• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شعبدہ بازی کی سرکار: جو ترقی کاغذوں  پر ہے وہ زمین پر دکھائی کیوں نہیں دیتی؟

Updated: September 30, 2026, 9:00 PM IST | Asim Jalal | Mumbai

کیوں ملازمتیں نہیں بڑھ رہیں؟ کیوں بیروزگاری ۴۰؍ سال کی سب سے اونچی سطح پر ہے؟ کیوں ۸ء۷؍ کروڑ نوجوان کچھ نہیں کررہے ہیں؟ کیوں سونا نہ خریدنےا ور بیرونِ ملک سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا جارہاہے؟ کیوں غیر ملکی سرمایہ کار ۷ء۸؍ کی شرح نمو کے باوجود راغب نہیں ہورہے؟

Over the past 12 years, the question has repeatedly arisen as to the extent of the government`s transparency regarding statistics. Image: INN
گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں یہ سوال بار بار اٹھا ہے کہ حکومت نے اعدادوشمار کے ساتھ کس حد تک شفاف رویہ اختیار کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

مالی سال ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعدادوشما رنے ملک میں بحث چھیڑ دی ہے کہ ملک کاغذوں پر ہی ترقی کررہاہے یا یہ ترقی زمینی سطح پر بھی ترقی ہورہی ہے۔ ایک طرف جہاں مودی سرکار بغلیں بجارہی ہے کہ ایران جنگ  اور نامساعد حالات کے باوجود ملک کی معیشت  میں   ۷ء۸؍ فیصد کی شرح نمو  سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی  ۷؍  فیصد سے زیادہ کی امید نہیں تھی،  وہیں عوام کا ایک بڑا طبقہ جو معیشت کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھ پاتا زمینی حالات اور ترقی کے اعدادوشمار کو دیکھ کر حیران ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت ایک عظیم انقلاب ہے، اس کو روکنا نہ ممکن ہے، نہ ہی ضروری

وہ   حیران ہے کہ ملک اگر اتنی تیزی سےترقی کررہاہے تو پھر اس کے اثرات  اس کی اپنی  زندگی میںکیوں نظر نہیں  آرہے، کیوں   ملازمتیں نہیں بڑھ رہیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد گگ ورکر کے طور پر ڈیلیوری بوائے  کا کام کرنے پر مجبور ہے۔ کیوں جو لوگ  پرائیویٹ سیکٹر میں برسر روزگار ہیں ان کی تنخواہیں   اس شرح سے نہیں بڑھ رہی ہیں جس شرح  سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے  یا جس شرح سے جی ڈی پی بڑھ رہی ہے۔  کیوں  جی ڈی پی   کے محاذ پر اس شاندار شرح  نمو کے باوجود  ملک میں  بیروزگاری ۴۰؍ سال کی سب سے اونچی سطح پر ہے۔ کیوں ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کے  ۸ء۷؍کروڑ  نوجوان نہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، نہ کہیں بر سروزگار ہیں اور نہ ہی مستقبل میں خود کو  روزگار کے قابل بنانے کیلئے کوئی مہارت حاصل کررہے ہیں۔   ان کیلئے یہ بھی کم  حیران کن  نہیں کہ وزیراعظم مودی جو آج کل ’جین زی‘ سے جڑنے  پر بہت زیادہ توجہ  دے رہےہیں، جس ویڈیو یعنی انسٹا گرام ریل میں  ۷ء۸؍فیصدشرح نمو پر ملک بھر میں جوش وخروش  اور خوشی کا ماحول ہونے کی بات کررہے ہیں،اسی  ’ریٖل‘ میں  وہ ہم وطنوں کو سونا نہ خریدنے ، بیرون ِ ملک سیاحت سے گریز کرنے اور ملک کے باہر ’’ڈیسٹی نیشن ویڈنگ‘‘ کو ٹالنے  کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ جو لوگ معیشت کی تھوڑی بہت شد بد رکھتے ہیں وہ بھی حیران ہیں کہ یہ کیا بات ہے کہ ہے کہ ملک کی معیشت سرکاری اعدادوشمار کے مطابق  ایران  جنگ اور اس  سے پیدا ہونےوالے حالات کے بیچ  ۷ء۸؍ کی غیر معمولی شرح نمو سے ترقی تو کررہی ہے مگر اس شرح ترقی کی وجہ سے جس طرح غیر ملکی سرمایہ کاروں کو  ملک کی طرف  راغب ہونا چاہئے ویسے نہیں ہورہے ہیں، بلکہ  جو پہلے سے ہیں  وہ بھی اپنا سرمایہ نکالنے پر توجہ دے رہے ہیں۔   ایسا کیوں  ہوا کہ جس دن جی ڈی پی کے اعدادوشمار جاری ہوئے اس دن شیئر بازار میں کوئی اچھال نظر نہیں آئی اور وہ کم وبیش ۳۰۰؍ پوائنٹس کے آس پاس کی گراوٹ کے ساتھ بند ہو ورنہ شیئر بازار کا عام  رجحان یہ ہوتا ہے کہ چھوٹی ،چھوٹی مثبت خبروں سے  اس میں جوش وخروش اور امید پیدا ہوجاتیہے اور سینسیکس میں اچھال دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب توجنگل راج کی اصطلاح بھی بے حقیقت ہو گئی ہے

ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مودی سرکار کے اعدادوشمار پر سوال اٹھے ہیں۔مودی سرکار کے اعدادوشمار اکثر سوالات کے گھیرے میں رہتے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں ، اپریل ۲۰۲۴ء   میں عالمی جریدہ’’ٹائم میگزین‘‘ نے ’’مودی سرکار میں ہندوستانی معیشت کی کارکردگی کی رہی‘‘ کے عنوان سے شائع ایک مضمون میں   اس سوال کا جائزہ لیا کہ نریندر مودی حکومت کے دور میں ہندوستانی معیشت کی اصل کارکردگی کیا رہی ہے۔ مضمون کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ  سرکاری طور پر پیش کی جانے والی تیز رفتار معاشی ترقی اور زمینی معاشی صورتِ حال میں نمایاں فرق ہے۔  اسی مضمون  سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ’’گلابی موسم ‘‘ کی تشہیر کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ملک میں فی کس آمدنی میں گزشتہ دہائی کا اضافہ بھی منموہن سنگھ کے دور کی سابقہ دہائی کے مقابلے میں تقریباً نصف رفتار سے ہوا۔ٹائم میگزین نے   اُس وقت کی ۸؍ فیصد کے قریب  کی شرح نمو کو حیران کن قرار دیا اور مودی حکومت کے  ہی سابق چیف اکنامک ایڈوائزر  اروند سبرامنیم سمیت کئی  ماہرین  کے حوالے سے جی ڈی پی کی پیمائش کے طریقۂ کار پر اعتراضات کئے۔  یہ امر توجہ طلب ہے کہ ترقی  کے بلند بانگ دعوؤں  کے باوجود ملک قرض کے بوجھ تلے دبتا چلا  جارہاہے، ہندوستان کا شیئر بازار اس وقت ایشیا میں سرمایہ کاروں کا سب سے کم پسندیدہ شیئر بازار  بن گیا ہے ۔  ہندوستانی  روپیہ ۲۰۲۶ء میں اب تک ایشیا کی سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنےوالی کرنسی بن گیا ہے۔

  ملک میں فی کس آمدنی اور بیروزگاری کی شرح  کے حوالے سے  موجودہ حکومت کے اعدادوشمار پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیں۔زمینی حقیقت یہ ہے کہ خود مودی سرکار کے پیش کردہ اعدادوشمار کی بنیاد  پر بھی موازنہ کریں تو  ہندوستان  کی فی کس آمدنی اب بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کم ہوچکی  ہے۔  شرح نمو ۷ء۸؍ فیصد ہونے کی رپورٹ کے ساتھ آنے والی  یہ رپورٹ منہ چڑانے کیلئے کم نہیں ہےکہ  ملک میں  مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی رفتار اگست۲۰۲۶ء میں ۵؍سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس میں اس بات کا اعتراف بھی موجود ہے کہ ملک میں مانگ میں کمی کی وجہ سے اور پیداوار میں کمی آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  ڈھائی سال سے زائد عرصے میں پہلی بار مینوفیکچرنگ شعبے میں روزگار بھی کم ہوا  ہے۔  یہ اس لئے اہم ہے کہ ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے نعرہ کے ساتھ حکومت نے مینو فیکچرنگ کے شعبہ کی شرح نمو ۲۰۲۲ء تک جی ڈی پی کی   ۲۵؍فیصد تک  پہنچا نے کا ہدف طے کیاتھا مگر یہ ۱۳-۱۴؍ فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

یہ بھی پڑھئے: گھر کچا تھا، دیواریں مٹی کی تھیں، چھت کمزور تھی، مگر یہی لوگوں کی دنیا ہوتی تھی

مختصراً یہ کہ گزشتہ ۱۲؍ سال میں بار بار یہ سوال اٹھا ہے کہ حکومت نے اعدادوشمار کے ساتھ کس حد تک شفاف رویہ اختیار کیا ہے۔ یہ سوال صرف موجودہ جی ڈی پی کی شرح نمو تک محدود نہیں۔ایک طویل فہرست ہے، جس میں بے روزگاری کے اعدادوشمار سے لے کر گھریلو کھپت، جی ڈی پی، کووِڈکی  اموات، نوٹ بندی، مردم شماری اور مختلف سرکاری سروے تک شامل ہیں۔اس پوری تاریخ کو ایک ساتھ دیکھیں  تو مسئلہ ’’سرکاری سچ‘‘ کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔ورلڈ بینک تک ملک کے پیش کردہ اعدادوشمار کو اس اعتبار سے نہیں دیکھتا جس اعتبار سے پہلے دیکھا کرتاتھا۔  یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت پر ’’شعبدہ بازی‘‘ کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔  افسوس کہ سیاسی مفادات کیلئے کی جانے والی یہ شعبدہ بازی  دنیا بھر میں ملک کی ساکھ کو متاثر کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK