Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تراویح پڑھانا عظیم دینی خدمت اور بڑی ذمہ داری ہے‘‘

Updated: March 10, 2026, 11:03 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

جمعیۃ علماء مہاراشٹر سے وابستہ حافظ عارف انصاری گزشتہ ۴۲؍ سال سے تراویح پڑھانے کے ساتھ ساتھ دینی، سماجی اور فلاحی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

Hafiz Arif Ansari Is Leading Taraweeh For The 42nd Time This Year In Thane Rabori. Photo:INN
حافظ عارف انصاری امسال تھانے رابوڑی میں۴۲؍ویں مرتبہ تراویح سنا رہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
ضلع بلند شہر ( اتر پردیش) سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد عارف نےگزشتہ چالیس سے زائد برسوں سے باقاعدگی سے ہر رمضان میں تراویح سنانے کے عمل کو جاری رکھا ہے۔ امسال وہ رابوڑی، تھانے کے مدرسہ مدینۃ العلوم میں۴۲؍ویں مرتبہ تراویح سنا رہے ہیں۔ اُن کا یقین ہے کہ ’’تراویح پڑھانا ایک عظیم دینی خدمت اور بڑی ذمہ داری ہے جس میں امام کیلئے تقویٰ، تجوید اور حافظے کا خاص خیال رکھنا از حد ضروری ہوتا ہے۔ یہ اہل علم اور حفاظ کی امانت ہی نہیں بلکہ سنت ِ رسولؐ کی پیروی بھی ہے جس کی سعادت رمضان المبارک کی بابرکت راتوں میں حفاظ کو حاصل ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تراویح پڑھانے کا یہ عمل سماجی ذمہ داری بھی ہے، جسے حفاظ کو امانت سمجھ کر ادا کرنا چاہئے ۔‘‘
تھانے رابوڑی ہی میں مقیم حافظ محمد عارف انصاری نے ۱۹۸۴ء میں مدرسہ خازن العلوم، مسجد انصاریان، خورجہ (ضلع بلند شہر، یوپی) سے حفظ کی تعلیم مکمل کی اور ایک سال بعد پہلی بار ۱۹۸۵ء میں اُسی مسجد انصاریان میں تراویح سنائی۔ دینی خدمت کا یہ سلسلہ ۴۲؍ سال سے باقاعدگی سے جاری ہے۔ یوپی  کے مدرسہ میں ۴ ؍ سال تک بچوں کو دینی تعلیم دینے اور تراویح پڑھانے کے بعد حافظ عارف نے روز گار کے مقصد سے ۱۹۸۹ء میں عرو س البلاد ممبئی کا رخ کیا اور کئی مدارس میں پڑھانے اور مساجد میں تراویح سنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
 
 
حافظ عارف انصاری نے اپنی تین بیٹیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی آراستہ کیا ہے۔ اُن کی بڑی بیٹی اور منجھلی بیٹی نے گریجویشن جبکہ چھوٹی بیٹی نے اسپیشل اسکول کا سرٹیفکیٹ کورس کیا ہے۔ حافظ صاحب سماجی، فلاحی اور تعلیمی میدان میںبھی سر گرم ہیں۔ جمعیت علماء شہر تھانے کے صدر، ضلع تھانے کے جنرل سیکریٹری اور جمعیت علماء مہاراشٹر کے آفس سیکریٹری ہیں۔ یہی نہیں وہ رابوڑی کے معروف ادارہ مسلم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (میوا) سے بھی  بطور صدر وابستہ ہیں۔
 
 
جہاں تک تراویح سنانے کا معاملہ ہے، اُنہیں رابوڑی کی مسجد عمر میں سب سے طویل عرصہ (۲۸؍ سال) تک مسلسل تراویح سنانے کا موقع ملا۔ بڑھتی عمر اور اس عمر کے عوارض بالخصوص گھنٹوں میں تکلیف کے باوجود انہوں نے کھڑے ہو کر تراویح پڑھانے کو مقدم رکھا اور ہمیشہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔ 
نئے حفاظ کو اُن کا مشورہ ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کو روزانہ کا معمول بنائے رکھیں تاکہ تراویح میں قرآن کریم سناتے وقت کسی غلطی کا خدشہ باقی نہ رہے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK