے محض رائے کے اظہار کے دائر ے میں نہیں آتی۔