امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فون پر کھری کھری سنائی ، لبنان سے فوج فوراً واپس بلانے کا حکم دیا ،یاہو کو ’’پاگل ‘‘ تک قرار دے دیا
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 8:55 AM IST | Washington
امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فون پر کھری کھری سنائی ، لبنان سے فوج فوراً واپس بلانے کا حکم دیا ،یاہو کو ’’پاگل ‘‘ تک قرار دے دیا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران کے ساتھ جاری امن مذاکرات اور ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے لئے خلیجی ممالک پر امریکہ کے دباؤ کے درمیان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم یتن یاہو کو کھری کھری سنائی ہے۔ اصل میں اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ امریکی معاہدہ کو درکنار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لبنان پر حملہ کرنے اور وہاں فوج بھیجنے کا اعلان کردیا تھا ۔ نیتن یاہو نے اپنی فوج کا ایک حصہ وہاں روانہ بھی کردیا تھا لیکن ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ پر واضح کردیا کہ اگر اسرائیل ایسی کوئی حرکت کرے گا تو ایرانی لیڈر شپ کوئی معاہدہ نہیں کرے گی اور لبنان کی حفاظت کیلئے دوبارہ حملے شرو ع کردے گی۔
رپورٹس کے مطابق یہ سننا تھا کہ ٹرمپ کو احساس ہو گیا کہ نیتن یاہو کتنی بڑی حماقت کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر نیتن یاہو کو فون ملایا اور انہیں کافی سخت سست کہا ۔ ٹرمپ نے انہیں پاگل تک قرار دے دیا اور یہ بھی واضح کردیا کہ امریکی سرپرستی کی وجہ سے ہی نیتن یاہو اب تک جیل نہیں گئے ہیں ورنہ ان کی اصل جگہ تو جیل کی کال کوٹھری ہے۔ٹرمپ نے لبنان سے اسرائیلی فوج فوراً واپس بلانے کا حکم دیا اور نیتن یاہو پر یہ بھی واضح کیا کہ ان کی انہی حرکتوں کی وجہ سے آج پوری دنیا اسرائیل سے سخت نفرت کرتی ہے۔ اسرائیل کے خلاف اگر پوری دنیا میں رائے عامہ ہموار ہو رہی ہے تو اس کی وجہ نیتن یاہو ہی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’دی ٹروتھ‘ پر اس کے بعد بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم یتن یاہو کے ساتھ نتیجہ خیز گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب بیروت میں کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی۔ مزید برآں جو فوجی راستے میں تھے، ان کو واپس بلا لیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ذریعہ حزب اللہ کے ساتھ بھی ایسی ہی اچھی بات چیت کی اور انہوں نے مکمل جنگ بندی پر اتفاق کیا، یعنی اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا۔ نہ ہی وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ان کی بہت اچھی ڈیل ہونے والی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران حقیقی معنوں میں معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اسی لئے ہم کسی کو بھی اس ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم معاہدہ چاہتے ہیں۔