Updated: July 10, 2026, 10:04 PM IST
| Kohima
ناگالینڈ کے اشرف رحمان کو ورلڈ لااسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے بین الاقوامی مباحثے کا جج مقرر کیا گیا ہے،جو ان کے تعلیمی اور عوامی پالیسی کیریئر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔اس تقرر کو ناگالینڈ اور شمال مشرق کے لیے ایک قابلِ ذکر کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی تعلیمی اور پالیسی پلیٹ فارم پر خطے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پالیسی محقق، کالم نگار اور عوامی مقرر اشرف رحمان۔ تصویر: ایکس
ناگالینڈ سے تعلق رکھنے والے پالیسی محقق، کالم نگار اور عوامی مقرر اشرف رحمان کو ورلڈ لا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (WLSA)بین الاقوامی مباحثہ کے لیے جج مقرر کیا گیا ہے، جو ان کے تعلیمی اور عوامی پالیسی کیریئر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔اس تقرر کو ناگالینڈ اور شمال مشرق کے لیے ایک قابلِ ذکر کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی تعلیمی اور پالیسی پلیٹ فارمز پر خطے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران، رحمان نے عوامی پالیسی، طرز حکومت ،نوجوانوں کی ترقی اور اسٹریٹجک امور کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔ ان کے مضامین اور تحقیق قومی اور بین الاقوامی جرائد اور پلیٹ فارم پر شائع ہوئے ہیں، جن میں ’’فورم فار انٹیگریٹڈ نیشنل سیکیورٹی ‘‘(FINS)، دی اوبزرور پوسٹ،’’ جرنل آف ڈیولپمنٹ پالیسی اینڈ پریکٹس، ریویو آف پروفیشنل مینجمنٹ‘‘، مین اسٹریم ویکلی اور دی پالیسی ایج شامل ہیں۔ ان کا کام زیادہ تر گورننس، قومی سلامتی، ترقی اور عصری سماجی و سیاسی مسائل پر مرکوز رہا ہے۔ علاوہ ازیں تحقیق اور تحریر کے رحمان نے مباحثوں، عوامی تقریری تقریبات اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ لیا ہے، جس نے گورننس، قانون، عوامی انتظامیہ اور پائیدار ترقی پر ہونے والی گفتگو میں تعاون کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایودھیا: مجوزہ مسجد منصوبہ مسلم برادری کی عدم دلچسپی کی وجہ سے محدود کر دیا گیا
بعد ازاں۲۰۲۳ء میں انہیں گرین انٹرنیشنل فیلوشپ کے لیے منتخب کیا گیا، جو ایک پروگرام ہے جو پائیداری اور عوامی پالیسی میں کام کرنے والے ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ اسی سال، انہوں نے نارتھ ایسٹ یوتھ لیڈرز کونکلیو میں بھی شرکت کی، جو یورپی یونین کی معاونت سے چلنے والا ایک اقدام ہے جو شمال مشرقی ہندوستان کے نوجوان لیڈروں کے درمیان قیادت، جمہوری فعالیت اور علاقائی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ اپنے تقرر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، رحمان نے کہا کہ یہ ان کے سفر میں ایک اہم لمحہ ہے اور مباحثے اور عوامی گفتگو کے لیے برسوں کی لگن کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا،’’میں نے اپنے مباحثے کا سفر ایک اسکول کے طالب علم کے طور پر شروع کیا۔ بین الاقوامی مباحثے کا جج مقرر ہونا میرے لیے ایک بامعنی سنگ میل ہے۔ یہ مباحثے، تحقیق اور عوامی گفتگو کے لیے برسوں کی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: متنازع موا د کی تلاش، اسکولوں کو تمام کتابوں کی اسکریننگ کا حکم
ذہن نشین رہے کہ ڈبلیو ایل ایس اے بین الاقوامی مباحثہ کا انعقاد۲۱؍ جولائی۲۰۲۶ء کو ہوگا، اور اس میں متعدد ممالک کے شرکاء کے عصری قانونی اور عوامی پالیسی کے مسائل پر مباحثہ کرنے کے لیے اکٹھا ہونے کی توقع ہے۔جبکہ بحیثیت جج،اشرف رحمان قانونی استدلال، تجزیاتی سوچ، دلائل کے معیار اور پیشکش کی مہارتوں کی بنیاد پر مقابلہ کرنے والوں کا جائزہ لیں گے۔