امریکہ کا چین کو ’سیمی کنڈکٹرس‘ فراہم نہ کرنے پر غور

Updated: September 14, 2022, 1:25 PM IST | Agency | Washington

بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کئی اہم کمپنیوں کے نام خطوط جاری ،چینی کمپنیوںکو چپس اور سیمی کنڈکٹرس فراہم کرنے کیلئے نئی شرائط، بہت جلد قانون بھی بنایا جا سکتا ہے

Joe Biden in an attempt to deal another blow to the Chinese economy .Picture:Agency
جو بائیڈن چینی معیشت پر ایک اور ضرب لگانے کی کوشش میں( فائل فوٹو) ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ جہاں  سیمی کنڈکٹرس اور چپس کی کمی کے سبب کاروں کی تیاری میں رکاوٹ آ رہی تھی ، وہ اب کوشش کر رہا ہے کہ چین کو سیمی کنڈکٹرس فراہم نہ کرے۔ یاد رہے کہ کورونا وائرس کے بعد سے امریکہ میںسیمی کنڈکٹرس اور چپس کی کمی کے سبب  کارسازی کی صنعت متاثرہوئی تھی جس کی وجہ سے کاروں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔  کچھ عرصہ قبل ہی جو بائیڈن نے سیمی کنڈکٹرس بنانے والی کمپنیوں کو سبسیڈی دینے کا اعلان  کیا تھا۔ لیکن اب بائیڈن انتظامیہ نے کئی اہم کمپنیوں کے نام خطوط جار کیا ہے جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چین کو سیمی کنڈکٹرس فراہم نہ کریں۔   حالانکہ  فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پابندی کس طرح کی ہوگی اور اگر اس تعلق سے کوئی نیا قانون یا ضابطہ عائد ہوتا ہے تو اس کی کیا صورت ہوگی لیکن  اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ واشنگٹن کے کامرس ڈپارٹمنٹ نے ۳؍ اہم کمپنیوں کو خطوط جاری کئے ہیں۔  نیوڈیا کارپوریشن ، ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائس اور  سیریبراس ، وہ کمپنیاں ہیں جنہیں خطوط کی شکل میں ہدایتیں موصول ہوئی ہیں۔ ایک امریکی نیوز ایجنسی کے مطابق ان کمپنیوں نے ان خطوط کے ملنے کا اعتراف کیا ہےجن میں لکھا ہے کہ وہ  یہ کمپنیاں جب تک کامرس ڈپارٹمنٹ سے لائسنس نہ حاصل کرلیں تب تک وہ چینی فیکٹریوں کو چپ سازی کا سامان برآمد نہ کریں ۔ خاص کر ایسے پرزے جو ۱۴؍ نینو میٹر کے عمل سے تیار کئے جاتے ہیں۔  یاد رہے کہ امریکہ میں اس طرح کی کوئی بھی پابندی انہیں کمپنیوں پر نافذ ہوتی ہیں جنہیں انتظامیہ کی جانب سے تحریری ہدایت موصول ہو۔ فی الحال کامرس ڈپارٹمنٹ نے انہی ۳؍ کمپنیوںکو خطوط روانہ کئے ہیں۔   دراصل اس طرح کے خطوط کا مطلب ہوتا ہے کہ کامرس ڈپارٹمنٹ باقاعدہ طور پر کوئی قانون نافذ نہیں کر رہا ہے بلکہ اس نے متعلقہ کمپنی کو بس ہدایت جاری کی ہے۔ قوی امکان ہے کہ بائیڈن انتظامیہ بہت جلد اس تعلق سے کوئی باقاعدہ قانون  منظور کرنے کا عمل شروع کرے۔  یاد رہے کہ چین سستی گاڑیاں بنانے کے معاملے میں سب سے آگے ہے جبکہ امریکہ گزشتہ دنوں اپنی  سیمی کنڈکٹرس کی کمی کے سبب اپنی مہنگی گاڑیوں کے داموں پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ چین کو معاشی طور پر زچ کرنے کے سبب اس طرح کے اقدامات کر رہا ہو۔  اطلاع کے مطابق خطوط میں جو ہدایات جاری کی گئی ہیں بہت جلد انہی کو قانون کی شکل دی جا سکتی ہے اور  دیگر کمپنیوں کو بھی ان ہدایات پر عمل کرنے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔  اگر قانون بنایا گیا تو اس میں کمپنیوں پر شرائط عائد کرنے کے علاوہ چین پر بھی کئی پابندیاں لگائی جائیں گی۔    اس تعلق سے مختلف کمپنیوں کا رویہ مختلف ہے۔ چپس بنانے والی مشہور کمپنی انٹیل نے کہا کہ وہ حالات پر نظر بنائے ہوئے ہے اور بہت جلد اس تعلق سے کوئی اہم فیصلہ کرے گی۔ جبکہ سیریبرا س ( جو ان کمپنیوں میں شامل ہے جنہیں خط موصول ہوا ہے) نے اس معاملے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔  امریکہ کے محکمہ ٔ تجارت نے بھی اس تعلق سے کوئی بیان دینے سے منع کر دیا۔ دراصل بائیڈن انتظامیہ اس معاملے کو کسی بھی طرح چین سے مقابلہ آرائی اور رقابت کا رنگ نہیں دینا چاہتا۔  البتہ محکمۂ تجارت کے ترجمان نے  اس بات کا اعادہ ضرور کیا کہ محکمہ امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے تحفظ کیلئے اضافی اقدامات کرنے کیلئے ایک جامع طریقہ اختیار کر رہا ہے، جس میں فوج کو جدید بنانے کیلئے استعمال ہونے والی   امریکی ٹیکنالو جی کے حصول سے چین کو روکنا بھی شامل ہے۔  یاد رہے کہ ان پابندیوں کا اثر چین میں کاروں کی مینوفیکچرنگ پر پڑے گا اور کاروں کے دام میں بھی اضافہ ہوگا جو کہ امریکہ چاہتا ہے لیکن جیسا کہ اب تک دیکھا گیا ہے چین کے پاس ہمیشہ پلان ’بی‘ موجود ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق  امریکی اقدام کے سبب بیجنگ اور واشنگٹن  کے درمیان چپقلش بڑھ جائے گی اور اس کا اثر دیگر شعبوں پر بھی پڑے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK