• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بالی ووڈ اسٹارسنجے دت نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ کے سامنے مراٹھی کیوں نہیں بولی؟

Updated: September 30, 2026, 9:43 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

سنجو بابا کو اندازہ ہوگا کہ آٹو ڈرائیوروں کو زبان کی سیاست کی وجہ سے کن مسائل کا سامنا ہے، اسلئے جب ان سے مراٹھی میں بولنے کی گزارش کی گئی تو انہوں نے موضوع بھانپ لیا اور مراٹھی نہ بول کر انہوں زبان کی سیاست کوبہت حد تک کافور کر دیا۔

If no one was bothered by Sanjay Dutt’s inability to speak Marathi, why is there an issue with drivers not speaking it? Photo: INN
سنجے دت کے مراٹھی نہ بول پانے سے جب کسی کو تکلیف نہیں ہوئی تو ڈرائیوروں کے نہ بول پانے سے کیوں تکلیف ہوتی ہے؟ تصویر: آئی این این

سیاست جو کردے یا کروالے ، کم ہےاوراس کے نتائج بھی کیا سامنےآجائیں ،کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ریاست میں مراٹھی زبان پر جاری سیاست اور غیرمراٹھی محنت کش آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کویہ زبانسیکھنے پرمجبور کرنابلکہ اس کیلئےباقاعدہ کلاسیس شروع کرنا اورٹیسٹ میں پاس ہونے پر سرٹیفکیٹ جاری کرنابھی ایک ایسی لسانی سیاست کا حصہ ہے جو وقتی ہونے کے ساتھ ساتھ بے مطلب بھی ہے۔ اس سے صرف سرخیاں بنتی ہیں ،سوشل میڈیا پرپوسٹس وائرل ہوتی ہیں ، کچھ افرا تفری ہوتی ہے اورآخر میں یہ موضوع پھر کسی وقت کیلئے خاموش ہوجاتا ہے ۔ لیکن ، اس دوران جوکچھ ز یادتی ہوتی ہے وہ غریب اور غیر مراٹھی ڈرائیوروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ایسے کسی موضوع کے سراُبھارنے کے نتیجے میں رکشہ ٹیکسی ڈرائیور نہ صرف شدید دباؤ میں آجاتے ہیں بلکہ ان کیلئے خوف و ہراس کا ایک ماحول بھی بن جاتا ہے اور مسافروں کو ان سےمعاملہ کرنے میں ایک قسم کی بالادستی حاصل ہوجاتی ہے۔ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک سختی سے حکم جاری کرچکے ہیں کہ ممبئی میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی بولنا لازمی ہے،مراٹھی بولنے سےانکار کرنے والے ڈرائیوروں کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گااوران کا پرمٹ بھی منسوخ کردیاجائے گا۔ یہی پرتاپ سرنائیک گزشتہ دنوں دہی ہنڈی کے موقع پرتھانے میں ایک تقریب کے دوران بالی ووڈ اسٹار سنجے دت کے ساتھ تھے ۔سنجے دت ان سے گفتگو کررہے تھےکہ ان سے مراٹھی میں بولنے کیلئے کہا گیا ،اس پرانہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے۶؍ سال یروڈہ جیل میں گزارے لیکن مراٹھی نہیں سیکھ سکے ، اس پر پرتاپ سرنائیک صرف مسکرا کر رہ گئےاور کوئی جواب نہیں دیا ۔

یہ بھی پڑھئے: منوسمرتی کی پول کھلنے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں

اس موقع پر سنجے دت سے مراٹھی میں بات کرنے کی جو ہدایت نما گزارش کی گئی ،اس کا مقصداس پورے واقعے کو رکشہ ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی لازمی کرنے کی طرف موڑنا تھا ،لیکن سنجے دت نے اپنے برجستہ جواب سے اسے کچھ اور ہی رنگ دے دیا اور زبان کی اس سیاست کوغیر سنجیدہ بنا کر رکھ دیا ۔سنجے دت نے شعوری یا لا شعوری طورپرریاست کے لاکھوں ڈرائیوروں کیلئےماحول سازگار کرنے کی کوشش کی جو اس لسانی سیاست کی زدمیں آرہے تھےیا آسکتے تھے۔انہوں نے جو کہا اس کا گہرائی سے تجزیہ کیاجائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یونہی نہیں کہا۔ سنجے دت ممبئی میں پیداہوئے ہیں ،یہیں پلےبڑھے ہیں ،شہر کی تہذیب وثقافت سے نہ صرف بخوبی واقف ہیں بلکہ ا س سے ان کی گہری وابستگی ہے اور اسی وابستگی کے سبب انہیں تھانےمیں منعقدہ دہی ہنڈی کی تقریب میں مدعو کیا گیا۔ اس کے علاوہ عام بو ل چال میں ان کا خاص لہجہ ہے جو ان کے فلمی مکالموں اورعام بات چیت میں بھی نظر آتا ہےجس سے خود ان کے مراٹھی مداح بھی بخوبی واقف ہیں ۔ان کا یہ کہنا کہ ۶؍ سال میں وہ مراٹھی نہیں سیکھ سکے، بہت معنی رکھتا ہے ۔ حالانکہ اس معاملے پر انہوں نے گزشتہ روز پرتاپ سرنائیک سےمعافی بھی مانگی اوربتایاکہ وہ اچھی مراٹھی بول سکتے ہیں مگر مجمع کے سامنے وہ تھوڑا نروس ہوگئے تھے۔

سنجے دت وہ بالی ووڈ اسٹارہیں جو۹۰ء کی دہائی میں عوام اوربالخصوص رکشہ اورٹیکسی ڈرائیوروں میں حد سے زیادہ مقبول ہوئےاور اب بھی ہیں ۔ ان کی جوانی کے دورمیں بلاتکلف انہیں ’سنجوبابا ‘کا نام دیا گیا۔ ڈرائیوروں نے اپنی گاڑیوں کے پیچھےسنجوبابا کی’ کھلنائک‘ والی تصویریں چسپاں کیں اور اس بات کا اظہار کیاکہ وہ انہیں کتنا چاہتےہیں ۔ سنجو بابا کو یقیناً اندازہ ہوگا کہ اس محنت کش طبقے کومراٹھی زبان کی سیاست کی وجہ سے کن مسائل سے گزرنا پڑرہا ہے اوراگر نہیں ہوگا تو اسٹیج پر جب ان سےمراٹھی بولنے کی گزارش کی گئی تب تو انہوں نےیقیناً موضوع بھانپ لیاہوگا۔ وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہوسکتا ہےکہ یہ انہیں گھیرنے کی کوشش ہویا غریب ڈرائیوروں کوکوئی پیغام دینے کی کوشش ہو لیکن اپنے جواب سےانہوں نے ریاستی وزیر کو نہ صرف خاموش کیابلکہ بغلیں جھانکنے پر مجبور کیا۔ وہ وزیر جنہوں نے غریب ڈرائیوروں کومراٹھی نہ بولنے پرکارروائی کی دھمکی دی ، وہ بالی ووڈ اسٹارکے سامنے مسکرا کررہ گئے ۔اس وقت کسی کو بھی سنجے دت کے مراٹھی نہ بول پانے سے تکلیف نہیں ہوئی ۔سوشل میڈیا پرسنجے دت کو کچھ ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا لیکن یہ اتنا شدید نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے: Pinterest Mood Board قائم کر رہا ہے آج کا بزنس ماڈل

سوال یہ ہے کہ جب اس وقت کسی کو سنجے دت کے مراٹھی نہ بول پانے سے تکلیف نہیں ہوئی تو ان ڈ رائیوروں کے نہ بول پانے سےکیوں تکلیف ہوتی ہے۔سنجےدت کے خلاف ریاستی وزیر کوئی کارروائی نہیں کر سکتے، نہ انہیں مراٹھی سیکھنے کی مہینے دومہینےکی مہلت دےسکتے ہیں ، نہ انہیں کوئی سرٹیفکیٹ جاری کرسکتے ہیں ۔ یہ سب صرف غریب آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے ہے۔ 

ایک حقیقت یہ بھی ہےکہ زیادہ تر بالی ووڈ اسٹارمراٹھی نہیں بول پاتے مگربالی ووڈ ممبئی سے وابستہ ہے اور رہےگا بلکہ مراٹھی کی علاحدہ فلم انڈسٹری ہےاورقابل ذکر ہےکہ دونوں انڈسٹری کے اداکاراور فنکارایک دوسرےکا احترام کرتے ہیں ۔دونوں طر ف کے فنکاروں کوجب کسی کی تقریب میں مدعو کیاجاتا ہےتووہ پوری خوش دلی کےساتھ دعوت قبول کرتے ہیں ۔مثال کے طورپرجاوید ا ختر کوکسی مراٹھی پروگرام میں منعقد کیاجاتا ہے تو وہ خالص اردو میں بات کرتے ہیں کیونکہ وہ مراٹھی نہیں بول سکتےاور اس مخصوص پروگرام میں ا ن کے ا ردو بولنے پر کسی کو اعتراضـ نہیں ہوتا کیونکہ شرکاء میں سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد ہوتے ہیں ۔مثال کے طورپرسچن پلگاؤنکر کوجب کسی غیرمراٹھی پروگرام میں مدعو کیاجاتا ہے تو وہ ہندی اور اردوبولتےہیں مگرسامعین جانتے ہیں کہ ان کا تعلق مراٹھی زبان وتہذیب سے ہے ۔ممبئی نےہر ریاست کے باشندوں کو سرزمین پرجگہ دی ہے۔بات اگر کسی زبان کے سیکھنے سکھانے کی حد تک ہے تو کوئی مسئلہ نہیں مگرجب اسے نقصاندہ سیاست کی حد تک طول دیاجائے تو حالات یقیناً بگڑیں گےاورسوائے افراتفری کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: نوجوانوں میں رفتار، مہنگی اسپورٹس بائیک اور اس پر نمائش کا بڑھتا ہوا خبط

زبان کا تسلط اور سیاسی جبر کیوں ؟

زبان جبر سے نہیں سیکھی جاتی، خوشگوار اور سازگارماحول میں سیکھی جاتی ہے۔زبانوں کاسیکھنا انفرادی صلاحیتوں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔جس طرح سنجے دت ،بقول ان کے ،۶؍ سال میں بھی مراٹھی سیکھ نہیں سکےتو وہ آٹواور ٹیکسی ڈرائیور دومہینے میں کس طرح اور کتنی مراٹھی سیکھ سکتے ہیں ۔ان پر سیاسی جبرکس کی تسکین کا باعث بنے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK