Inquilab Logo Happiest Places to Work

دی پلیسس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء پر عمل نہیں ہورہا ہے، اہم اجلاس میں  شرکاء کا دعویٰ

Updated: June 21, 2026, 2:24 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

’دی پلیسس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ءکے مستقبل‘ کے عنوان پر منعقدہ اجلاس میں کہا گیاکہ کمال مولامسجد اور بھوج شالہ کے تعلق سے عدالت کے فیصلوں میں اس ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی۔

Meeting held on the `Places of Worship Act 1991`. Photo: INN
’دی پلیسس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء پر منعقدہ اجلاس۔ تصویر:آئی این این

سنیچر کی شام ممبئی کے اسلام جمخانہ میں بھارت رتن عبدالغفار خان (سرحدی گاندھی) میموریل سوسائٹی کے ذریعہ منعقدہ ’دی پلیسس آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ءکے مستقبل‘ کے عنوان پر منعقدہ عوامی اجلاس میں سابق جج، وکلاء اور دانشوروں نے کمال مولا مسجد اوربھوج شالہ کے تعلق سے غیرمنصفانہ فیصلوں کی روشنی میں نظام عدلیہ اور موجودہ ججوں پر سخت تنقیدیں کیں۔ 
اس اجلاس میں بتایا گیا کہ اس ایکٹ کو مذہبی مقامات کی بنیاد پر عوام میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلنے سے روکنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کے تحت ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ملک میں واقع مذہبی مقامات کی اسی حیثیت پر رکھنے کو کہا گیا ہے جن پر وہ اس وقت پر موجود تھے۔ اس ایکٹ کے باوجود سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چندر چڈ نے صرف زبانی مشاہدہ میں کہا تھا کہ بھلے ہی مذہبی مقامات کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ پہلے وہاں کیا تھا۔ ان کے اس زبانی مشاہدہ نے مذہبی مقامات کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی عدالتی کارروائیوں کے سیلاب کے راستے کھول دیئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہاؤسنگ سوسائٹی میں آلودہ پانی سے کہرام، ۳۰ ؍ افراد شدید بیمار

پروگرام کے دوران اجمیر شریف سے آئے سید سرور چشتی اور ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مسلمانوں کو راستے پر آکر اپنے حق کی لڑائی لڑنے کا وقت آگیا ہے۔ ایڈوکیٹ فیضان نے کہا کہ وہ چار دہائی سے زیادہ عرصہ سے سپریم کورٹ میں پریکٹس کر رہے ہیں اور ان کا تجربہ یہی رہا ہے کہ سپریم کورٹ انصاف نہیں کررہا ہے۔ ڈاکٹر رام پنیانی نے کہا کہ تاریخ کے مطالعہ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہندو راجاؤں کے دور میں مسلمان سکون سے رہتے تھے اور مسلم راجاؤں کے دور میں ہندو راحت سے رہتے تھے۔ تاہم انگیزوں نے جب دیکھا کہ ہندو مسلم مل کر ان کے خلاف لڑ رہے ہیں تب اپنی حکومت کو قائم رکھنے کیلئے انہوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کرکے ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا اور اب سیاستداں اسے استعمال کر رہے ہیں۔ 
نفرت کو دور کرنے کیلئے ایسے رضاکاروں کی ضرورت ہے جو عوام کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ ان کے مطابق صحیح تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں مسلمانوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں یہ ہمارے ملک کے آئین پر حملہ ہے۔ 
سرحدی گاندھی میموریل تنظیم کے نیشنل چیئرمین ایڈوکیٹ جلال الدین نے اس پروگرام کو منعقد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر رام پنیانی نے کی۔ 
مہمان خصوصی پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری تھے۔ 
دیگر مقررین میں پروفیسر ڈاکٹر حسنین نقوی (مصنف و مؤرخ)، ایڈوکیٹ مہیردیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل زیڈ کے فیضان، فادرفریزر میسکرینہ یس (سابق پرنسپل سینٹ زیویئرس کالج)، سید سرور چشتی (گدی نشین درگاہ شریف اجمیر)، مولانا زاہد رضا رضوی (امیر شریعت، اتراکھنڈ)، محمد وجیہ الدین (صحافی) اور سابق وزیر حسین دلوائی شامل تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK