لک آؤٹ سرکیولر کے اجراء کے بعد بین الریاستی نیٹ ورک کے انکشافات کی توقع، آگرہ سے ممبئی تک سوالیہ پرچوں کی ترسیل زیرِ تفتیش، آگرہ کا پرنٹنگ پریس تفتیش کا مرکز بن گیا ہے۔
ٹی ای ٹی ۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ ( مہا-ٹی ای ٹی )۲۰۲۶ءکے مبینہ پرچہ لیک معاملے نے اب ایک بڑے بین الریاستی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تحقیقات کے دائرہ کار میں مسلسل توسیع کے ساتھ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی ) نے مبینہ مرکزی کردار وجیندر گپتا اور اس کے قریبی ساتھی کپل دہیا کے خلاف لک آؤٹ سرکیولر جاری کر دیا ہے جبکہ دونوں کی گرفتاری کے لئے ملک کی مختلف ریاستوں میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔
منظم نیٹ ورک
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس معاملے نے کئی ریاستوں میں پھیلے ایک منظم نیٹ ورک کی جانب اشارہ کیا ہے۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ دونوں مفرور ملزمین کی گرفتاری کے بعد نہ صرف ٹی ای ٹی پرچہ لیک معاملے کے اہم پہلو بے نقاب ہوں گے بلکہ مسابقتی امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے ایک وسیع نظام سے بھی پردہ اٹھ سکتا ہے۔
کونگاؤں پولیس کی کارروائی سے کھلے نئے راستے
یاد رہے کہ۲۷؍ جون کو منعقد ہونے والے ٹی ای ٹی امتحان سے قبل کونگاؤں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ۳؍ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان گرفتاریوں کے بعد سامنے آنے والے شواہد، موبائل رابطوں اور مالی لین دین کی چھان بین نے تحقیقات کو ایک نئے رخ پر پہنچا دیا جہاں وجیندر گپتا اور کپل دہیا کے نام مبینہ طور پر کلیدی کرداروں کے طور پر سامنے آئے۔
لک آؤٹ سرکیولرکے بعد تلاش میں تیزی
ڈپٹی کمشنر آف پولیس پون بنسوڈ کے مطابق، دونوں مفرور ملزمین کے خلاف تمام قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لئے خصوصی ٹیمیں مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سوالیہ پرچے امتحان سے قبل کس مرحلے پر لیک ہوئے اور انہیں مختلف ریاستوں کے ذریعے کیسے منتقل کیا گیا؟
آگرہ کا پرنٹنگ پریس تحقیقات کا مرکز
تحقیقات کا ایک اہم مرکز اتر پردیش کے شہر آگرہ میں واقع وہ پرنٹنگ پریس بھی ہے جہاں مبینہ طور پر سوالیہ پرچوں کی طباعت کی گئی تھی۔ ایس آئی ٹی کے افسران پریس کے عملے، ریکارڈز، نقل و حمل کے ذرائع اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ آگرہ سے دہلی اور پھر ممبئی تک پرچوں کی ترسیل کے پورے سلسلے کو بے نقاب کیا جا سکے۔
وجیندر گپتا کا ماضی بھی زیرِ تفتیش
پولیس ذرائع کے مطابق بہار کے ضلع سمستی پور سے تعلق رکھنے والے وجیندر گپتا کا نام ماضی میں بھی مختلف مسابقتی امتحانات کے مبینہ پرچہ لیک معاملات سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ تفتیشی ادارے اس کی مجرمانہ اور مالی سرگرمیوں کا تفصیلی ریکارڈ جمع کر رہے ہیں جبکہ مختلف ریاستوں میں درج مقدمات کی جانچ بھی جاری ہے۔
کپل دہیا اور مبینہ نیٹ ورک کی چھان بین
دوسری جانب کپل دہیا کے مبینہ کردار اور اس کے رابطہ نیٹ ورک کی بھی گہرائی سے چھان بین کی جا رہی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید گرفتاریاں اور اہم انکشافات متوقع ہیں، کیونکہ دستیاب شواہد ایک منظم اورریاستی سطح پر سرگرم گروہ کی موجودگی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
آنے والے دنوں میں بڑے انکشافات کا امکان
ذرائع کے مطابق، تحقیقات اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں ہونے والی گرفتاریاں اس پورے معاملے کی سمت متعین کر سکتی ہیں۔ فی الحال تھانے پولیس اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی مشترکہ کارروائیاں مختلف ریاستوں میں مسلسل جاری ہیں جبکہ تعلیمی حلقوں میں اس معاملے نے امتحانی نظام کی شفافیت اور سلامتی پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔