Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تبدیلی مذہب مخالف قانون آئین کے برخلاف ہے ‘‘

Updated: August 04, 2026, 7:55 AM IST | Mumbai

ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے مہاراشٹر حکومت کے نافذ کردہ نئے قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا

Prakash Ambedkar has called this law a violation of Articles 25 and 26 of the Constitution.
پرکاش امبیڈکر نے اس قانون کو آئین کی دفعہ ۲۵؍ اور ۲۶؍ کی خلاف ورزی کہا ہے

مہاراشٹر حکومت نے گزشتہ بجٹ سیشن میں تبدیلی مذہب کے خلاف ایک قانون منظور کیا تھا جسے صدر جمہوریہ کے پاس منظوری کیلئے بھیجا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی اس قانون پر مہر لگا دی ہے۔ اطلاع کے مطابق ۳۰؍ جولائی ۲۰۲۶ء سے یہ قانون مہاراشٹر بھر میں نافذ ہو گیا ہے جس کی رو سے اب جبراً لالچ دے کر کسی کا مذہب تبدیل کروانا جرم ہوگا۔ ہرچند کہ حکومت مہاراشٹر نے اسے ’ آزادیٔ مذہب قانون‘ کا نام دیا ہے لیکن حقیقت میں یہ تبدیلیٔ مذہب کے خلاف بنایا گیا قانون ہے اور تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس قانون کا اطلاق ایک مخصوص طبقے کے خلاف کیا جائے گا۔ اس دوران ونچت بہوجن اگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون   کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ 
  یاد رہے کہ ملک بھر میں عام طور پر کسی غیر مسلم لڑکی کے مسلم لڑکی کی شادی کو ’لوجہاد‘ کا نام دیدیا جاتا ہے۔ یاکسی غیر مسلم کے اسلام قبول کر لینے پر’ جبراً تبدیلیٔ مذہب ‘ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اب تک یہ سب کچھ ہندوتوا وادی تنظیموں کے دبائو میں غیر قانونی طریقے سے کیا جا رہا تھا لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت کے اس نئے قانون سے اس زور زبردستی کو قانونی شکل مل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مارچ میں جب یہ بل مہاراشٹر اسمبلی میں منظور ہوا تھا تو اس پر کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے اعتراض ظاہر کیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کا کہنا تھا کہ یہ قانون تبدیلیٔ مذہب کے اختیار کو چھیننے کیلئے نہیں لایا جا رہا ہے بلکہ زبردستی کسی کے مذہب کو تبدیل کروانے سے روکنے کیلئے لایا جا رہا ہے۔ اب اس قانون کے خلاف ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ 
 پرکاش امبیڈکر نے پیر کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ حکومت نے جو ’آزادی ٔ مذہب قانون نافذ کیا ہے وہ دراصل عوام کے بنیادی حقوق کو غصب کرنے والا قانون ہے۔ کون کس مذہب کی پیروی کرے گا ، اس کا فیصلہ حکومت نہیں کر سکتی۔ ‘‘انہوں نے کہا ’’ کون کس خدا کومانتا ہے یا کس سنت سے عقیدت رکھتا ہے اس کیلئے حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ آئین ہند کی دفعہ ۲۵؍ اور ۲۶؍ ہر شہری کو مذہب کی آزادی فراہم کرتی ہیں۔ مذہب کبھی حکومت کے زیر اثر نہیں رہ سکتا۔ ‘‘ پیشے سے ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کا کہنا تھا ’’ اس قانون کے ذریعے پرانے مذہبی تنازعات کو دوبارہ زندہ کرنے کر خدشہ ہے اس لئے ونچت بہوجن اگھاڑی اس قانون کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔ ‘‘ 
 یاد رہے کہ اس نئے قانون کی رو سے اگر کسی نے کسی اور شخص کا جبراً یا لالچ کی بنا پر مذہب تبدیل کروایا تو اسے ۷؍ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ جرم دہرانے پر ۱۰؍ سال کی سزا ہوگی۔ اس میں اس شخص کا شکایت کرنا ضروری نہیں ہے جس نے مذہب تبدیل کیا ہے بلکہ دیگر کوئی شخص بھی شکایت کرکے کسی کے خلاف اس قانون کا استعمال کر سکتا ہے۔ اسی شق سے قانون کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK