Inquilab Logo Happiest Places to Work

اہلِ ایران کا عدیم المثال اتحاد ، القدس ریلیاں

Updated: March 13, 2026, 11:12 PM IST | Tehran

پورے ایران میں یوم القدس پر زبردست ریلیاں نکالی گئیں، ہزاروں افراد کی شرکت ، تہران میں فضائی حملہ بھی ہوا مگر عوام بے خوف

An airstrike occurred during a rally in Tehran, but the participants did not fear or retreat, but instead raised the slogan of Takbir. (Photo: Agency)
تہران میں ریلی کے دوران فضائی حملہ ہوا لیکن شرکا ء نہ ڈرے ،نہ پیچھے ہٹے بلکہ نعرہ تکبیر بلند کردیا۔(تصویر: ایجنسی )

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہر رمضان کے چوتھے جمعہ یا الوداع جمعہ کو منایا جانے والا ’یوم القدس ‘ اس مرتبہ ایران میں اہل ایران کی ہمت ، جوانمردی، جانفشانی اور جرأت کی عدیم المثال مثال قائم کرگیا۔  جمعہ کی صبح سویرے ایران کے ۹۰۰؍ سے زائد شہروں اور دیہاتوں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور یوم القدس ریلیوںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ایران کے بیشتر علاقوں میں ہونے والے  بارش   کے باوجود اہل ایران کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ کئی شہروں کی فضا میں’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے گونج رہے تھے۔دارالحکومت تہران میں، جو مظاہروں کا مرکز تھا، لوگ شہر کے دس مختلف راستوں سے مارچ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف تہران کی طرف جمع ہوئے۔ یہاں تو لوگوں کا جوش اور ان کی ہمت قابل تقلید تھی کیوں کہ تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے بھی جاری تھے۔ ان حملوں کے درمیان یہاں کے لوگ نے ڈرے اور نہ خوفزدہ ہوئے بلکہ وہ دیوانہ وار بڑھتے رہے جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو کچھ وقت کیلئے خود ہی بمباری روک دینی پڑی۔
 تہران میں مظاہرین کے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم، مرحوم امام خمینی کی تصاویر اور حال ہی میںشہید کئے گئے سپریم لیڈر آیت اللہ   خامنہ ای کے پورٹریٹ تھے۔سرد موسم اور شدید بارش کے باوجود شرکاء کے حوصلے بلند رہے۔ انہوں نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن میں ایران پر مسلط کی گئی امریکی جنگ اور فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے ۷۸؍ برس کی مذمت کی گئی تھی۔ 
 مظاہروں کے دوران تہران میں ماحول انتہائی جوش و خروش سے بھرپور تھا۔ جب دشمن کے فضائی حملوں  یا دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتیں تو ہجوم ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعروں سے جواب دیتا، گویا وہ ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہوں۔قومی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ کندھے سے کندھا ملا کر مارچ کرتے نظر آئے۔ یہ اجتماعات نہ صرف صہیونی مظالم کے خلاف احتجاج تھے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگی پالیسیوں کے مقابل ایران کے عزم کی علامت بھی تھے۔
 ایران کےشمالی صوبے گلستان میں، جو اپنے نسلی تنوع کے  لئےمشہور ہے، بیک وقت پچاس سے زیادہ ریلیاں نکالی گئیں جن میں شرکاء نے ’’مجرم صہیونی حکومت‘‘ اور اس کے امریکی سرپرستوں کے خلاف نعرے لگائے۔ اسی طرح جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان میں زابل شہر میں تقریباً پچاس ہزار افراد جمع ہوئے جبکہ مغربی شہر کرمان شاہ میں بارش کے باوجود سڑکیں مظاہرین سے بھر گئیں۔مقدس شہر مشہد میں بھی ہزاروں افراد خرداد اسکوائر اور شہید اسکوائر پر جمع ہو چکے تھے اور مسلسل نعرے بازی کررہے تھے جو ایرانی قوم کے مزاحمت کے گہرے جذبے کی عکاسی کر رہا تھا۔

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK