Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا....

Updated: July 04, 2026, 4:41 PM IST | Yasin Ahmed | Mumbai

یہ کہانی پیغام دیتی ہے کہ اتحاد میں طاقت ہے

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سرد ہوا کے ایک شریر جھونکے نے جھاڑو کے ایک جوان تنکے کو چونکا دیا۔ اس نے اپنے چاروں طرف سرسری نظر ڈالی۔ ہر سو ڈراؤنی رات اور بھیانک سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ساری فضا کیڑے مکوڑوں کی بے ہنگم آوازوں سے سائیں سائیں کر رہی تھی۔ تنکے کے تمام ساتھی دن بھر کا کام ختم کرکے نیند کا مزا لوٹ رہے تھے۔ نوجوان تنکے نے آج ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تھکن ہوتی تو وہ بھی راحت کی نیند سوتا۔ اسی لئے آج کئی بار اس کی نیند اچاٹ ہوچکی تھی۔ 
در و دیوار پر ناچتے ہوئے سایوں سے وہ کچھ خوف زدہ سا ہوگیا، اور اپنے دادا جان کے بازوؤں کا سہارا لینے پر مجبور ہوگیا۔ اُن کے شفقت بھرے ہاتھوں کی تھپک نے اُسے جلد ہی نیند کی آغوش میں پہنچا دیا .... اور پھر اُس نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ 
اُس نے دیکھا کہ ایک بڑے سے گھر کے بڑے دالان میں جھاڑو کے تنکوں کا ایک شاندار جلسہ ہو رہا ہے۔ سارے دالان میں جگنوؤں کی شمعیں روشن ہیں۔ نوجوان تنکا خود ہی تقریر کر رہا ہے۔ وہ بڑے بپھرے ہوئے انداز میں کہہ رہا ہے ’’مَیں بغاوت کا جھنڈا بلند کرتا ہوں۔ میں اُن تمام گندگیوں سے نفرت کا اظہار کرتا ہوں جن سے ہمارا صدیوں پرانی ساتھ رہا ہے ہمارے بزرگوں نے اپنی قسمت میں صرف گندگی صاف کرنا لکھوا لیا ہے۔ مَیں آج اس پُرانے دستور کو توڑ دونگا....‘‘
’’مگر بیٹا سنو تو....‘‘ تقریر کے دوران ایک بزرگ تنکے نے اُسے نصیحت کرنا شروع کی جو اس کے دادا جان سے ملتے جلتے سے تھے.... ایسی ناسمجھی کی باتیں نہیں کیا کرتے۔ تم ابھی بچے ہو۔ دُنیا کی اونچ نیچ سے واقف نہیں ہو دُنیا ہر کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، چاہے وہ بہت معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ ہر چیز اپنی حد تک ہی ٹھیک رہتی ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب ایک ننھی چڑیا اپنی اُڑان کی حد توڑ کر اوپر اُڑنا چاہتی ہے تو شکاری پرندوں کا شکار ہو جاتی ہے اور....‘‘ ’’بس بس!‘‘ نوجوان تنکے نے بات کاٹتے ہوئے کہنا شروع کیا، ’’مَیں یہ پرانے گھسے پٹے خیالات اب سننا نہیں چاہتا۔ آخر ہم ہی کیوں گندگی صاف کریں۔ ہمارے ہی پیروں میں ڈور کی بیٹریاں کیوں ہوں ؟ ہم بھی کیوں نہ آزاد پنچھیوں کی طرح آسمان کی کھلی فضاؤں میں پرواز کریں ....‘‘

یہ بھی پڑھئے: نازک پودے

’’مگر بیٹا!‘‘ یہ دادا جان کی آواز تھی ’’اتحاد زندگی ہے نفاق موت! ہم جب تک ڈور کے ایک مضبوط بندھن میں بندھے ہوئے ہیں، تب تک ہم زندہ ہیں۔ جوں ہی ہم الگ الگ ہوئے، ہماری ہستی کا مٹ جانا یقینی ہے مَیں دیکھ رہا ہوں کہ تم ڈور کے بندھن سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔ لیکن تم بالکل اُس بچے کی مانند نا دانی کر رہے ہو جو ریل کے ڈبے میں سفر کر رہا ہو اور کئی بار ماں باپ کے منع کرنے پر بھی کھڑکی سے باہر گردن نکال کر جھانکتا ہے، اور پھر راستے کے کسی ستون سے ٹکرا کر مر جاتا ہے۔ بیٹا مَیں نے اس دُنیا میں کافی دن گزارے ہیں۔ آزادی کا جو مطلب تم سمجھ رہے ہو وہ موت کی سرحد کو چھوتا ہے....‘‘
پھر موت کی سی خاموشی چھا گئی۔ دادا جان کی باتوں نے دلوں پر گہرا اثر کیا۔ مگر باغی تنکا جیسے کچھ پاگل سا ہوگیا تھا۔ وہ پُرجوش انداز میں جھاڑو کے بندھن سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ اچانک وہ آزاد ہوگیا۔ بڑے غرور سے اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا بندھن میں بدستور جکڑے ہوئے تھے۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے، کیا نہ کرے ہوا کے ایک شریر جھونکے نے اُسے بہت دُور اُٹھا کر پھینک دیا۔ 
وہ دھم سے زمین پر آگرا، گرنے سے تھوڑی بہت چوٹ بھی لگی، مگر آزادی حاصل ہونے کی خوشی میں اُسے کچھ احساس نہیں ہوا۔ وہ سوچنے لگا کہ اب کبھی میں گندگی کے قریب بھی نہ پھٹکوں گا۔ ہمیشہ پاک صاف رہوں گا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اُس نے صدیوں پرانی رسم آج توڑ کر رکھ دی تھی...
اور ابھی وہ اِن خوش کن خیالات میں کھویا ہی تھا کہ ہوا کے ایک تیز جھونکے نے اسے اپنے کاندھے پر سوار کرلیا۔ وہ اچانک کی اِس اُڑان کیلئے بالکل تیار نہیں تھا۔ اُس کا دل بُری طرح دھڑکنے لگا۔ اُس نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ لمحے اسی طرح گزرے۔ اُسے عجیب سا لگ رہا تھا۔ اس نے نیچے دیکھا۔ ہر چیز اُسے گھومتی پھرتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔ ٹیڑھی میڑھی گلیاں، پر پیچ راستے، چلتے پھرتے لوگ اور دوڑتی بھاگتی سواریاں۔ کئی بار کالے کالے بادلوں نے اُسے اپنی آغوش میں چھپا بھی لیا تھا۔ ہوا کے ہلکے ہلکے ہچکولے پورے بدن میں گدگدیاں سی کر رہے تھے۔ اُسے عجیب سا لطف آنے لگا تھا۔ اُس نے اس سے پہلے اکثر چاند کو بادلوں سے اٹکھیلیاں کرتے دیکھا تھا اور اب وہ خود بھی آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ 
پھر ہوا کی تیزی میں کمی ہونے لگی۔ وہ آہستہ آہستہ ہوا کے ساتھ ساتھ نیچے اترنے لگا اور اترتے اترتے وہ ایک جگہ دہکتی آگ کے قریب گر پڑا۔ شعلوں کی چمک سے اُس کی آنکھیں چکا چوندھ ہوگئیں، ہوا کی گرم لپٹیں اُسے چھونے لگیں۔ اُس کا بدن جھلسنے لگا وہ حواس باختہ ہوگیا۔ اس حادثے کے لئے وہ بالکل تیار نہیں تھا۔ 
اب اسے ہوش آیا۔ ہوا کے شریر جھونکے نے اُسے موت کی سرحد پر لا کھڑا کیا تھا۔ اُس نے سوچا کہ جب تک وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈور کے بندھن میں بندھا ہوا تھا تو کتنا مضبوط تھا۔ ہوا کا معمولی تو کیا، کوئی زبردست جھونکا بھی اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکتا تھا مگر ایک الگ تنکا ہونے کی وجہ سے وہ کتنا بے بس تھا، کتنا کمزور تھا اب وہ صرف ہوا کے رحم و کرم پر تھا۔ شعلوں کی زبانیں اُسے چاٹ لینے کے لئے بے چین تھیں اس نے دل ہی دل میں دادا جان کو یاد کیا۔ اُن کی کہی ہوئی ایک ایک بات اُس کے کانوں میں گونجنے لگی.... ’’اتحاد زندگی ہے، نفاق موت! ہر چیز اپنی ایک حد کے اندر محفوظ ہے۔ زندہ ہے....‘‘ اور اس کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو ٹپکنے لگے۔ اس کے ہاتھ دعا کے لئے اُٹھ گئے ’’یا اللہ تو ہی اس مصیبت سے بچا۔ ‘‘
اور پھر ہوا کے ایک اور سخت جھونکے نے اُسے اپنے کاندھے پر سوار کر لیا۔ اب وہ پھر بلند فضاؤں میں اِدھر اُدھر تیرنے لگا۔ ہر لمحہ تنہائی، خطرے اور بے بسی کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔ فضا میں منڈلاتی چیلوں اور گدوں کے علاوہ اور کوئی چڑیا نہ نظر آرہی تھی۔ بار بار دل سے ایک ہوک سی اُٹھ جاتی، کاش وہ پھر اپنے ساتھیوں سے جا ملے۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: قصہ ایک شیر کی حجامت کا

یک بیک اُسے سردی سی محسوس ہونے لگی۔ ہوا پہلے سے زیادہ خنک ہوگئی۔ اس کے کانوں میں عجیب قسم کی سنسناہٹ کی آوازیں آنے لگیں اس نے نیچے نظر دوڑائی۔ دور بہت دور نیچے سمندر کی لہریں شور و غل کیساتھ ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں۔ شکاری پرندے مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے۔ دور کئی کشتیاں بادبانوں کے سہارے ہولے ہولے اپنی منزل کی طرف چلی جا رہی تھیں اور تنکا ہوا کے کاندھے پر سوار ہر منظر سے تیزی سے گزر رہا تھا۔ جان کے لالے پڑے ہوئے تھے پانی کی چھپ چھپاہٹ سے معلوم ہوتا کہ کوئی بڑا سا بھوت منہ لپلپاتا اس کو نگل لینے کو تیار ہے۔ 
ہوا کے ہلکے ہلکے تھپیڑوں نے اُسے ساحل کی ریت پر پٹخ دیا۔ ابھی وہ اپنے ہوش ٹھکانے بھی نہ کر پایا تھا کہ ایک بڑی سی سمندری موج اس کے قریب آکر تیزی سے لوٹ گئی وہ بال بال بچ گیا تھا۔ وہ حرکت کرنا چاہتا تھا، لیکن ریت کے ذروں نے اس کے قدموں کو جکڑ سا لیا تھا۔ موت یہاں بھی اس کے سر پر کھڑی مسکرا رہی تھی۔ لیکن اس بار ہوا کے ایک اور سخت جھونکے لئے اسے اس مصیبت سے جلد ہی نجات دلا دی۔ وہ پھر بلند فضاؤں میں اِدھر سے اُدھر تیرنے لگا۔ آج اُسے معلوم ہوا کہ آزاد پنچھیوں کی طرح کھلی فضا میں اُڑنا کیا معنی رکھتا ہے۔ 
اچانک اُس کا دماغ چکرانے لگا اور ان چکرا دینے والے حادثوں نے اُسے بے ہوش کر دیا۔ پھر اُسے کچھ خبر نہیں کہ کیا ہوا....
اور جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اُس نے اپنے آپ کو گھاس کے ایک ڈھیر پر پڑا پایا، جسے قریب کھڑی ہوئی گائے مزے لے لے کر کھا رہی تھی۔ اس کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ وہ جنبش بھی نہیں کرسکتا تھا۔ گائے اطمینان کیساتھ سوکھے تنکوں کو نوالہ بنا رہی تھی۔ باغی تنکا بھی گائے کے منہ سے قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔ اب اُسے یقین ہوگیا تھا کہ موت نہیں ٹل سکتی۔ بزرگوں کی باتوں پر عمل نہ کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے اور پھر اس نے مارے خوف کے آنکھیں بند کر لیں، کیونکہ گائے نے دوسرے تنکوں کیساتھ اُسے بھی نوالہ بنا لیا۔ اُسے اپنی ہڈی پسلی گائے کے دانتوں تلے ٹوٹتی کڑکڑاتی سی محسوس ہوئی... اُس کے منہ سے ایک زور کی چیخ نکل گئی... ’’نہیں نہیں مَیں نہیں مرنا چاہتا...‘‘
اور نوجوان تنکے لئے سہم کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے دل کی دھڑکن بدستور تیز تھی، مگر اپنے آپ کو دادا جان کے بازوؤں میں پاکر اس کی جان میں جان آئی۔ اس کی چیخ سن کر جھاڑو کا ہر چھوٹا بڑا تنکا جاگ پڑا تھا اور تعجب سے اُسے تک رہا تھا۔ دادا جان نے بڑے پیار سے پوچھا ’’کیا ہوا بیٹا کیا بات ہے؟‘‘
اور اس نے یہ کہہ کر کروٹ بدل لی ’’کچھ نہیں دادا، ایک بھیانک مگر سبق آموز خواب تھا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK