اب تک۷؍ ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔ ہریانہ، بہار، اتر پردیش اور مہاراشٹر تک پھیلے نیٹ ورک کی پرتیں کھلنے لگیں، مبینہ ماسٹر مائنڈ کی تلاش میں کئی ریاستوں میں چھاپےمارے جارہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 4:23 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
اب تک۷؍ ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔ ہریانہ، بہار، اتر پردیش اور مہاراشٹر تک پھیلے نیٹ ورک کی پرتیں کھلنے لگیں، مبینہ ماسٹر مائنڈ کی تلاش میں کئی ریاستوں میں چھاپےمارے جارہے ہیں۔
ٹیچرس ایلجبلٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی ۲۰۲۶ءکے پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات کر رہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اور بھیونڈی پولیس کو ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس ہائی پروفائل اور بین الریاستی پرچہ لیک ریکیٹ میں مزید ۳؍ملزمین ہریانہ کے رہائشی کپل کرشنا دہیا، بہار کے سمستی پور سے تعلق رکھنے والے سونو کمار سنگھ اور متھن کمار سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔ جس کے بعد اب گرفتار شدہ ملزمان کی تعداد بڑھ کر۷؍ ہوگئی ہے۔
تینوں ملزمین کو مختلف ریاستوں سے گرفتار کرکے بھیونڈی لایا گیا، جہاں انہیں عدالتی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے تفتیشی ادارے کی درخواست منظور کرتے ہوئے تینوں ملزمین کو۹؍ جولائی تک پولیس تحویل میں دے دیا۔ اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے واضح ہو رہا ہے کہ یہ کوئی مقامی یا محدود نوعیت کا معاملہ نہیں بلکہ کئی ریاستوں میں پھیلا ایک منظم اور مربوط نیٹ ورک ہے، جس کے تار دیگر مسابقتی امتحانات سے بھی جڑے ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پنجاب سے گرفتار کیا گیا اہم رابطہ کارڈی سی پی ڈاکٹر پون بنسوڈ کے مطابق گرفتار ملزم کپل کرشنا دہیا، مبینہ ماسٹر مائنڈ وجیندر کمار گپتا کا انتہائی قریبی ساتھی ہے۔ ابتدائی تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ اس کے قبضے میں بھی مبینہ طور پر لیک شدہ سوالیہ پرچہ موجود تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ مرکزی ملزم کے ساتھ امتحان سے قبل مہاراشٹر آیا تھا اور سوالیہ پرچوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں سرگرم تھا۔
تحقیقات کے مطابق۲۵؍ جون کو کپل دہیا، ملزم دھیرج بلراج سنگھ کے ساتھ بھیونڈی پہنچا تھا۔ اگلے روز وہ اولا کیب کے ذریعے پونے روانہ ہوا، جہاں مبینہ طور پر سوالیہ پرچہ فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم۲۷؍ جون کو بھیونڈی پولیس کی ابتدائی گرفتاریوں کے بعد وہ ممبئی ہوائی اڈے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے مسلسل تکنیکی نگرانی اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تعاقب کرتے ہوئے اسے پنجاب کے پٹھان کوٹ سے گرفتار کر لیا۔ تفتیش میں یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ گرفتار ملزم متھن کمار سنگھ، مبینہ ماسٹر مائنڈ وجیندر کمار گپتا کا قریبی رشتہ دار ہے۔ پولیس کے مطابق وہ نہ صرف مرکزی ملزم کے مسلسل رابطے میں تھا بلکہ پورے نیٹ ورک کی سرگرمیوں، ملزمین کی نقل و حرکت اور دیگر انتظامی امور میں بھی فعال کردار ادا کر رہا تھا۔
جعلی دستاویز بنائے گئے
اس معاملے میں گرفتار تیسرے ملزم سونو کمار سنگھ پر جعلی دستاویزات تیار کرانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس نے مبینہ ماسٹر مائنڈ کیلئے فرضی شناختی دستاویزات، بشمول شناختی کارڈ، پین کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس، تیار کرائے تھے۔ انہی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کیے گئے موبائل سم کارڈز کو مبینہ طور پر پورے پرچہ لیک ریکیٹ کے رابطوں اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ جعلی شناخت کے استعمال کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی سے بچنا اور نیٹ ورک کو خفیہ طور پر چلانا تھا۔ اب ان افراد کی بھی تلاش کی جا رہی ہے جنہوں نے جعلی دستاویزات کی تیاری میں مدد کی۔