روس سے کشیدگی میں اضافہ،امریکہ اور برطانیہ کا یوکرین سےانخلاء کا حکم

Updated: January 25, 2022, 8:33 AM IST | Kyiv

برطانیہ اور امریکہ کے ذریعہ یوکرین سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کے انخلاء کے حکم کے علاوہ روس پر سخت تنقیدیں بھی کی ہیں،روس نے بھی مشرق اور مغرب کے بیچ کشیدگی میں اضافےکیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ’پاگل پن‘ اور ’جھوٹ پر مبنی خبروں کے پھیلائو‘ کو ذمہ دار قرار دیا

Some people are talking to a security official outside the US embassy in Ukraine
یوکرین میں امریکی سفارتخانے کے باہر کچھ لوگ سیکوریٹی اہلکار سے بات کررہے ہیں

روس سے جنگ کے خطرے کے پیش نظر امریکہ اور برطانیہ نے اپنے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو یوکرین سے واپسی کا حکم دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور یوکرین تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے یوکرین کے معاملے پر روس پر کڑی تنقید بھی  کی  ہے اور دفاعی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی مغربی ممالک کے ’پاگل پن‘ کو تنائو میں اضافے کا سبب قرار دیا ہے۔روس کا کہنا ہے کہ  مشرقی یورپ میں ناٹو فورسیز میں اضافہ اوریوکرین کے سفارتخانے سے عملے اور ان کے اہل خانہ کے انخلاء کے حکم سے مشرق اور مغرب کے بیچ تنائو میں اضافہ ہوا ہے۔کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے مغرب پر ’پاگل پن‘ اور ’جھوٹ‘ پر مبنی معلومات پھیلاکر مشرق اور مغرب کے بیچ تنائو میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کی جانب سے حملے کا اندیشہ پہلے ہی سے زیادہ رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیف نے اپنی سرحد کے قریب بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کررکھی ہیںجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حملہ کی تیاری کررہا ہے۔ جبکہ یوکرین متعدد مرتبہ ان الزامات کی تردید کرچکا ہے۔
 روس کی جانب سے کسی کو بھی خاطر میں نہ لانے پر جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے جس پر امریکہ اور برطانیہ نے یوکرین اور روس کے لیے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔امریکہ نے یوکرین میں اپنے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو فوری طور پر واپس آنے کا حکم دیتے ہوئے سفارتی عملہ بھی کم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے مطابق یوکرین میں سفارتی عملہ کم کیا جا رہا ہے تاہم کسی سفارت کار کو واپس نہیں بلایا گیا البتہ کوئی رضاکارانہ طور پر اہل خانہ کے ہمراہ آنا چاہے تو اجازت ہوگی۔اسی طرح برطانیہ نے بھی فوری طور پر یوکرین میں موجود سفارت کاروں کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
 امریکی محکمۂ خارجہ نے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں سفارت خانے کے امریکی ملازمین کی رضاکارانہ روانگی کی بھی اجازت دی ہے۔علاوہ ازیں محکمۂ خارجہ نے یوکرین میں موجود امریکی شہریوں سے بھی کہا ہے کہ وہ کمرشل یا دوسری نجی طور پر میسر ٹرانسپورٹ کے ذریعے یوکرین سے نکلنے پر غور کریں۔محکمے نے یوکرین کا سفر کرنے سے متعلق چوتھے درجے کا سفری انتباہ بھی جاری کیا ہے۔ اس انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے خلاف روسی ملٹری کارروائی کے خطرات کی وجہ سے لوگ یوکرین نہ جائیں۔اس سے پہلے بھی امریکہ نے یوکرین کے متعلق عالمی وبا کے باعث چوتھے درجے کا سفری انتباہ جاری کیا تھا خیال رہے کہ روس نے ماضی میں سابق سوویت یونین کا حصہ رہنے والے ہمسایہ ملک یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد پر ایک لاکھ ۲۷؍فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ 
 اتوار کی شب امریکی محکمۂ خارجہ نے روس کے سفر کے حوالے سے ایک ٹریول ایڈوائزری بھی دوبارہ جاری کی ہے۔ اس ایڈوائزری میں امریکی شہریوں کو یوکرین نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یوکرین اور روس کی جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکی شہری روس کا سفر نہ کریں کیوں کہ اُنہیں وہاں امریکی سفارت خانے کی محدود صلاحیت ، کرونا پابندیاں، روسی سیکوریٹی اہلکاروں کی طرف سے ہراسانی اور قانون کے من مانے استعمال جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
 یوکرین کی سرحد پر روسی افواج کی نقل و حرکت میں اضافے کے بعد جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔واشنگٹن میں محکمۂ خارجہ کے ایک اعلی اہلکار نے ان نئے اقدامات کے حوالے سے صحافیوں کے سوال کے جواب میں اتوار کی شام کہا کہ یہ اقدامات ان رپورٹس کی روشنی میں کیے گئے ہیں جن کے مطابق روس یوکرین کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔اہلکار نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ سلامتی کے حالات، خاص طور پر یوکرین کی سرحدوں کے ساتھ روس کے زیرِ قبضہ کرائمیا اور مشرقی یوکرین میں حالات تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔صدر جو بائیڈن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ صدرنے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی فوجی حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اور اگر حملہ ہوتا ہے تو کیف میں امریکی سفارت خانے کے پاس ان امریکیوں کی مدد کرنے کی محدود صلاحیت ہو گی جو ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔البتہ محکمۂ خارجہ کے اہلکار نے کیف میں امریکی سفارتخانے میں امریکی کارکنوں یا یوکرین میں موجود امریکی شہریوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔حکام نے کہا کہ یہ احکامات احتیاطی تدبیر کے طور پر لیے جا رہے ہیں جس سے کسی بھی طرح یوکرین کی حکومت کے لیے امریکی حمایت کو نقصان نہیں پہنچتا اور یہ کہ کیف میں امریکی سفارت خانہ اپنا کام سر انجام دیتا رہے گا۔محکمۂ خارجہ نے یوکرین میں موجود تمام امریکی شہریوں سے ایک آن لائن فارم پُر کرنے کو بھی کہا ہے تاکہ محکمہ ان کے ساتھ بہتر طریقے سے رابطے میں رہے۔ ایسا کرنا خاص طور پر ان شہریوں کے لیے اہم ہے جو یوکرین میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

russia Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK