’کشمیر فائلز‘ کوپروپیگنڈہ فلم قرار دینے پربھگوا خیمہ چراغ پا

Updated: November 30, 2022, 2:08 AM IST | goa

جس فلم کو کئی ریاستوں نے ٹیکس فری کیا اور حکمراں جماعت کے لیڈرجس کی تشہیر میں پیش پیش رہے، اس کو ’انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا‘ جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جیوری کے سربراہ نے ’’بھونڈی تشہیر‘‘ قرار دےدیا، اِفّی جیسے باوقار فلم میلے میں اس کی شمولیت پر حیرت کااظہار بھی کیا، وویک اگنی ہوتری انوپم کھیر اور دیگر تلملا اُٹھے

In Jammu, Kashmiri Pandit protesting against Ifi`s Jury Chief Nadu Lapid. (Photo: PTI)
جموں میں کشمیری پنڈت اِفی کی جیوری کے سربراہ نادو لاپڈ کے خلاف احتجاج کرتےہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کشمیری پنڈتوں  پر بنائی گئی فلم ’’کشمیر فائلز‘‘کی وجہ سے ’انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا‘ (اِفّی) میں اتوار کو پوری دنیا کے سامنے ہندوستا ن کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی فلم میلہ کی جیوری کے سربراہ نے گوا میں منعقدہ پروگرام  کے اختتامی پروگرام میں فلم کشمیر فائلز کو پروپیگنڈہ اور بھونڈی فلم قراردیا۔ان کے اس بیان کے بعد بھگوا عناصر چراغ پا ہیں جبکہ فلم سے وابستہ افراد تلملا اٹھے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک وکیل  ونیت جندل نے تو نادو لاپڈ کے خلاف پولیس میں  شکایت تک درج کرادی ہے۔ 
 فلم سے وابستہ افراد تلملا اٹھے
 اسرائیلی فلم سازنادو لاپڈ جو گوا میں منعقدہ ۵۳؍ ویں  انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا (ایفّی)  کی جیوری کے سربراہ تھے، نے فلم میلہ کے   اختتام پرمرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر سمیت کئی بڑے لیڈران کی موجودگی میں کہا کہ فیسٹیول میں کشمیر فائلز جیسی  فلم دکھائی جانے سے ہم پریشان ہیں۔ یہ فلم بہت  ’ولگر‘ (بھونڈی) ہے۔  اداکار انوپم کھیر اور فلم ساز اشوک پنڈت نے لاپڈ کے بیان پر  ناراضگی ظاہر کی  ہے۔انوپم کھیر نے کہا کہ ’’ایشور انہیں سمجھ عطا کرے۔‘‘ جبکہ اشوک پنڈت نے کہا کہ ’’کشمیر  فائلس کو ولگر نہیں کہا جا سکتا۔ ‘‘ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر فلم کو غلط ثابت کردیا جائے تو وہ فلمی دنیا سے علاحدگی اختیار کرلیں گے۔ انوپم کھیرنے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ لاپڈ کا اس طرح کشمیر فائلز کو تنقید کا نشانہ بنانا پہلے سے طے شدہ سازش کا نتیجہ ہوسکتاہے۔ بھگوا عناصر کے ہنگامے کے بعد فلم فیسٹیول کی جیوری کے چند اراکین  نے بھی اس بیان سے خود کو علاحدہ کرلیا ہےاور کہا ہے کہ یہ لاپڈ کی ذاتی رائے ہے۔
 نادو لاپڈ نے کیاکہا؟
  لاپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ فلم دی کشمیر فائلس کو دیکھ کر ہم جیوری کے تمام اراکین  پریشان اور حیران تھے۔ ہمیں یہ فلم ولگر اور پروپیگنڈے پر مبنی لگی۔ اس طرح کی فلم ایسے باوقار فلمی فیسٹیول کے لیے مناسب نہیں ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK