آنے والا وقت ۱۹۹۱ء کے بحران سے بھی زیادہ سخت ہے

Updated: July 25, 2021, 10:32 AM IST | New Delhi

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان کے ذریعے کی گئیں معاشی اصلاحات کے ۳۰؍ سال مکمل ہونے پر کہا کہ ان اصلاحات کی وجہ سے ملک کھربوں ڈالرس کی معیشت بنا لیکن اب کووڈ نے معیشت کی کمر توڑ دی ہے ، موجودہ حالات کو سنبھال نہ پانے پر مودی حکومت کو نشانہ بھی بنایا ، صحت اور تعلیم کو ترجیح دینے کا مطالبہ

Former Prime Minister Dr. Manmohan Singh who has warned the government on the economy.Picture:PTI
سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جنہوں نے معیشت پر سرکار کو وارننگ دی ہے تصویرپی ٹی آئی

سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کے معاشی بحران ، موجودہ حکومت کی کارکردگی اورمعیشت کے حالات پر تفصیلی بیان جاری کیا اور یہ وارننگ دی کہ آنے والا وقت معیشت کے لئے ۱۹۹۱ء کے بحران سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے ابھی سے اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ حالات بہت برے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ تین دہائی قبل ملک کے سامنے جو معاشی بحران تھا،اسی کے سبب شروع ہونے والے لبرلائزیشن کے عمل کے بعد ملک نے قابل افتخار  معاشی ترقی کی لیکن آنے والا وقت ،زیادہ سخت ہے لہٰذا یہ وقت خوشی اور جشن  منانےکا نہیں بلکہ سامنے کھڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے خود احتسابی کا ہے۔ 
 ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے ملک میں تین دہائی قبل شروع  کی گئیں معاشی اصلاحات کے ۳۰؍سال مکمل ہونے کے موقع پر یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ۳۰؍سال قبل ۱۹۹۱ء  میں کانگریس پارٹی کی قیادت میں ملک نے معیشت میں اصلاحات کی اہم شروعات کرکے نئی معاشی پالیسی شروع کی تھی۔ اس کے بعد کی حکومتوں نے  اسی پالیسی کو برقرار رکھا جس کی وجہ سےملک کو تین کھرب ڈالر کی معیشت کی طرف لے جانے کے  لئے جو راہ تیار کی گئی تھی اس پر مسلسل پیش رفت جاری رہی اور ملک کھربوں ڈالرس کی معیشت میںتبدیل ہوا لیکن اب حالات غیر متوقع  طور پر دگرگوں ہو گئے ہیں۔ 
 سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مسلسل آگے بڑھنے والی ہماری معیشت کو کووڈ  وبا نے ہر چند کہ تباہ کیا ہے لیکن اس کی شروعات کووڈ سے قبل ہی ہو گئی تھی اور تبھی معیشت میں سستی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ اس سے ملک کے کروڑوں باشندوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔ ان کی ملازمتیں گئی ہیں، بے روزگاری بڑھی ہے اور صحت کے شعبے میں بھی زبردست نقصان ہوا ہے۔ اس کے سبب ملک ، صحت اور تعلیم کے شعبے میں پچھڑ گیا ہے اور لاتعداد افراد کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ 
 منموہن سنگھ نے کہا کہ ان معاشی اصلاحات کا سب سے بڑا فائدہ  یہ  ہوا تھا کہ اس دوران ملک کے تقریباً ۳۰؍کروڑ افراد کو غریبی سے باہر نکالنے کا موقع ملا اور کروڑوں نوجوانوں کے  لئے نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ دنیا کی کئی اہم کمپنیوں نے ہندوستان کا رخ کیاجس کےسبب ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر رفتار ملی اور ملک کئی شعبوں میں عالمی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اسی رفتار اور ترقی کی وجہ سے ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ ملک کی شرح نمو ۱۰؍ فیصد تک پہنچ گئی تھی ۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ سامنے کھڑے چیلنجز کے پیش نظر ، معاشی اصلاحات سے ملی حصولیابیوں پر خوشی اور جشن منانے کے بجائے آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے  لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی اور جشن کا نہیں بلکہ خوداحتسابی اور غور کرنے کا وقت ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں ایسا کیا ہوا کہ ملک کی معیشت پوری طرح سے پٹری سے اتر گئی اور اب اسے واپس پٹری پر لانے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہو رہی ہے۔   انہوں نے کہا کہ۱۹۹۱ء کے بحران کے مقابلے آگے کی راہ مزید کٹھن ہے۔ ملک کے بطور ہماری ترجیح ہر باشندے کے  لئے ایک صحت مند اور پر وقار زندگی یقینی بنانا ہے۔  
  ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہ واضح کیا کہ ۱۹۹۱ءمیں وزیر خزانہ کے طور پر اپنے بجٹ کی تقریر ختم کرنے سے قبل میں نے وِکٹرہیوگو کو نقل کرکے کہا تھا کہ ’’زمین پر ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو اس فکر کو روکے جس کے پایۂ تکمیل کے پہنچنے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘   ۳۰؍سال بعد ایک ملک کے طور پر ہمیں رابرٹ فراسٹ کی نظم کے ان اشعار کو یاد رکھنا چا ہئے کہ’’لیکن مجھے اپنے وعدے کو نبھانا ہے اور سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے۔‘‘ 
 سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب وہ ملک  کے وزیرخزانہ تھے تو انہوں نے معاشی اصلاحات شروع  کی تھیں لیکن اس کام میں وہ تنہا  نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی میں اپنے کئی معاونین کے ساتھ اس عمل میں کردار ادا کرنے کامجھے موقع ملا۔ ہم نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا اور ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالا۔ گزشتہ تین دہائی میں ہمارے ملک نے زبردست معاشی ترقی  کی ہے اور پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے پر فخر کا احساس ہوتا ہے لیکن آگے کے بارے میں سوچتے ہوئے سوچ لرز جاتی ہے کیوں کہ بہت سخت اور مشکل ترین حالات ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ انہیں تبدیل کرنے کیلئے ابھی سے اقدامات نہیں کئے گئے تو پھر بہت تاخیر ہو جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK