بیسٹ بس ڈرائیوروں کی اچانک ہڑتال سے مسافر بے حال

Updated: September 03, 2022, 10:06 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

گوونڈی میں مختلف مطالبات کیلئےڈرائیوروں نے ہڑتال کردی،دوسری جانب کرلاڈپو میں۵۳؍اے سی بسوں میںسےمحض ایک بس چلائی گئی، ۵۲؍ بسیں خراب ، مسافروں کوزبردست دقتوں کا سامنا، انتظامیہ کا متبادل نظم کا دعویٰ، لیکن مسافروں کی کثرت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی

A sudden strike by drivers at Govindi depot caused inconvenience to passengers
گوونڈی ڈپو میں ڈرائیوروں کی اچانک ہڑتال سے مسافروں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑا

یواجی نگرگوونڈی بس ڈپو میںڈرائیوروںاور کنڈکٹروں نےجمعہ کی صبح اچانک ہڑتال کردی جس سے مسافروںکو زبردست دقتوںکاسامنا کرناپڑا ۔ دوسری جانب کرلا ڈپو میںپرائیویٹ کمپنی ایم پی کی جانب سے چلوائی جانے والی ۵۳؍ایئرکنڈیشن بسوں میںسے۵۲؍بسیںخراب ہوجانے اور محض ایک بس چلنےکے سبب یہاں کے مسافر بھی بے حال نظرآئے ۔بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے متبادل انتظام کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن مسافروں کی تعداد کے سامنے ان انتظامات کی کوئی حیثیت نہیںتھی ۔اس کا خمیازہ مسافرو ںکوبھگتنا پڑا ۔ 
گوونڈی میںکیوں ہڑتال کی گئی 
 یہاں ٹاٹا موٹرس کی ۱۰۰؍بسیں پرائیویٹ ایجنسی کے ذریعے چلوائی جاتی ہیں ۔ ان بسوں کے  ڈرائیوروں اورکنڈکٹرس کوان بسوں میںسفر کے لئے ٹکٹ لینا پڑتا ہے۔ اس کی مخالفت کرتےہوئے ڈرائیوروں اورکنڈکٹروں نے اس کو زیادتی قرار دیااوراسی بناء پرجمعہ کی صبح ۵؍بجے سے ۱۰؍بجے تک کام بند  رکھا۔ صورتحال دیکھ کرکمپنی کی جانب سے ان کا مطالبہ تسلیم کیا گیا اوریقین دہانی کروائی گئی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ،اس کے بعد ڈرائیور اورکنڈکٹرس کام پرلوٹے۔ 
 بیسٹ کے پی آر گنیش گائیکواڑ نے نمائندۂ انقلاب کے استفسارپربتایا کہ ’’ سب سے اہم مسئلہ اورمطالبہ یہی تھا ،جسے کمپنی نےتسلیم کرلیا ہے اوراب ان ڈرائیوروں اورکنڈکٹروں کو ٹکٹ نہیں لینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ چھوٹے موٹے اور مطالبات تھے انہیں بھی تسلیم کر لیاگیا ہے جس سے شیواجی نگر ڈپو میں کی گئی ہڑتال ۵؍گھنٹے میں ختم ہوگئی ۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’اس کے سبب مسافروں کودقت پیش آئی لیکن یہ کوشش کی گئی کہ مسئلہ جلدازجلد حل کرلیا جائےتاکہ مسافرو ںکومزید پریشانی سے بچایا جاسکے ۔‘‘
کرلا ڈپو میںجمعہ کومحض ایک اے سی بس چلائی گئی 
  دوسری جانب کرلاڈپو میںجمعہ کو محض  ایک بس چلائی گئی جس کا خمیازہ مسافروں کوبھگتنا پڑا ۔ لوگو ںنے بتایاکہ مسافر بس اسٹاپ پربس کاانتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن بسوں کا کوئی پتہ نہیںتھا۔ بالآخر انہوںنے مجبوراً دیگر ذرائع سفر سے اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ 
۱۲؍اسپیشل بسیں چلاکرراحت پہنچانے کی کوشش 
 بیسٹ کے پی آر اوگائیکواڑنے کرلا ڈپو میں جس طرح کے حالات ہیں اوراس کے سبب مسافروں کوجو زبردست پریشانی ہورہی ہے اس سے اتفاق کیا اورکہاکہ معاہدے کی رو سے ایک بس نہ چلانے پر ۵؍ہزارروپے کے حساب سے کمپنی پر جرمانہ عائد کیا جارہا ہے ۔ لیکن یہ سچ ہے کہ کرلا ڈپو میں ایم پی کمپنی کے ذریعے الگ الگ روٹ پر چلائی جانے والی ۵۳؍بسوں میں سے ۵۲؍خراب پڑی ہوئی ہیں۔ اس سے مسافروں کو دقت ہورہی ہے۔ ‘‘انقلاب کے یہ پوچھنے پرکہ بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جہاں ایسے حالات ہوںگے وہاں مسافروں کو راحت پہنچانے کیلئےبیسٹ اپنی جانب سے انتظام کریگا  تو کرلا کے مسافرو ںکے لئے کیا متبادل نظم کیا گیا؟ اس پرپی آرا و گنیش گائیکواڑ نے کہاکہ ’’ ۱۲؍اسپیشل بسیں الگ الگ روٹ پر چلائی گئیں۔ ‘‘ ان سے یہ معلوم کرنے پرکہ کیا ۵۲؍ بسوں کی جگہ محض ۱۲؍ بسوں سے ہزاروں مسافروں کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے ؟تو ان کے پا س ا س کاکوئی معقول جواب نہیں تھا۔ 

best bus Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK