Inquilab Logo Happiest Places to Work

کم از کم بیلنس کے نام پر نجی بینکوں کی طرف سے پنالٹی کا معاملہ لوک سبھا میں گونجا

Updated: March 23, 2026, 6:05 PM IST | New Delhi

پرائیویٹ بینکوں کی طرف سے کم از کم بیلنس کے نام پر لگائے جانے والے جرمانے کا معاملہ پیر کو لوک سبھا میں اٹھایا گیا اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

Minimum Balance.Photo:INN
کم ازکم بیلنس۔ تصویر:آئی این این

 پرائیویٹ بینکوں کی طرف سے کم از کم بیلنس کے نام پر لگائے جانے والے جرمانے کا معاملہ پیر کو لوک سبھا میں اٹھایا گیا اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔  ڈی ایم کے کے ڈاکٹر گنپتی راجکمار پی نے وقفہ صفر کے دوران کہا کہ نجی شعبے کے بینک عام لوگوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۵۔۲۰۲۴ءمیں ہندوستانی بینکوں نے کم از کم بیلنس برقرار نہ رکھنے پر۱۹۸۸۶؍ کروڑ روپے کی وصولی کی ہے۔ یہ وصولی یومیہ اجرت والے مزدوروں، چھوٹے کسانوں اور طلبہ  سے کی گئی ہے۔ تاہم، اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے۲۰۲۰ء میں اس قسم کی وصولی کو بند کردیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’کالکی ۲‘‘ سے متعلق نئی خبریں، ذوالقر سلمان کے ساتھ جے ڈی چکرورتی کی آمد

پبلک سیکٹر کے ۱۲؍ میں سے ۹؍ بینکوں نے کم از کم بیلنس پر جرمانہ ختم کر دیا ہے، لیکن پرائیویٹ سیکٹر اب بھی وصولی کررہے ہیں۔راج کمار پی نے کہا کہ یہ پنالٹی غریب، مزدور اور سماج کے محروم طبقات کو اداکرنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوپرائیویٹ بینکوں کی جانب سے کم از کم بیلنس برقرار نہ رکھنے پر عائد جرمانہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری بینکوں سے یہ نظام ختم ہونے کے باوجود پرائیویٹ بینک غریبوں سے پیسے بٹور کر انہیں پریشان کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر سٹی نے آرسنل کو پچھاڑ دیا، نیکو او ریلی کے دو گولز، سٹی نویں بار چیمپئن


بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھرتریہری مہتاب نے عظیم آزادی پسند لیڈر سبھاش چندر بوس کی باقیات جاپان سے واپس لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ سماج وادی پارٹی کے جتیندر کمار دوہرے نے اپنے پارلیمانی حلقہ اٹاوہ کے ناہموار سرحدی علاقے میں کیندریہ ودیالیہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہاں رہنے والی بڑی آبادی میں لوگوں کو تعلیمی فوائد حاصل ہوں گے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK