اُدھو حکومت نے جی ایس ٹی کی ادائیگی اور وصولی کے معاملے میں مرکز کاحکم رد کردیا

Updated: January 14, 2021, 9:03 AM IST | Agency | Mumbai

مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے ریاستوں کو جی ایس ٹی میں ان کا حصہ دینے میں تاخیر کے بعد کچھ ریاستوں نے بھی مرکزی حکومت کےسرکیولرس رد کرنے شروع کردئیے ہیں۔

Uddhav Thackeray .Picture :INN
ادھو ٹھاکرے۔ تصویر:آئی این این

مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے ریاستوں کو جی ایس ٹی میں ان کا حصہ دینے میں تاخیر کے بعد کچھ ریاستوں نے بھی مرکزی حکومت کےسرکیولرس رد کرنے شروع کردئیے ہیں۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر کی ادھو حکومت نے جی ایس ٹی کی ادائیگی اور وصولی کے معاملے میں مرکز کا اختیار ختم کرتے ہوئے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ اب تک یہ اختیار سینٹرل بورڈ آف  اِن ڈائریکٹ ٹیکسیز اینڈ کسٹمز  (سی بی آئی سی)کو تھا کہ وہ سرکیولر جاری کرکے ٹیکس کی وصولی کے معاملے میں ضوابط طے کرسکے لیکن اب یہ اختیار سی بی آئی سی  سے چھین لیا گیا ہے۔  اب اِن ڈائریکٹ ٹیکس کے معاملے میں آخری فیصلہ ریاستی حکومت کے محکمہ جی ایس ٹی کا ہو گا ۔ مرکزی حکومت کے لئے یہ حکم نامہ بہت بڑ ا جھٹکا ہے۔ کمشنرآف اسٹیٹ ٹیکس کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ کے مطابق اب سی بی آئی سی  جو بھی سرکیولر جاری کرے گی مہاراشٹر کا جی ایس ٹی محکمہ اس کی جانچ کرنے کے بعد اسے جاری رکھنےیا رد کرنے کے اختیار کا حامل ہو گا۔ اس سے ٹیکس دہندگان کو ہونے والے کنفیوژن سے بچانا مقصود ہے۔ بہر حال حکومت مہاراشٹر کے اس قدم سے مرکزی حکومت آگ بگولہ ہے۔اس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے ریاستی حکومت سے گفتگو کی جائے گی کیوں کہ سی بی آئی سی کا اختیار جی ایس ٹی کونسل میں طے ہوا تھا اور اسے تمام ریاستوں میں قبول کیا تھا ۔ اگر اب حکومت مہاراشٹر اس معاملے میں پیچھے ہٹتی ہے تو ایک ملک ایک ٹیکس کا خواب شرمندہ تعبیر کرنامشکل  ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت سے گفتگو کی جائے گی ۔ ساتھ ہی دیگر ریاستوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK