لمبی سیمنٹ چال کےگھر اوردکانیں خالی کروانےکی کارروائی مکمل

Updated: May 22, 2022, 10:39 AM IST | saadat khan | Mumbai

متعدد مکین اب بھی پریشان،فضائی آلودگی کے سبب ماہول جانے کو تیار نہیں،بچوں کی پڑھائی اور روزگار کے سبب بھی علاقہ چھوڑنے سے لوگ ہچکچارہے ہیں

Some people can be seen sitting on the road with their belongings on the road
سیمنٹ چال سے گھر خالی کرنے والے کچھ افراد کو سڑک پر ہی سامان کے ساتھ بیٹھاہوا دیکھا جاسکتا ہے

یہاں کے بائیکلہ اسٹیشن روڈ پر واقع لمبی سیمنٹ چال کے مکینوں سے گھر خالی کروانےکی کارروائی مکمل ہوگئی ہے۔گزشتہ۳؍دنوںمیں ۳۵؍گھر ، ۲۴؍ دکانیں اور ۵۷؍ کارخانے خالی کرائے گئےہیں۔
 ان سب کوماہول گائوں منتقل ہونےکی ہدایت دی گئی ہےمگر بیشتر مکین فضائی آلودگی کے سبب وہاں نہیں جانا چاہتے۔علاوہ ازیں بچوںکی پڑھائی اور روزگار یہاں ہونے سے بھی لوگ و ہاں جانے میں ہچکچا رہے ہیں۔ان لوگوں نے مجبوراً رشتےداروں، عزیزوں اور متعلقین کے گھروں پرعارضی پناہ لی ہوئی ہے۔اب بھی کچھ گھروںکا سامان بلڈنگ کے قریب جمع ہے۔کیونکہ ان گھروالوں کے پاس سامان رکھنےکی متبادل جگہ نہیں ہے۔ ۹۷؍سالہ عمررسیدہ صفورہ بی آخری وقت تک کہتی رہیں کہ’’میںیہاںسے نئی جیوں‘‘ لیکن انہیں بھی اہل خانہ کے ساتھ گھر خالی کرنا پڑاہے۔
 لمبی سیمنٹ چال میں رہائش پزیر آصف انصاری نےبتایاکہ ’’ یہاں میرے ۲؍گھرہیں۔ اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں رہتاہوں۔مگر اب ہمیں ماہول گائوں جانے کیلئےکہاجارہاہےجہاں کی فضائی آلودگی کے سبب عدالت نےبھی اس جگہ کو رہنےکیلئے غیر محفوظ قرار دیاہے ۔اس کے باوجودہمیں وہاں بھیجاجارہاہے ۔ ایک تو یہ پریشانی ہے۔ دوسرے جنوبی ممبئی میں کرایہ پر گھر نہیں مل رہےہیں۔ اگر مل بھی رہےہیں تو وہ ہماری قوت سے باہر ہیں ۔ دور دراز علاقوںمیں جانے سے ہمارے بچوںکی پڑھائی کا نقصان ہوسکتاہے ۔میری ۲؍بیٹیاں ہیں۔ جن میں سے ایک بیٹی گریجویشن کے فائنل ائیر میں ہے۔ اگر میں یہاں سے منتقل ہوتاہوں تو اس کی پڑھائی متاثرہوسکتی ہے۔ دوسری بیٹی سینٹ جوزف اسکول (مورلینڈ روڈ )میں پڑھتی ہے۔ میرا روزگار بھی یہیں ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر کسی دوردراز علاقےمیںمنتقل ہونا ہمارےلئے مشکل ہے۔ مجبوراً میں نےاپنے بچوںکو قریبی رشتےداروں کے گھروںپر منتقل کیا ہے۔سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ آگے کیا ہوگا۔‘‘
  انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ ہم ڈیولپمنٹ کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم بھی چاہتےکہ ہماری بلڈنگ کی ازسرنو تعمیر کی جائے۔ لیکن تعمیر کا کام بی ایم سی ٹینڈر کے مطابق ہو۔ یہی ہمارا مطالبہ ہے ۔ کسی ایک مخصوص بلڈر یا گروپ کے زیر اثر کام نہیں ہوناچاہئے ۔ لیکن بی ایم سی اور پولیس، بلڈر کی مرضی کےمطابق کام کررہے ہیں،جو غلط ہے ۔ ‘‘
 آصف انصاری کےمطابق ’’جن مکینوں نے گھر، دکان اور کارخانے وغیرہ خالی نہیں کئے تھے،انہیںبی ایم سی اور پولیس عملےنے۱۸؍مئی کو۲۴؍گھنٹے میں جگہ خالی کرنےکانوٹس دیاتھا۔بعدازیں جگہ خالی کروانےکی کارروائی کی گئی۔۳؍دنوںمیں یہاں کے۳۵؍گھروں، ۲۴؍دکانوں اور ۵۷؍ کارخانوںکو خالی کروایاگیاہے۔ اس کارروائی کے دوران یہاں کے تمام مکینوںنے جگہ خالی کر دی ہےمگر جن مکینوںکا ابھی تک انتظام نہیں ہواہے ۔ ان کےگھروںکا سامان اب بھی بلڈنگ کے آس پاس رکھا ہوا ہے۔۹۷؍سالہ صفورہ بی تو آخری وقت تک گھر خالی کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ ’’ میں یہاں سے نئی جیوں‘‘لیکن انہیں بھی بی ایم سی والوںنے مہلت نہیں دی۔ان کے اہل خانہ کےساتھ انہیں بھی گھر سے نکال دیاگیاہے۔‘‘
 سعید انصاری نے بتایاکہ ’’ میرا یہاں ایک کمرہ ہے۔میں ایک ٹھیکیدارکےیہاں مزدوری کرتا ہوں۔ جو تنخواہ ملتی ہے اس سے بمشکل گزر بسر ہوتاہے۔ ایسےمیں گھرخالی کرنے سے پریشانی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ میں نے ایک مہینہ قبل ۱۸؍ اپریل کو گھر خالی کیاتھا۔ ماہول کا گھر توجانوروں کے رہنے لائق بھی نہیں ہے ۔ممبئی میں کرایہ پر گھر لینا میرے بس کے باہر ہے۔ مجبوراً میری اہلیہ اپنے گھر چلی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ میری ۲؍بیٹیاں رہ رہی ہیں ۔ میں یہیںپر قریب میں اپنے ایک دوست کےکارخانے میں رات گز ار رہاہوں۔یہاں سے دورجانا ممکن نہیں ہے کیونکہ بچیوں کی پڑھائی جاری ہے۔ علاوہ ازیں روزی روٹی کا بھی مسئلہ ہے۔ ‘‘
  انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ جو کچھ بھی ہواہے ۔یہ ہماری سوسائٹی کی نااتفاقی سے ہواہے۔ ورنہ بلڈر کچھ نہیں کرسکتا تھا۔آج ہم بے گھر ہوگئے ہیں۔ ہمارے بچے سڑک پر آگئےہیں ۔ اس کا ذمہ دارکون ہے؟‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK