• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی آئی اے کی رپورٹ: یوکرین نے پوتن کے گھر پر حملہ نہیں کیا، روسی دعوے مشکوک

Updated: January 01, 2026, 10:02 PM IST | Washington

سی آئی اے کی تازہ رپورٹ میں روس کے اس دعوے کو مسترد کیا گیا ہے کہ یوکرین نے پوتن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق یوکرین نے قریبی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، نہ کہ کسی ذاتی رہائش کو۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس دعوے پر شکوک ظاہر کئے اور کہا کہ یہ ممکن ہے کہ مبینہ حملہ سرے سے ہوا ہی نہ ہو۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: INN
روسی صدر ولادمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ کو ڈرون حملے کا نشانہ نہیں بنایا۔ سی آئی اے کی اس رپورٹ میں روس کی جانب سے کئے گئے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کیف نے روس کے شمال میں واقع پوتن کے گھر پر حملہ کیا۔ یہ دعویٰ روسی صدر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک فون کال کے دوران بھی دہرایا تھا۔ تاہم، ٹرمپ نے اس مؤقف پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’اس قسم کے احمقانہ اقدامات کا تصور بھی نہیں کر سکتے‘‘، اور مزید کہا کہ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہوتا تو اس سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں واشنگٹن کے نقطۂ نظر پر اثر پڑ سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: چین: نئے سال کی تقریر میں شی جن پنگ کا تائیوان کے الحاق کا عہد، ترقی پر زور

اطلاعات کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے بدھ ۳۱؍ دسمبر کو ٹرمپ کو ایجنسی کی تحقیقات سے آگاہ کیا اور واضح کیا کہ سی آئی اے کو پوتن کی جانب سے عوامی سطح پر لگائے گئے الزامات درست ہونے کا یقین نہیں ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو اس کے برعکس یہ معلوم ہوا ہے کہ یوکرین اسی علاقے میں موجود فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا جہاں پوتن کی رہائش گاہ واقع ہے، تاہم یہ اہداف رہائش کے قریب نہیں تھے۔ سی آئی اے بریفنگ کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نیویارک پوسٹ کے ایک اداریے کا لنک شیئر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ مبینہ یوکرینی حملہ درحقیقت ہوا ہی نہیں اور روس ہی امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا اعلان کیا

دوسری جانب، کریملن کی جانب سے پوتن ٹرمپ فون کال کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پوتن روسی صدارت سے منسلک ایک رہائش گاہ پر مبینہ ڈرون حملے کی خبر پر ’’حیران‘‘ اور ’’شدید مشتعل‘‘ تھے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس گفتگو میں یہ بھی کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ موجودہ امریکی انتظامیہ نے یوکرین کو ’’ٹاماہاک‘‘ میزائل فراہم نہیں کئے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فون کال کی تصدیق کی اور اسے ’’بہت اچھی‘‘ گفتگو قرار دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کئی ’’پیچیدہ مسائل‘‘ تاحال حل طلب ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق پوتن مبینہ حملے کے ذکر پر خاصے ناراض تھے، مگر ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ اس انداز میں پیش آیا ہی نہ ہو جیسا کہ روس دعویٰ کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK