چینی وزارت تجارت کے ترجمان ہی یاڈونگ نے جمعرات کو کہا کہ ملک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے باوجود وینزویلا کے ساتھ چین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رہیں گے۔
EPAPER
Updated: January 08, 2026, 8:04 PM IST | Beijing
چینی وزارت تجارت کے ترجمان ہی یاڈونگ نے جمعرات کو کہا کہ ملک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے باوجود وینزویلا کے ساتھ چین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رہیں گے۔
چینی وزارت تجارت کے ترجمان ہی یاڈونگ نے جمعرات کو کہا کہ ملک کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے باوجود وینزویلا کے ساتھ چین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رہیں گے۔ یاڈونگ نے یہ اعلان باقاعدہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے تسلط پسندانہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہیں، وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور لاطینی امریکہ میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
یاڈونگ نے زور دیا کہ چین اور وینزویلا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون خودمختار ممالک کے درمیان تعاون ہے۔ اسے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے قوانین کے ذریعے بھی تحفظ حاصل ہے اور کسی دوسرے ملک کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین نے لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کرتے ہوئے ہمیشہ برابری اور باہمی فائدے کے اصولوں پر عمل کیا ہے۔ اس نے کبھی اثر و رسوخ کی تلاش نہیں کی اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے کہا کہ’’اقتصادی باہمی انحصار چین- لاطینی امریکہ کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر کام کرتا ہے، جس کی خصوصیت کھلے پن، جامعیت اور جیت کے نتائج پر مشتمل ہے۔‘‘ ترجمان نے مزید کہا کہ چین لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے عالمی تبدیلیوں کا جواب دینے کے لیے کام جاری رکھے گا، برابری کی بنیاد پر اقتصادی اور تجارتی تعاون جاری رکھے گا اور باہمی فائدے حاصل کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار کی ’’بھوت بنگلہ‘‘ ۱۵؍ مئی کو ریلیز ہوگی
میکسیکو نے کیوبا کو تیل کی ترسیل میں اضافہ نہیں کیا: صدر شینبام
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے کہا ہے کہ وینزویلا کی صورت حال کے درمیان بھی انہوں نے کیوبا کو تیل کی ترسیل میں اضافہ نہیں کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے بدھ کو کہا کہ وینزویلا میں رونما ہونے والے تازہ حالات کے دوران بھی میکسیکو کیوبا کو تاریخی سطح سے زیادہ تیل نہیں بھیج رہا۔
شینبام نے یہ بات اپنی روزانہ کی صبح کی پریس کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہی کہ آیا وینزویلا کی تازہ صورتِ حال کے بعد میکسیکو جزیرے (کیوبا) کو تیل فراہم کرنے والا اہم ملک بن گیا ہے۔ خاص طور پر اس امریکی پابندی کے بعد جو وسط دسمبر سے وینزویلا سے تیل کی برآمدات پر عائد کی گئی ہے اور اسی دوران امریکی فوج نے صدر نکولس مادورو کو گرفتار بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ ۵؍ وکٹوں سے جیت کر ایشیزسیریز اپنے نام کر لی
شینبام نے واضح کیا کہ ہم کیوبا کو اتنا ہی تیل بھیج رہے ہیں جتنا کہ پہلے بھیجتے رہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ وینزویلا کی موجودہ صورت حال کے باعث میکسیکو اب ایک اہم تیل فراہم کنندہ بن چکا ہے، پہلے یہ مقام وینزویلا کا تھا۔ میکسیکو کی صدر نے مزید کہا کہ سالوں سے میکسیکو مختلف وجوہ کی بنا پر کیوبا کو تیل فراہم کرتا رہا ہے، کبھی معاہدوں کی بنیاد پر اور کبھی انسانی امداد کے طور پر بھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اب میکسیکو کیوبا کو زیادہ مقدار میں تیل فراہم کرے گا، تو انہوں نے جواب دیایہ وہی حصہ ہے جو معاہدے کا ہے اور انسانی امداد کا بھی، جیسا کہ پہلے بھی فراہم کیا جاتا رہا ہے۔