Updated: March 13, 2026, 10:07 PM IST
| Tehran
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی قیادت کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں جس نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر ’’کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں‘‘، جبکہ ایران کی وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ زخمی ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
(۱) ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں‘‘ اور ایران کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کے پاس ایسی معلومات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ایران کی قیادت موجود ہے اور حالات کو دیکھ رہی ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ وہاں قیادت ختم ہو گئی ہے۔‘‘ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں اور صرف اتنا کہا ہے کہ ملک کی قیادت صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پرھئے: ایران جنگ پر عالمی تنقید تیز، یورپ اور ہندوستان میں شدید ردعمل
(۲) ایران کے نئے سپریم لیڈر زخمی لیکن خیریت سے ہیں: وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے نئے سپریم لیڈر زخمی ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ خیریت سے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ایرانی قیادت مضبوط ہے اور ملک کے معاملات معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے دوران کچھ لیڈروں کو معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ملی تھیں، تاہم صورتحال قابو میں ہے۔ ترجمان کے مطابق ’’ایران کے سیاسی اور عسکری ادارے پوری طرح فعال ہیں اور کسی بھی قسم کی قیادت کے خلا کی بات درست نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سابق اسرائیلی وزیراعظم کی ترکی کو دھمکی، ایران کے بعد ہم بیکار نہیں بیٹھیں گے
(۳) ایران جنگ دوبارہ مسلط نہ ہونے کی ضمانت چاہتا ہے: نائب وزیر خارجہ
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران مستقبل میں ایسی جنگ دوبارہ مسلط نہ ہونے کی واضح ضمانت چاہتا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی ضروری ہے کہ ایران پر دوبارہ فوجی حملے نہیں کئے جائیں گے۔ نائب وزیر خارجہ کے مطابق ’’ہم ہمیشہ سفارتی حل کے حامی رہے ہیں، لیکن ہمارے ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عالمی برادری واقعی خطے میں استحکام چاہتی ہے تو اسے جنگی کارروائیوں کو روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے جس میں خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کی ضمانت شامل ہو۔