نئی دہلی کے اس علاقے میں عید کے دن سخت پولیس بندوبست رہا ،سینئر پولیس افسر کے مطابق ضرورت پڑنے پر اضافی فورسیز کو بھی تیار رکھا گیا ہے
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 11:42 PM IST | New Delhi
نئی دہلی کے اس علاقے میں عید کے دن سخت پولیس بندوبست رہا ،سینئر پولیس افسر کے مطابق ضرورت پڑنے پر اضافی فورسیز کو بھی تیار رکھا گیا ہے
دہلی کے اتم نگر میں نوجوان کے قتل پرعلاقے کو فساد کی آگ میں جھونکنے کی سازش کرنے والے عناصر کومنہ کی کھانی پڑی اور عید الفطر امن کے سائے میں گزری۔ اُتم نگر میں سنیچر یعنی عید کے دن چپہ چپہ پرپولیس تعینات رہی ۔ علاقے میں اضافی پولیس کی تعیناتی اور سخت سیکوریٹی کے درمیان لوگوں نے عید کی نماز ادا کی اور امن وامان کیلئےدعا کی۔ نوجوان کا ۴؍ مارچ کو جے جے کالونی، اتم نگر میں تصادم کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ جھڑپ ہولی کے دوران ہوئی تھی جب نوجوان کے خاندان کی ایک لڑکی کی طرف سے پھینکا گیا پانی کا غبارہ ایک خاتون پر گرا تھا جس سے جھگڑا شروع ہوگیا۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایک اہلکار نے بتایا کہ ہستسال کالونی اور آس پاس کے علاقوں میں دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔ تمام داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں۔ لوگوں کو ان کے شناختی کارڈز کی سخت تصدیق کے بعد ہی مقامی شہریوںکو مخصوص علاقوں میں جانے کی اجازت دی گئی اور باہری افراد کو داخل نہیں ہونے دیاجارہا ہے تاکہ پورے علاقے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے ۔ علاقے میں عید کے بعد بھی سیکوریٹی برقرار ہے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے پولیس کی ٹیمیں پیدل گشت کر رہی ہیں۔ پورے علاقے میں اعتماد اورسیکوریٹی کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے چھتوں، تنگ گلیوں اور دیگر حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا’’پُرامن عید کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات کو مضبوط کیا گیا ہے۔ ہم ہر سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر اضافی فورسیز کو تیار رکھا گیا ہے۔ سخت حفاظتی انتظامات اور پابندیوں کے باوجود مقامی لوگوں نے عید کی نماز ادا کی ۔ حالانکہ اس بار کشیدگی کے باعث عید کی چہل پہل کم رہی ۔
۴؍ مارچ کو اتم نگر میں کیا ہواتھا؟
قابل ذکر ہے کہ۴؍مارچ کو ہولی کے دن جے جے کالونی میں دو پڑوسی خاندانوں کے درمیان جھگڑے میں زخمی ایک۲۶؍ سالہ نوجوان زخمی ہوگیا تھا اور پھراس کی موت ہوگئی تھی ۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب نوجوان کے خاندان کی لڑکی کی طرف سے پھینکا گیا پانی سے بھراغبارہ غلطی سے دوسرے خاندان کی خاتون سے ٹکرا گیا اور صورتحال پرتشدد تصادم کی شکل اختیار کر گئی۔
اس واقعے یعنی نوجوان کے قتل کے بعد کچھ مقامی گروپوں نے احتجاج کیا تھا اورملزم خاندان کی دو گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں متعدد ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ افواہوں پر قابو پانے اور اشتعال انگیزی کو روکنے کیلئےسوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔