• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکزی حکومت کا مالیاتی خسارہ ۱۰ء۷؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا

Updated: September 30, 2026, 9:01 PM IST | New York

مالیاتی خسارہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کی مجموعی آمدنی کے مقابلے میں اس کے اخراجات زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس فرق کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو قرض یا دیگر مالی وسائل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

Narendra Modi.Photo:INN
نریندر مودی۔ تصویر:آئی این این

مرکزی حکومت کا مالیاتی خسارہ رواں مالی سال کے ابتدائی چند ماہ میں بڑھ کر تقریباً  ۱۰ء۷؍ لاکھ کروڑ روپے  تک پہنچ گیا ہے۔ مالیاتی خسارہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کی مجموعی آمدنی کے مقابلے میں اس کے اخراجات زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس فرق کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو قرض یا دیگر مالی وسائل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حکومت کے مالیاتی اعداد و شمار میں مالیاتی خسارہ ملک کی مجموعی مالی صورت حال کا ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں حکومت کی آمدنی، ٹیکس وصولی، غیر ٹیکس آمدنی اور مختلف شعبوں پر ہونے والے اخراجات کی عکاسی ہوتی ہے۔ خسارے میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق کو پورا کرنے کے لیے مزید مالی وسائل درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کرن جوہر نے ’’کافی ود کرن‘‘ کے فائنل سیزن کا اعلان کردیا

رواں مالی سال کے دوران حکومت کی مالی کارکردگی پر ٹیکس وصولی، سرکاری اخراجات، سرمایہ جاتی اخراجات اور مختلف فلاحی و ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے خرچ کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، ریلوے، دفاع، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں اخراجات کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ٹیکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی سرکاری خزانے کے لیے اہم وسائل فراہم کرتی ہے۔
مالیاتی خسارے کی نگرانی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا تعلق حکومت کی قرض لینے کی ضرورت اور مجموعی مالی نظم و ضبط سے ہوتا ہے۔ اگر حکومت کی آمدنی کے مقابلے میں اخراجات زیادہ رہتے ہیں تو خسارہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ آمدنی میں بہتری یا اخراجات پر قابو پانے سے خسارے کو محدود کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مالیاتی خسارے کے اعداد و شمار کو سمجھنے کے لیے صرف ایک ماہ یا چند ماہ کے اعداد و شمار کافی نہیں ہوتے بلکہ پورے مالی سال کے دوران آمدنی اور اخراجات کے رجحان کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ حکومت عام طور پر مالی سال کے آغاز میں سالانہ مالیاتی خسارے کا ہدف مقرر کرتی ہے اور سال کے دوران ہونے والی آمدنی و اخراجات کی بنیاد پر اس ہدف کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سیمی فائنل بارش سے متاثر ہوسکتا ہے

مرکزی حکومت کے لیے مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا اس لیے اہم ہے کہ اس سے ملک کی مالی پائیداری، قرض کی ضرورت اور مستقبل کے سرکاری اخراجات کی گنجائش متاثر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب رکھے جائیں۔
۱۰ء۷؍ لاکھ کروڑ روپے کا مالیاتی خسارہ اس اعتبار سے اہم اعداد و شمار ہے کہ یہ رواں مالی سال کے دوران مرکزی حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان موجود فرق کی تصویر پیش کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں ٹیکس وصولی، سرکاری اخراجات اور دیگر آمدنی کے اعداد و شمار یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ مالیاتی خسارہ حکومت کے مقررہ سالانہ ہدف کے مطابق رہتا ہے یا اس میں مزید تبدیلی آتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK