عالمی ادارہ کے تین خصوصی نمائندوں نے ایس آئی آرپر حکومت کو متنبہ کیاکہ یہ بین الاقوامی حقوق انسانی سے متعلق ہندوستان کے عہد کی خلاف ورزی ہے
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 11:17 PM IST | New Delhi
عالمی ادارہ کے تین خصوصی نمائندوں نے ایس آئی آرپر حکومت کو متنبہ کیاکہ یہ بین الاقوامی حقوق انسانی سے متعلق ہندوستان کے عہد کی خلاف ورزی ہے
اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں (اسپیشل ریپورٹرس) نے ہندوستان میں جاری ایس آئی آر کے دوران لاکھوں کی تعداد میں ووٹرس کے نام کٹنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےمتنبہ کیا ہے کہ اس کا مسلمانوں، بنگالی بولنےوالوں اور دیگر اقلیتوں پر غیر متناسب اثر پڑے گا ۔ حکومت ہند کو متنبہ کیاگیاہے کہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ہندوستان کی ذمہ داریوں اور پابندیٔ عہد کی خلاف ورزی کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں حکومت ہند کو یکم مئی ۲۰۲۶ء کو بھیجے گئے اس مکتوب (نمبر : اے ایل- آئی این ڈی-۲۰۲۶/۸) پر اقلیتی امور سے متعلق اقوام متحدہ کےخصوصی نمائندے نکولس لیورت، اظہار رائے کی آزادی کے حق کے فروغ و تحفظ سے متعلق خصوصی نمائندہ آئرین خان اور مذہبی آزا دی کے فروغ اور تحفظ سے متعلق خصوصی نمائندہ نازلہ غنیہ کے دستخط ہیں۔ یہ خط اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اسپیشل پروسیجرس کے تحت حکومت ہند کو بھیجا گیا ہے اوراس پر زور دیا گیاکہ وہ ان الزامات کی جانچ کرے، تفصیلی جواب فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ایس آئی آر کا عمل سیاسی شرکت، عدم امتیاز اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق ہو۔
واضح رہے کہ ایس آئی آر کے تعلق ملک میں اٹھنے والےسوالات، عدالتوں میںقانونی مقدمات ، مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے اعتراضات اور شہری سماج کے شدید اظہار تشویش کے باوجود ملک میں ایس آئی آر تیسرے مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے ۔ ہماچل پردیش، جموں کشمیر اور لداخ کو چھوڑ کر اس متنازع مہم نے اب پورے ملک کا احاطہ کرلیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے حکومت ہند کو بھیجے گئے مکتوب میں ۱۲؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے دوران ۵؍ کروڑ ۲۰؍ لاکھ نام حذف کئے گئے جانے کا حوالہ دیاگیاہے جن میں صرف مغربی بنگال سے۹۱؍ لاکھ نام شامل ہیں۔ مکتوب بھیجنے والے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے نشاندہی کی ہے جن لوگوں کے نام کاٹے گئے ہیں ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس درست شناختی دستاویزات موجودتھے مگر انہیں ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ بنگال میں ’’منطقی تضاد‘‘ کے نام پر بڑے پیمانے پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیاگیاہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بھیجے گئے مکتوب میں اس بات پر خاص تشویش کااظہار کیاگیا ہے کہ ووٹر لسٹ پر خصوصی جامع نظرثانی کی اس مہم سے مسلم ووٹر بطور خاص متاثر ہورہے ہیں۔اس کیلئے انہوں نے مغربی بنگال کے نندی گرام اسمبلی حلقے کی مثال پیش کی ہے جہاں الزام ہے کہ حذف کئے گئے ناموں میں سے ۹۵؍ فیصد نام مسلم ووٹرس کے ہیں جبکہ یہاں کی ووٹرس لسٹ میں مسلم ووٹرس کا تناسب۲۵؍فیصد ہی ہے۔ جن کے نام کاٹے گئے ان میں ایسے مرد، خواتین اور معمر شہری شامل ہیں جن کے پاس درست شناختی کارڈس موجود ہیں۔
عالمی ادارہ کے ’کمیونی کیشن‘ میں مزید کہا گیا ہے کہ نام کٹنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر سپریم کورٹ نے۶؍ اپریل۲۶ء کے اپنے فیصلے میں ایس آئی آر پر روک لگانے سے انکار کر دیا جبکہ الیکشن کمیشن اس سلسلے میں کوئی دلیل سننے یا ماننےکو تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے ووٹرس کو دہری مار پڑ رہی ہے۔