تنبیہ اورجارح بیانات کےدرمیان امریکہ اورروس کا جنوری میں یوکرین اور دیگرمعاملات پر باہمی مذاکرات

Updated: December 29, 2021, 7:50 AM IST | Washington

امریکہ اور روس نے طے کیا ہے کہ دونوں ممالک یوکرین کے مسئلے سمیت تمام دفاعی معاملات پر جنوری میں مذاکرات کریں گے۔وہائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکوریٹی کونسل کے ترجمان نےمیڈیا کو بتایا

Ukrainian military personnel stationed on the border (Photo: Agency)
سرحد پر تعینات یوکرین کے فوجی اہلکار ( تصویر: ایجنسی)

امریکہ اور روس نے طے کیا ہے کہ دونوں ممالک یوکرین کے مسئلے سمیت تمام دفاعی معاملات پر جنوری میں مذاکرات کریں گے۔وہائٹ ہاؤس میں نیشنل سیکوریٹی کونسل کے ترجمان نےمیڈیا کو بتایا کہ دونوں ممالک کے وفود ۱۰؍ جنوری کو ملیں گے جس کے بعد۱۲؍جنوری کو روس اور نیٹو اتحاد جبکہ ۱۳؍جنوری کو امریکہ، روس اور یورپی ممالک کے وفود کے مابین بات چیت ہو گی۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’’جب ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے تو روس بھی اپنے تحفظات رکھے گا اور ہم بھی روس کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کریں گے۔‘‘
 اُن کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات پر پیش رفت ہو سکتی ہے جبکہ بعض معاملات پر اختلافِ رائے ہو گا اور اسے ہی سفارتکاری کہتے ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ یوکرین کے حوالے سے صدر بائیڈن کی سوچ واضح اور غیر مبہم ہے۔ صدر بائیڈن یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ روس، یوکرین تنازع کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔ لیکن اگر روس نے یوکرین میں مداخلت کی تو اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  واضح رہے کہ حالیہ عرصے میں یوکرین کی سرحد کے قریب روسی افواج کی نقل و حرکت پر امریکہ اور یورپی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔جغرافیائی لحاظ سے روس اور یورپی یونین کی سرحد کے قریب واقع ملک یوکرین سابق سوویت یونین کا ہی حصہ تھا۔البتہ روس یوکرین پر روس کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا اور اس کے بعد سے ہی روسی حمایت یافتہ جنگجو گروپ اور یوکرینی فوج کے درمیان وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔خیال رہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک روسی افواج کی یوکرین کی سرحد کے قریب بڑھتی ہوئی نقل و حرکت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق رواں ماہ ہزاروں روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات کئے گئے ہیں۔امریکہ اور یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ادھر جی ۷؍ ممالک نے رواں ماہ روس کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی افواج یوکرین میں داخل ہوئیں تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔البتہ روس کے صدر ولادی میر پوتن ایسے کسی بھی منصوبے کی تردید کرتے ہوئے یہ ضمانت طلب کر رہے ہیں کہ یوکرین کو نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا اور نیٹو ممالک اس کی سرحد کے قریب جنگی مشقیں بھی روک دیں۔
 ولادیمیر پوتن کی تنبیہ 
  مذاکرات کے اعلان کے دوران روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ’’ اگر مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحانہ رویہ اختیار کیا تو ہم بھرپور جوابی وار کریں گے۔ اطلاع کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک نیٹو کی یوکرین میں جارحیت کو روکنے کیلئے سلامتی کی ضمانتوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بہت سے آپشن پر غور کریں گے۔صدر ولادیمیر پوتن نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے تیزی سے کام کریں۔
 روسی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحانہ رویہ جاری رکھا تو فوجی کارروائی کریں گے جس کیلئے فوجی قیادت سے مشورہ کریں گے۔اس ماہ کے آغاز  میں روس نے سیکوریٹی دستاویزات کے مسودے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیٹو یوکرین سمیت دیگر سابق سوویت ممالک کو رکنیت نہ دے اور وسطی و مشرقی یورپ میں تعینات اپنے فوجیوں کو واپس بلائے۔

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK