امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کا معاہدہ آئندہ ہفتے متوقع ہے، ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ عمل پیچیدہ ہے، جس میں ایک بڑی طاقت شامل ہے، اور سفارت کاری مشکل مگر زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 02, 2026, 6:03 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کا معاہدہ آئندہ ہفتے متوقع ہے، ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ عمل پیچیدہ ہے، جس میں ایک بڑی طاقت شامل ہے، اور سفارت کاری مشکل مگر زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر ’’اگلے ہفتے‘‘ دستخط ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدہ فوجی فتح سے بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ عمل پیچیدہ ہے، جس میں ایک بڑی طاقت شامل ہے، اور سفارت کاری مشکل مگر زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتی ہے۔ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ آج ایک چھوٹی سی رکاوٹ آئی تھی، جسے انہوں نے فوری طور پر دور کر دیا۔ یہ رکاوٹ اس وجہ سے تھی کہ ایرانی اسرائیل کے لبنان پر حملوں سے پریشان تھے۔ ٹرمپ نے حزب اللہ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو دونوں سے بات کر کے فوری طور پر فائرنگ بند کروائی۔
یہ بھی پڑھئے: گفتگو کے دوران ایران پر امریکہ کا فضائی حملہ
دریں اثناء ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے معاہدہ ابھی منظور نہیں کیا کیونکہ مزید کچھ نکات طے کرنا باقی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیروت میں کوئی فوجی نہیں جائیں گے، اور جو راستے میں تھے، انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔لبنان نے پیر کو بتایا کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جس کے تحت جنوبی بیروت پر حملے بند ہونے کے بدلے حزب اللہ اسرائیل پر حملے بند کر دے گا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر دراندازی کی ، اور بیروت پر قبضے کا عندیہ دیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر حملے کی دھمکی دی تھی، جس کےبعد ٹرمپ نے متحرک کردار ادا کرتے ہوئے اسرائیل سے بیروت کی جانب پیش قدمی سے بازرہنے کو کہا۔