Updated: August 31, 2025, 2:59 AM IST
| New Delhi
آر ٹی آئی کے تحت سوالوں کے جواب اور سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے حلف نامہ میں تضاد، ۲۰۰۳ء کی ووٹر لسٹ نظر ثانی کا نوٹیفکیشن
مانگا گیا تو ۲۰۲۵ء کانوٹیفکیشن تھمادیا، کورٹ میں دعویٰ کیاتھا کہ ’ایس آئی آر‘کافیصلہ ’آزادانہ عوامی رائے ‘سے کیاگیا مگراس کے دستاویز موجود نہیں
بہار میں ایس آئی آر کے خلاف شدید احتجاج ہورہاہے۔ (فائل فوٹو)
الیکشن کمیشن آف انڈیا کا اعتبار ہر گزرتے دن کے ساتھ گھٹا جارہا ہے ۔اکثر اس کی وجہ اس کی اپنی حرکتیں ہیں۔ تازہ معاملہ آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے کچھ سوالات کا ہے۔ معروف سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے اپنے ایکس پوسٹ میں اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ا نہوںنےبتایا کہ آر ٹی آئی کے تحت جب الیکشن کمیشن سےکچھ سوالات کئے گئے تو اس نے جواب دیا کہ ایسے کوئی دستاویز موجود نہیں جو ظاہر کرسکیں کہ کمیشن نے بہار میں ’’خصوصی نظر ثانی ‘‘ کے معاملے میں کس طرح غور کیا اور پھر اسے کروانے کے حتمی فیصلے پر پہنچا۔
اسی طرح اس نے سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے حلف نامہ میں دعویٰ کیاتھا کہ ’ایس آئی آر‘ کافیصلہ عوام سے لی گئی آزادانہ رائے کے بعد کیاگیا ،مگر جب الیکشن کمیشن سے اس کے دستاویز مانگے گئے تو جواب ملا کہ اس کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اسی طرح کمیشن نے ایس آئی آر کا جواز پیش کرنے کیلئے ۲۰۰۳ء میں ہونےوالی ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کا حوالہ دیاتھا۔اس سے جب ۲۰۰۳ء کی مذکورہ نظر ثانی کیلئے جاری کئے گئے حکم نامہ یا نوٹیفکیشن کی نقل مانگی گئی تو موجودہ ایس آئی آر کے نوٹیفکیشن کی نقل فراہم کردی گئی۔
اس کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’آرٹی آئی پر الیکشن کمیشن نے جو اب دیا ہے وہ الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ ‘‘الیکشن کمیشن کے آرٹی آئی جوابات اور سپریم کورٹ میں اس کے دعوؤں میں تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’یہ جواب سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے اس کے حلف ناموں سے متصادم ہیں۔ ‘‘ پارٹی نے سوال کیا ہے کہ اگر عوام سے آزادانہ رائے لی ہی نہیں گئی تو پھر کس بنیاد پر ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کا فیصلہ کیاگیا؟
واضح رہے کہ رپوٹرس کلیکٹیو ڈاٹ اِن نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت، اس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے درخواست کی کہ وہ ووٹر لسٹ پر خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق تمام ریکارڈز، فائلیں، نوٹس اور خط و کتابت عام کرے، جو اس نے سب سے پہلے بہار میں اور بعد میں پورے ملک میں شروع کیا۔ آر ٹی آئی ایکٹ کے مطابق حکومت اور الیکشن کمیشن پر لازم ہے کہ وہ یہ معلومات ازخود عوام کیلئے جاری کریں بجائے اس کے کہ شہریوں کو باضابطہ درخواست دینی پڑے۔ بہرحال مذکورہ سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ کے بیک اینڈ پیج کا ایک لنک بھیج دیا جوکھلتاہی نہیں۔
اسی طرح کمیشن سے ان فائلوں کے نام اور نمبر مانگے گئے تھے جن میں جون اور جولائی۲۰۲۵ء میں ایس آئی آر احکامات کے حوالے سے کمیشن میں غورو خوض اور اس دوران ہونے والی بحث درج ہے۔ الیکشن کمیشن نے حیرت انگیزطور پر آر ٹی آئی کے جواب میں ایسی کسی فائل یاریکارڈ کے موجود ہونے سے ہی انکار کردیا حالانکہ کمیشن مذکورہ دستاویز کو محفوظ رکھنے کا قانوناً پابند ہے۔