روس اور مغربی ممالک کے تعلقات مزید خراب،انتہائی کشیدہ

Updated: November 17, 2022, 12:26 PM IST | Agency | Bali/New York

پولینڈ میں روسی ساختہ میزائل سےحملے کے بعد جو بائیڈن نے جی ۷؍ اور نیٹو کے لیڈروں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ۔ روس نے اسے جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کی کوشش قرار دیا روس سے یوکرین جنگ پر ہر جانہ سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار داد پر ماسکو برہم ، امریکہ سے بھی عراق جنگ کا ہر جانہ وصول کرنے کا مطالبہ ، عالمی ادارہ چھوڑنے کا بھی انتباہ

Joe Biden addresses the media after the meeting.Picture:AP/PTI
اجلا س کے بعد جو بائیڈن میڈیا سے مخاطب۔ تصویر: اےپی / پی ٹی آئی

  پولینڈ میں روسی میزائل حملے کے بعدانڈونیشیا میں امریکہ  نے اپنے اتحادیوں کا ہنگامی اجلاس  طلب کیا ۔  پولینڈ کی حکومت  کے مطابق  روسی ساختہ میزائل ملک کے مشرقی حصے میں گرا جس  کےنتیجے میں۲؍ افراد ہلاک ہوگئے، حالانکہ خبر لکھے جانے تک میزائل کس نے اور کہاں سے چلایا؟ یہ واضح نہیں ہوسکا ہے۔ روس نے بھی اس حملے میں اپنے کسی بھی طرح کے کر دار سے انکار کیا ہے۔   میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے پولینڈ کی صورتحال پر مشورہ کیلئے جی ۷؍ اور نیٹو  لیڈروں کا ہنگامی اجلاس انڈونیشیا میں طلب کیا۔امریکی صدر کے عملہ نے انہیں آدھی رات کو بیدار کر کے میزائل  حملے کے بارے میں بتایا۔ امریکی صدر نے پولینڈ کے صدر کو فون کر کے  ہلاکتوں پر تعزیت کی۔ جو بائیڈن نے اپنے ٹویٹ میں پولینڈ کی جانب سے تفتیش میں اس کی مکمل حمایت اور  تعاون  کا وعدہ کیا ۔  امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی میزائل حملے میں روس کے ملوث ہونے کی اطلاعات  کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میںمزید معلومات حاصل کرنے کیلئے پولینڈ حکومت  سے رابطے میں ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق میزائل  روس نے نہیں داغے ہیں۔جوبائیڈن نے جی۷؍ اور نیٹو لیڈروں سے  بات چیت کے بعد کہا  کہ اصل حقائق معلوم کئے جارہے ہیں جس کے بعد ہم مشترکہ طور پر  اپنے اگلے اقدام کا اعلان کریں گے۔  انڈونیشیا کے شہر بالی  میں جی۲۰؍ اجلاس کے موقع پر اتحادیوں کا ہنگامی اجلاس  میں جرمنی، کناڈا،اسپین، اٹلی، فرانس  برطانیہ کے ساتھ ساتھ دیگر نیٹو  اراکین شامل ہوئے۔   واضح رہےکہ نیٹو  کے اراکین دفعہ۵؍کے تحت مشترکہ طور پر اپنے رکن ملک کی سرزمین کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حملے میں روس کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی تو روس اور  یوکرین کے درمیان تنازع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دریں اثناء نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینزا سٹولٹن برگ نے  رکن ممالک کے سفیروں کا اجلاس برسلز میں طلب کیا۔ بدھ کو  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے اجلاس میں یوکرین کی صور تحال پر گفتگو ہوئی  ۔ خبر لکھے جانے تک اس کی تفصیل منظر عام پر نہیں آئی ہے لیکن  اس اجلاس میں پولینڈ میں حملے کا معاملہ اٹھایا جا سکتا  ہے۔ ادھر امریکی انٹیلی جنس عہدیدار نےا مریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ روسی ساختہ میزائل پولینڈ میں گرے جس سے ۲؍افراد مارے گئے۔پولینڈ کے صدر آندرے ڈوڈا  کے مطابق میزائل روسی ساختہ ہے لیکن یہ کہاں سے داغا گیا؟ اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ان  کے بقول :’’ہم تحمل سے کام لے رہے ہیں، یہ مشکل صورتحال ہے۔‘‘ دوسری جانب روس نے میزائل  حملے میں اپنے کسی بھی طرح  کے کردار کی تردید کی  ہے۔ اس  کا  الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا۔ روسی وزارت دفاع  کا کہنا  ہےکہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کا مقصد صورتحال کو خراب کرنا ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو نے کہا کہ پولینڈ میں  دھماکوں کی کوئی اطلاع نہیں  ہے۔ 

 روس نے اقوام متحدہ   کی اس قرارداد کو مسترد کردیا جس کے مطابق تحت روس کو یوکرین میں ہونے والے نقصان کی تلافی کیلئے ہر جانہ دیناہو گا۔ اس پر ماسکو نےکہ  امریکہ سے بھی عراق جنگ کا ہر جانہ وصول کیا جائے۔ اس  نے عالمی ادارے سے سوال کیا کہ آخر روس ہی کیوں؟ کوریا، ویتنام، عراق  اور دیگر ممالک کو تباہ کرنے والی طاقتوں کو بھی ان ممالک  کی تباہی پر ہرجانہ دینے پر مجبور کیا جائے۔   و اضح رہےکہ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ  نے روس کے ذریعہ یوکرین کو ہرجانہ ادا کرنے سے متعلق فیصلہ قبول کر لیا ہے جس میں  مطالبہ کیا گیا ہے کہ روس کو یوکرین کی حدود میں بین  الاقوامی قانون کی ہر طرح  کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے او راس سے ہر ہر جانہ وصول کیا جائے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق  روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی ساتھی ، سابق صدر اور سلامتی کونسل کے نائب   صدر دمتری میدویدیف نے اقوام متحدہ  کے مذکورہ فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے   سوشل میڈیا  پر ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا  کہ اقوام متحدہ کو امریکہ اور نیٹو کا بھی ان جرائم پر مواخذہ کرنا چاہئے جن کاانہوں نے  کوریا، ویتنام، عراق، یوگوسلاویا اور  دیگر ممالک میں ارتکاب کیا ہے۔  دمتری میدویدیف  نے مزید کہا کہ اگر اقوام متحدہ میں عراق جنگ سے متعلق امریکہ سے ہرجانہ لینے کی قرارداد منظور نہیں کی گئی تو اس   سے غلط مثال قائم ہوگی  اور اس طرح  عالمی ادارے کی  شبیہ بھی بری طرح متاثر ہوگی ۔  انہوں نے کہا کہ اگر روس کی طرح دیگر ممالک کیخلاف بھی ہرجانہ کی قراردادیں منظور نہیں کی گئیں تو   ماسکو اقوام متحدہ سے علاحدہ ہوجائے گا اور اس سے ہٹ کر کام کرے گا  اور ماسکو کا یہ اقدام اس عالمی ادارے کے ایک دردناک اختتام کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ دمتری میدویدیف نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے بہانے مغربی ممالک روس کے منجمد اثاثوں کو لوٹنا چاہتے ہیں۔  قبل ازیں اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نبنزیا نے کہا  تھا کہ مغربی ممالک روس کے ان اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور انہیں بیچنے کا جواز ڈھونڈ رہے تھے جنہیں یوکرین میں روس کے خصوصی آپریشن کے بعد منجمد کیا گیا تھا اور اب اقوام متحدہ کو استعمال کرکے مغربی ملکوں نے  اس کا  جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔روس کے سفیر نے کہا کہ مغربی ممالک ان اثاثوں کو اس کے حقیقی مالک یعنی ماسکو کو لوٹانےکے بجائے انہیں یوکرین کے نام پر لوٹنا چاہتے ہیں ۔  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی  اجلاس میں روس سے یوکرین جنگ کیلئےہرجانہ  وصول کرنے کی قرارداد کی روس،  چین، بیلاروس ، ایران اور شام سمیت ۱۳؍ممالک نے مخالفت کی۔۷۴؍ممالک نے رائے دہی میں حصہ ہی نہیں لیا، غیر جانبدار رہے جبکہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی ممالک سمیت ۹۴؍ اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ۔ اس قرارداد میں مغربی ملکوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے نتیجے میں  ہونے والے نقصانات کی تلافی  کیلئے ایک بین الاقوامی طریقہ کار وضع کیا جائے گااور اسی کے تحت ماسکو سے ہر جانہ وصول کیا جائے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK