کاروباری طبقہ پابندیوں میں سختی سے متفق لیکن مکمل لاک ڈاؤن کےخلاف

Updated: April 04, 2021, 1:28 PM IST | Mumbai

تجارتی تنظیموںکاکہنا ہےکہ یہ صحیح ہے کہ’ جان ہے تو جہان ہے اور ملازمت دوبارہ مل جائے گی جان نہیں‘ ، لیکن لاک ڈاؤن لگانے سے بھی تو لوگ بے روزگاری اور بھکمری سے مر جائیں گے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

عروس البلاد میںدوبارہ لاک ڈاؤن کے نفاذ  کے تعلق سے خبروں اور قیاس آرائیوںاورحکومت کی تنبیہات کے درمیان کاروباری طبقہ تشویش میں مبتلا ہے  اورکورونا پر قابو پانے کیلئے وہ سخت پابندیوںسے تو متفق ہے لیکن لاک ڈاؤن کے حق میںنہیں ہے۔ تجارتی اور کاروباری تنظیموں نے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کی ہے اوراندیشہ ظاہر کیا ہےکہ اس صورت میںکاروبارپوری طرح  ٹھپ پڑسکتا ہے اورزبردست مندی آسکتی ہے۔
 وزیر اعظم جو بڑی بری انتخابی ریلیاں کر رہے ہیں کیاان  ریلیوں سے کورونا نہیں پھیل رہاہے؟
 فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرس ویلفیئر اسو سی ایشن  کے صدر ویرین شاہ  سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے  انقلاب کو بتایاکہ’’اگر کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو ان کے علاج کا نظم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کورونا سے تحفظ کیلئے احتیاط کی اپیل کرتے ہیں لیکن مغربی بنگال میں پر ہجوم ریلیاں کر رہے ہیں تو کیا اس سے کورونا نہیں پھیل رہا ہے۔ کورونا کی وبا روکنے کی شروعات تو وہاں سے ہونی چاہئے تھی۔دکانوں پر تو چند ہی افراد آتے ہیں لیکن ان کی ریلیوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اور وہاں کورونا سے تحفظ کے کسی اصولوںپر عمل نہیں کیا جاتا ۔‘‘
  انہوں نے مزید کہا کہ’’ یہ صحیح ہے کہ جان ہے تو جہان ہے اور ملازمت دوبارہ مل  جائے گی لیکن جان نہیں ، لیکن لاک ڈاؤن لگانے سے بھی تو لوگ بے روزگاری اور بھکمری سے مر جائیں گے ۔ اگر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور دکانیں بند کی گئیں تو ان میں کام کرنے والے ملازمین بے روزگار ہوسکتے ہیں، دکانیں بند ہوںگی، دکاندار بجلی کا بل اور دیگر ٹیکس کیسے ادا کر سکیں گے۔ لاک ڈاؤن سے معاشی حالات بھی بگڑ جائیں گے اور ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے کوئی راحت بھی نہیں دی جاتی ۔ اس لئے ہماری رائے تو یہی ہے کہ لاک ڈاؤن نہ کیا جائے  البتہ جہاں تک دکانوں میں احتیاط برتنے کا سوال ہے تو وہ ہم کر ہی رہے  ہیں۔ 
’’بیوپاری اب نا امید اور پریشان ہوچکے ہیں‘‘
  فیڈریشن آف ممبئی کلاتھ ڈیلرس اسوسی ایشن کے سیکریٹری ہیرن مہتا کے مطابق ’’ کاروباری مندی سے بیوپاری اب نااُمید اور پریشان ہوچکےہیں ۔ہم نے اس سے قبل ۴؍مہینے کے لاک ڈائون میں حکومت کا سا تھ دیاتھا لیکن حکومت کی جانب سے کسی طرح کا تعاون نہ ملنے سے بیوپاری مایوس ہوگئے ہیں۔ اس لئے وہ اب لاک ڈائون نافذ کئے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کوروناوائرس پر قابوپانےکیلئے احتیاطی تدابیر بڑھا دی جائیں مگر لاک ڈائون نافذ نہ کیاجائے کیونکہ لاک ڈائون مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ اب تو ہمیں اس بیمار ی کےساتھ جینے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ تب ہی اس پر قابو پایاجاسکے گا۔‘‘
  ایک سوال کے جواب میں انہوںنےکہاکہ ’’ فی الحال حکومت نے ۸؍تا ۷؍بجے کا جو کرفیو نافذکیاہے اس کے اوقات تبدیلی کرنا ضروری  ہے ۔ ۸؍بجے رات دکان بند کرنے سے دکانداروںکا بڑا نقصان ہو رہا ہے ۔کم ازکم ۹؍بجے رات تک دکان کھلی رکھنے کی اجازت دی جائےتاکہ دکاندار کچھ تو بیوپار کرسکیں۔ حکومت کوچاہئے کہ وہ دکانداروںکی پریشانی کوسمجھے ورنہ دکاندار سڑک پر اُتر سکتےہیں ۔‘‘ 
’سختی بڑھائی جائے لیکن ہم سب لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں‘
 ریاست میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن کی بازگشت کے سلسلے میں فروٹ مرچنٹ اسوسی ایشن کے صدر نسیم صدیقی نے کہا کہ ’’مہاراشٹر میںکورونا کے کیس بڑھ رہے ہیں،یہ حقیقت ہے، لیکن ہم سب لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں ۔اگرایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن لگے گا تومعاشی ابتری کااندیشہ ہے۔ہم سب یہ بھی کہتے ہیں کہ سختی برتی جائے اورکورونا کے سبب جو ضابطے مقررکئے گئے ہیں انہیں مزید سخت کیاجائے ،ہم اس کے حق میںہیں لیکن لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں ۔ ایسا بھی لگتاہے کہ مہاراشٹر کوکورونا کےنام پربدنام کیا جارہا ہے ۔آخر مغربی بنگال اور آسام میںجہاں انتخابات ہیں،وہاںکورونا کیوں نہیںہے ،وہاںسے کورونا کہاں غائب ہوگیا ہے ،اس لئے سازش کی بھی بو آرہی ہے۔اس کے علاوہ مہاراشٹر میںلاک ڈاؤن لگانے کے کانگریس اوراین سی پی بھی خلاف ہے ۔‘‘
’لاک ڈاؤن حل نہیں‘
 اے پی   ایم سی انٹر نیشنل مارکیٹ نوی ممبئی مرچنٹ کے صدر کیرتی رانا نے کہا کہ ممبئی میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کو دیکھتے ہوئے حکومت جو اقدامات کررہی ہے، وہ بالکل صحیح ہے اور اگر اس بارے میں سختی نہیں کی گئی تو آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کورونا کی وبا بہت بڑے پیمانے پر پھیل جائے گی اور اس سے بہت بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوسکتا ہے ۔ 
 ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سابقہ لاک ڈاؤن کی طرح اس بار لاک ڈاؤن کرنا صحیح معنوں میں حل نہیں  ہوگا لیکن حکومت کی جانب سے دی جانے والی گائیڈ لائن پر عمل کرنا ہر شہری کا فرض ہے ۔ لاک ڈاؤن سے معاشی حالات مزید خراب ہوں گے ۔ اس لئے ہم تمام شہریوں کو چاہئے کہ کورونا سے بچنے کیلئے جو احتیا طی اقدامات بتائےگئے ہیں ، ان پر عمل کریں ۔ انھوں نے کہا کہ مارکیٹ ،علاقے کی دکانیں اور دیگر محکموں کے دفاتر وغیرہ کھلنے چاہئیں لیکن اس کا ایک شیڈول ہو تاکہ اس شیڈول کے ذریعہ اس پر عمل کیا جائے ۔جن آفس کا کام ورک فرام ہوم سے ہوسکتا ہے، اس کو اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
 کیرتی رانا کا کہنا ہے کہ گزشتہ ۲۰۲۰ء میں بھی ہونے والے لاک ڈاؤن میں اے پی ایم سی مارکیٹ کے ذریعہ گاہکوں کے گھر اور دکانوں تک کھانے پینے کی چیزیںفون پر آرڈر ملنے کے بعد پہنچادی جاتی تھیں۔  اس بار بھی اگر ضرورت پڑے گی تو ہم مارکیٹ کے ملازمین اور گاڑیوں کے مالکین کو لاک ڈاؤن پاس وغیرہ  کے ذریعہ اپنی پوری پوری خدمات انجام دیں گے ۔ عوام کو بھی چاہئے کہ بہت ہی خاص ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے نکلیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK