ایک رپورٹ کے مطابق ہیلیم، سلفر، میتھانول اور ایلومینیم جیسی اشیاء کی فراہمی میں کمی آ سکتی ہے جس سے سیمی کنڈکٹر کی تیاری، کھاد اور تعمیرات جیسی صنعتوں پر اثر پڑے گا
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 12:02 AM IST | New Delhi
ایک رپورٹ کے مطابق ہیلیم، سلفر، میتھانول اور ایلومینیم جیسی اشیاء کی فراہمی میں کمی آ سکتی ہے جس سے سیمی کنڈکٹر کی تیاری، کھاد اور تعمیرات جیسی صنعتوں پر اثر پڑے گا
خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ رکاوٹوں کی وجہ سے کئی اہم شعبوں میں عالمی سپلائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، جس کا اثر سیمی کنڈکٹر اور تعمیرات جیسے شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔ ڈیم کیپٹل ایڈوائزرز کی ایک رپورٹ میں یہ انتباہ دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہیلیم، سلفر، میتھانول اور ایلومینیم جیسی اشیاء کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے سیمی کنڈکٹر کی تیاری، کھاد اور تعمیرات جیسی صنعتوں پر اثر پڑے گا۔ کھاد کی سپلائی چین میں رکاوٹ آنے سے زرعی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس سے غذائی تحفظ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خام تیل کی دستیابی پر قلیل مدت میں کنٹرول کیا جاسکتا ہے، لیکن ایل پی جی ، نیفتھا، ایوی ایشن ٹربائن فیول اور گیس آئل جیسی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر دباؤ بڑھے گا، کیونکہ ریفائننگ کی صلاحیت محدود ہے۔ اس کے ساتھ ہی، عالمی ایل این جی سپلائی کا۲۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ خلیجی خطے سے آتا ہے، جس کی وجہ سے قدرتی گیس کی مارکیٹ میں بھی مشکلات آ سکتی ہیں۔
ہندوستان کے تناظر میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو اس کے مجموعی معاشی اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ خام تیل کی قیمت میں محض فی بیرل ایک ڈالر کا اضافہ ملک کے مالیاتی خسارے کو تقریباً۱۰۰؍ ارب روپے تک بڑھا سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر قیمتیں۸۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو افراط زر کی شرح۴ء۵؍فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے اور ہندوستانی روپے کی قدر پر بھی شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان کا درآمدی انحصار، بالخصوص آبنائے ہرمز کے ذریعے خطرات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ملک کی تقریباً۹۰؍ فیصد ایل پی جی درآمدات اور۵۰؍ فیصد سے زائد خام تیل اسی راستے سے آتا ہے۔ جہاں ایک طرف خام تیل کی فراہمی کو متبادل ذرائع اور محفوظ ذخائر کی وجہ سے کسی حد تک سنبھالا جا سکتا ہے، وہیں ایل پی جی کی دستیابی محدود ذخائر کے باعث زیادہ حساس بنی ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے اپ اسٹریم تیل اور گیس کمپنیوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جب کہ ڈاؤن اسٹریم کمپنیوں، خاص طور پر تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں پر مارجن کا دباؤ بڑھے گا۔ ہوابازی (ایوی ایشن) کا شعبہ بھی اس سے متاثر ہوگا، کیوں کہ ایندھن کی لاگت ان کے اخراجات کا تقریباً۴۰؍ فیصد تک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایف ایم سی جی کمپنیوں کو پیکیجنگ کی لاگت بڑھنے سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔