حرمین شریفین میں نماز کیلئے سماجی فاصلے کی پابندی ڈیڑھ سال بعدختم

Updated: October 18, 2021, 1:39 PM IST | Agency | Saudi Arabia

مکمل گنجائش کے ساتھ نماز کی اجازت ،سماجی فاصلہ قائم رکھنے کیلئے لگائے گئے اسٹیکرز اوربیریکیڈہٹا لئے گئے، خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگائے گئے بیریئرز بھی ہٹادیےگئے

Two people are removing stickers for social distance..Picture:INN
دو افراد سوشل ڈسٹینسنگ کیلئے لگائے گئے اسٹیکرز نکال رہے ہیں۔۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب میں عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں اس حوالے سے عائد تمام پابندیاں اور رکاوٹیں ختم کرنے کے بعد سماجی فاصلے کے بغیر نمازِ فجر ادا کی گئی۔گزشتہ روز سعودی عرب نے کورونا وائرس کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والے افراد کو ۱۷؍ اکتوبرسے مسجدالحرام اور مسجد نبوی میں داخلے کی اجازت دینے اور حرمین شریفین کو بغیر کسی پابندی کے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔جس کے بعد گزشتہ شب سعودی عرب میں حرمین شریفین کی انتظامیہ نے خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگائے گئے بیریئرز بھی ہٹادیے۔
 اس سے قبل سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ احتیاطی تدابیر میں نرمی لاتے ہوئے اور مکمل گنجائش کے ساتھ حرمین شریفین کھولنے کے حالیہ اعلان کے تناظر میں مسجد الحرام کی اندرونی و بیرونی راہداریوں سمیت مختلف مقامات سے سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے نصب کی گئی علامتیں ہٹادی گئیں۔ علاوہ ازیں حرمین شریفین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس پرمسجد الحرام میں خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگے بیریئر ہٹائے جانے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔
 ان ویڈیوز میں ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ تک موجودرہنے والے بیریئرز ہٹانے کے بعد زائرین کو خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے انتہائی قریب سے طواف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔  سعودی عرب میں کورونا سے متعلق پابندیوں کو ڈیڑھ برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد آج (۱۷؍اکتوبر کی) صبح مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ میں سماجی فاصلے کے بغیر نماز ادا کی گئی۔حرمین شریفین کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تصاویر و ویڈیوز میں کہا گیا کہ’’کورونا وائرس کے باعث احتیاطی تدابیر کے ڈیڑھ برس کے بعد مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے اماموں نے نمازیوں کو صفیں سیدھی کرنے اور فاصلہ ختم کرنے کی ہدایت دی۔‘‘ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ فجر کی نماز کے دوران سماجی فاصلے کے بغیر نماز ادا کی گئی، اس حوالے سے پابندیاں ختم کردی گئیں اور مسجد الحرام کو مکمل گنجائش کے ساتھ کھول دیا گیا ہے۔
 العربیہ کی رپورٹ کے مطابق پابندیوں میں نرمی کے بعد مسجد الحرام میں کارکنان اور زائرین کی مکمل حاضری کی اجازت دی گئی ہے لیکن تمام افراد کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
 علاوہ ازیں اعتمرنا یا توكلنا موبائل ایپ کے ذریعے عمرے اور نماز کے لیے وقت کے تعین کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔یاد رہے کہ مارچ ۲۰۲۰ء میں سعودی عرب نے ابتدائی طور پر مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ میں نمازِ عشا کے ایک گھنٹے بعد سے نمازِ فجر سے ایک گھنٹہ قبل تک روزانہ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔بعد ازاں۲۱؍مارچ کو سعودی عرب کے حکام نے کورونا وائرس کے باعث جمعہ اور پانچوں وقت کی نماز میں مسجدوں میں تعداد کم کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے مسجد نبویؐ سمیت دیگر مساجد کے دروازے عام نمازیوں کے لیے بند کر دیے تھے۔ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ’’۴۰؍ سال میں پہلی مرتبہ عمرے کو روک دیا گیا، سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں تمام مساجد نماز کے لیے مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ سعودی حکومت نے۲۰۲۰ءمیں مسجدالحرام اور مسجد نبوی میں رمضان المبارک کا اعتکاف معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔حکومت نے۳۰؍  مئی ۲۰۲۰ءکو مسجد نبویؐ کو عوام کے لیے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن تعداد محدود رکھی گئی تھی۔علاوہ ازیں کورونا وائرس کے حج ۲۰۲۰ء اور ۲۰۲۱ءبھی عازمین کی محدود تعداد اور کورونا پابندیوں کے ساتھ ادا کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK