Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اسرائیل جنگ شدت اختیار کر گئی، میزائل حملے اور بیانات تیز

Updated: March 13, 2026, 9:06 PM IST | Tel Aviv

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں حالیہ دنوں میں میزائل حملوں اور فضائی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامننیتن یاہو کی پریس کانفرنس کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے باعث وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے جس کے بعد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

Residents inspect a destroyed house in an Israeli settlement after a Hezbollah attack. Photo: PTI
حزب اللہ کے حملے کے بعداسرائیل کی ایک بستی میں تباہ شدہ گھر کا معائنہ کرتے رہائشی۔ تصویر: پی ٹی آئی

(۱) نیتن یاہو کی پریس کانفرنس کے وقت ایرانی میزائلوں سے سائرن بج اٹھے
اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی پریس کانفرنس کے دوران اچانک وسطی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے جب ایران کی جانب سے میزائل داغے گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل حملے کے بعد کئی شہروں میں شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی گئی۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ نے متعدد میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم کچھ میزائل زمین کے قریب تک پہنچ گئے جس کے باعث سائرن بجانے پڑے۔ نیتن یاہو نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ ’’اسرائیل اپنی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ایران کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج ایران کی فوجی تنصیبات اور میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کیلئے کارروائیاں جاری رکھے گی۔ 

یہ بھی پرھئے: دشمن پر دبائو ڈالنے کیلئے آبنائے ہرمز بطور ہتھیار استعمال ہو: مجتبیٰ خامنہ ای

(۲) فضائی حملوں کے باوجود ایرانی میزائل لانچرز کی تعداد میں بڑی کمی نہیں
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بھر جاری شدید فضائی حملوں کے باوجود ایران کے میزائل لانچرز کی تعداد میں بڑی حد تک کوئی کمی نہیں آئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کیلئے متعدد حملے کئے گئے، لیکن اس کے باوجود ایران کی میزائل صلاحیت مکمل طور پر متاثر نہیں ہوئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے اپنے میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر پھیلا رکھا ہے اور کئی لانچرز کو زیر زمین یا خفیہ تنصیبات میں رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ایک ماہر کے مطابق ’’ایران نے کئی برسوں کے دوران اپنے میزائل پروگرام کو اس انداز میں تیار کیا ہے کہ اسے مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔‘‘ اس رپورٹ کے بعد بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے تو ایران اب بھی اسرائیل یا خطے میں امریکی مفادات کو میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تیل کے بحران کا اثر، جنوب مشرقی ایشیا میں دفاتر بند اور سفر محدود

(۳) وہ بے گناہ لوگوں کو مارتے رہے ہیں، اب میں انہیں مار رہا ہوں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے سخت بیان دیا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’وہ برسوں سے بے گناہ لوگوں کو مارتے رہے ہیں، اب میں انہیں مار رہا ہوں۔‘‘ ٹرمپ کے اس بیان پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض سیاسی مبصرین نے اسے اشتعال انگیز قرار دیا ہے جبکہ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایران کے خلاف امریکی سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ ان کے مطابق ’’اگر ایران اپنے حملے جاری رکھتا ہے تو امریکہ بھی اپنے دفاع کیلئے مزید سخت اقدامات کرے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK