• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جی ایس ٹی اصلاحات کا پہلا مرحلہ یکم نومبر سے نافذ ہوگا

Updated: October 28, 2026, 3:07 PM IST | New Delhi

مرکزی بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز بورڈ (سی بی آئی سی) کی جانب سے ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ءکو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، فروخت کے بعد دی جانے والی رعایتوں (ڈسکاؤنٹ)، ریفنڈ کے عمل کو تیز کرنے اور برآمد کنندگان کو راحت فراہم کرنے سے متعلق نئے ضوابط یکم نومبر۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔

GST.Photo:INN
جی ایس ٹی۔ تصویر:آئی این این

مرکزی حکومت نے اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نظام میں کی گئی اصلاحات کے پہلے مرحلے کو نافذ کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ مرکزی بالواسطہ ٹیکس اور کسٹمز بورڈ (سی بی آئی سی) کی جانب سے ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ءکو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، فروخت کے بعد دی جانے والی رعایتوں (ڈسکاؤنٹ)، ریفنڈ کے عمل کو تیز کرنے اور برآمد کنندگان کو راحت فراہم کرنے سے متعلق نئے ضوابط یکم نومبر۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔ان تبدیلیوں کے تحت تقسیم کاروں اور خوردہ فروشوں کے لیے ڈسکاؤنٹ کے انتظام کو آسان بنایا گیا ہے۔ نئے قواعد اور کریڈٹ نوٹ سے متعلق دفعات کے نفاذ سے کاروباری اداروں کو ٹیکس قوانین کی تعمیل میں زیادہ وضاحت اور سہولت حاصل ہوگی۔ حکومت نے ان صنعتوں کو بھی بڑی راحت فراہم کی ہے جو اُلٹے ڈیوٹی اسٹرکچر  کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس صورت حال میں خام مال پر عائد جی ایس ٹی کی شرح تیار شدہ مصنوعات پر عائد ٹیکس کی شرح سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے کاروباری ادارے اب خطرات کے جائزے سے متعلق شرائط کے تحت اپنے اہل ریفنڈ کی ۹۰؍ فیصد تک رقم عارضی طور پر پیشگی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے ان کے ورکنگ کیپیٹل، یعنی کاروبار چلانے کے لیے درکار سرمایہ، پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’کنگ‘‘ ریلیز ہونے میں تاخیر نہیں، نئے پوسٹر کے ذریعے تاریخ کی تصدیق

چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے بھی یہ قدم اہم سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت نے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد کی جانے والی برآمدات کے ریفنڈ کے لیے پہلے سے نافذ ایک ہزار روپے کی کم از کم حد ختم کر دی ہے۔ اس سے ڈاک اور کوریئر کے ذریعے چھوٹی سطح پر سامان برآمد کرنے والے برآمد کنندگان بھی کسی کم از کم مالی حد کی پابندی کے بغیر ریفنڈ کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ایک اور اہم تبدیلی انٹرمیڈیری خدمات، یعنی ثالثی خدمات، سے متعلق ہے۔ نئے ضوابط کے تحت ایسی خدمات کے لیے ’پلیس آف سپلائی‘  کا تعین اب خدمات فراہم کرنے والے یا درمیانی فریق کے مقام کے بجائے خدمات حاصل کرنے والے شخص کے مقام کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس سے  ہندوستانی خدمات برآمد کرنے والوں کو ٹیکس سے متعلق زیادہ وضاحت حاصل ہوگی اور ان کی برآمدی مسابقت کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاہم، وسیع تر ساختی اور قانونی تبدیلیوں کا اگلا مرحلہ یکم اپریل  ۲۰۲۷ءسے نافذ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے مرکزی اور ریاستی جی ایس ٹی قوانین میں ترمیم کرنا ضروری ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:اسپین کی الیکسیا پوتیاس نے خواتین کا بیلن ڈی اور جیت لیا، بونماتی کے ریکارڈ کی برابری

یہ فیصلے ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن کی صدارت میں منعقدہ جی ایس ٹی کونسل کے ۵۷؍ویں اجلاس میں کیے گئے تھے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ٹیکس دہندگان پر قانونی تعمیل کا بوجھ کم کرنا، ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) کے بہاؤ کو ہموار بنانا اور ریفنڈ کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، جی ایس ٹی اصلاحات کو ضروری تکنیکی اور نظام سے متعلق اپ گریڈیشن کی بنیاد پر مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ یکم نومبر کے بعد جہاں بھی تکنیکی طور پر ممکن ہوگا، وہاں ریفنڈ کی منظوری کے عمل کو خودکار بنایا جائے گا۔ تاہم، یہ سہولت صرف ریفنڈ کی نئی درخواستوں پر لاگو ہوگی، پہلے سے زیر التوا معاملات پر نہیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جی ایس ٹی قوانین میں ترمیم سے متعلق بڑے اقدامات یکم اپریل  ۲۰۲۷ءسے نافذ ہوں گے۔ ان میں گرفتاری سے متعلق دفعات میں ترمیم، قانونی کارروائی (پراسیکیوشن) کی حد کو معقول بنانا، ای وے بل کے قواعد میں تبدیلی اور وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کے لیے ۱۰؍ہزار روپے کی کم از کم حد مقرر کرنا شامل ہے۔ حکام نے مزید وضاحت کی ہے کہ نئے ضوابط کا اطلاق ماضی میں کی گئی گرفتاریوں پر نہیں ہوگا۔ جی ایس ٹی کونسل نے گرفتاری سے متعلق بعض دفعات کو قانون سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ تبدیلی صرف مقررہ تاریخ کے بعد کے معاملات پر لاگو ہوگی۔ حکومت فی الحال عبوری رہنمایانہ اصولوں پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK