Updated: October 27, 2026, 8:06 PM IST
| Mumbai
ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز میں قیادت کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ نول ٹاٹا نے کمپنی کے ایگزیکٹیو چیئرمین این چندر شیکھرن کی دوبارہ تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس فیصلے میں طریقۂ کار سے متعلق کئی خامیاں ہیں اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے جڑے سوالات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
بامبے ہاؤس۔ تصویر:آئی این این
ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز میں قیادت کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ نول ٹاٹا نے کمپنی کے ایگزیکٹیو چیئرمین این چندر شیکھرن کی دوبارہ تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس فیصلے میں طریقۂ کار سے متعلق کئی خامیاں ہیں اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے جڑے سوالات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
کمپنی کے سیکریٹری سپرکاش مکھوپادھیائے کو بھیجے گئے ایک خط میں نول ٹاٹا نے سات دن کے اندر کئی اہم دستاویزات اور معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس قرارداد کے ذریعے چندر شیکھرن کو ۲۱؍ فروری۲۰۲۷ء سے اگلے پانچ سال کے لیے دوبارہ مقرر کیا گیا، اسے قانونی طور پر درست نہیں مانا جا سکتا۔نول ٹاٹا کا الزام ہے کہ بورڈ اجلاس کے اصل ایجنڈے اور ترمیم شدہ ایجنڈے، دونوں میں ایگزیکٹو چیئرمین کی دوبارہ تقرری سے متعلق کسی قرارداد کا واضح ذکر نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:وراٹ کا ہیری کین کیلئے جذباتی پیغام، بیلن ڈی اورجیتنے پرانگلش فٹبالرکو مبارکباد
ان کے مطابق، ایجنڈے کے آئٹم نمبر ۷؍کو صرف نامزدگی و معاوضہ کمیٹی (این آر سی) کی رپورٹ یا بحث کے طور پر درج کیا گیا تھا، لیکن اسی نکتے کے تحت دوبارہ تقرری کی قرارداد پیش کر دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈا اور کارروائی کی تفصیلات (منٹس) پہلے سے ڈائریکٹرز کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی تھیں، جس سے فیصلہ سازی کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ نول ٹاٹا نے ٹاٹا سنز کے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ چیئرمین کے انتخاب کے لیے ضروری سلیکشن کمیٹی کیوں تشکیل نہیں دی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی کے قواعد کے تحت بعض مخصوص ڈائریکٹرز کی رضامندی ضروری تھی، لیکن اس طریقۂ کار پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کمپنی سیکریٹری کی جانب سے بورڈ اجلاس کی حتمی کارروائی تیار ہونے سے پہلے ہی قرارداد کی توثیق کرنے اور اسے رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس جمع کرانے پر بھی اعتراض کیا ہے۔ اپنے خط میں نول ٹاٹا نے ۱۷؍ ستمبر کو ہونے والے بورڈ اجلاس کی اصل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ، اس کا تحریری متن (ٹرانسکرپٹ)، حتمی کارروائی، ہر ڈائریکٹر کے ووٹ کا ریکارڈ اور بورڈ کی دستاویزات میں کی گئی تبدیلیوں کا مکمل آڈٹ ٹریل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نیتا جی کے خاندان کا پربھاس کی فلم’’فوجی‘‘ کا ٹیزر ہٹانے کا مطالبہ
اس تنازع کا دوسرا پہلو ہینو ون ویئرہاؤسنگ نامی کمپنی سے متعلق ہے۔ نول ٹاٹا نے سوال اٹھایا ہے کہ اس کمپنی میں این چندر شیکھرن کی اہلیہ اور بیٹا ڈائریکٹر ہیں، تو کیا ان کاروباری تعلقات کے بارے میں چندر شیکھرن کی دوبارہ تقرری پر غور کرنے سے پہلے ٹاٹا سنز کے بورڈ کو آگاہ کیا گیا تھا؟ انہوں نے ٹی وی ایس موٹر کے چیئرمین ایمیریٹس اور ٹاٹا سنز کی نامزدگی و معاوضہ کمیٹی کے رکن وینو سرینیواسن کے کردار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ نول ٹاٹا کا کہنا ہے کہ سرینیواسن نے ۳؍ستمبر کو ہونے والی بات چیت میں حصہ لیا اور ووٹ بھی دیا، حالاں کہ انہیں مبینہ کاروباری تعلقات کی وضاحت کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل سے خود کو الگ کرنے پر غور کرنا چاہیے تھا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹاٹا گروپ میں قیادت اور انتظامی طریقۂ کار سے متعلق اٹھنے والے سوالات کارپوریٹ گورننس کے حوالے سے جاری بحث کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔ فی الحال ٹاٹا سنز کی جانب سے ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔