• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ عمر ،شرجیل ضمانت کے فیصلے میں کئی تضاد ہیں ‘‘

Updated: January 07, 2026, 1:36 PM IST | New Delhi

ماہرین قانون کے مطابق ۵؍ سال تک مقدمہ چلانے میں تاخیر کو بنچ نے تسلیم تو کیا لیکن اسے آئینی ناکامی نہیں مانا ،ٹھوس ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باوجود ضمانت نہیں دی

Questions are being raised over the Supreme Court`s decision not to grant bail. (Photo: PTI)
سپریم کورٹ کے ضمانت نہ دینے کے فیصلے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔(تصویر: پی ٹی آئی )

 معروف طلبہ لیڈر اور پی ایچ ڈی  اسکالرس  عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین قانون اس فیصلے میں کئی تضادات کا حوالہ بھی دے  رہے ہیں اور افسوس ظاہر کررہے ہیں کہ جسٹس انجاریا اور جسٹس اروند کمار کی  بنچ نےآئینی طور پر لازم  باتوں کو تسلیم کیا لیکن دونوں ملزمین کو ضمانت نہیںدی۔ 
دشینت دوے نے کیا کہا ؟
 سپریم کورٹ کی بار اسوسی ایشن کے سابق صدر اور ملک کے ماہر قانون داں دشینت دوے نے معروف صحافی کرن تھاپر کے ساتھ انٹر ویو میں کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دے کر سپریم کورٹ نے غلطی کی ہے۔آئین کے مطابق اور خود یو اے پی اے کے تحت انہیں ضمانت مل جانی چاہئے تھی ۔جسٹس اروند کمار  اور جسٹس انجاریا کا میں تہہ دل سے احترام کرتا ہوں مگر انہوںنے خود اپنے ساتھ بھی نا انصافی کی  اور سپریم کورٹ کے وقار کو بھی پامال کیا ۔مجھے یہ دیکھ کر بڑی تشویش ہوتی ہے کہ آج ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ بالخصوص میں دیکھ رہا ہوں کہ جج حضرات مسلم ملزمین کو ضمانت دینے سے ڈرتے ہیں۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ملزمین کب باہر آئیں گے۔
سنجے ہیگڑے کی رائے کیا ہے ؟
  ملک کے سینئر وکلاء میں سے ایک  سنجے ہیگڑے نے کہا کہ دہلی فسادات کیس میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ محض عمر خالد یا شرجیل امام کی قسمت تک محدود نہیں  ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کس حد تک اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہےاور اس کی قیمت کیا ادا کی جائے گی۔اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ طویل عرصے بعد بالآخر زیادہ ترملزمین کو ضمانت مل گئی ہےلیکن اسی کے ساتھ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو راحت نہیں ملی ہے۔ حالانکہ بنچ نے دونوں کو ایک سال بعد دوبارہ عرضی دائر کرنے کی اجازت دی ہے لیکن ۵؍ سال تک بغیر کسی مقدمے کے جیل میں  رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد بھی عدالت نے رفتہ رفتہ اس کی اہمیت کو بے اثر کر دیا۔ عدالت کے مطابق تاخیرکسی قسم کا ٹرمپ کارڈ نہیں  ہے بلکہ محض عدالتی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا ایک محرک ہے۔ دوسرے لفظوں میںپانچ سال تک بغیر ٹرائل کے قید رہنا کوئی آئینی ناکامی نہیں بلکہ ایک انتظامی مسئلہ ہے جو رہائی نہیں بلکہ محض غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی پر ہمیں اعتراض ہے۔ 
پرشانت بھوشن  نے انگلی اٹھائی 
 معروف سماجی کارکن اور سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے پر تو تنقید کی ہے ساتھ کہا کہ جن دیگر ملزمین کو ضمانت دی گئی ہے ان پر بھی اتنی سخت پابندیاں لگادی گئی ہیں کہ ان کی سماجی زندگی بالکل محدود ہو جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ وہ کسی سے کوئی بات نہ کریں اور نا انصافی کے تعلق سے کوئی بیان بھی جاری نہ کرسکیں۔ 
  ڈاکٹر اشوینی کمار کا کیا کہنا ہے ؟
  سابق مرکزی وزیر قانون اور معروف وکیل  ڈاکٹر اشوینی کمار نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا تجزیہ کرتے ہوئے اگرچہ عدالت کا احترام برقرار رکھا لیکن فیصلے سے اختلاف بھی کیا۔ ان کے مطابق ہندوستان کوئی ’ بنانا ریپبلک‘ نہیں ہے جہاں محض چند افراد قومی سالمیت کو نقصان پہنچا دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ آئین کی ’’آزادی پسند روح‘‘ اور آرٹیکل۲۱؍کو طویل قید کے مقابلے میں با لاتر حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔بغیر ٹرائل کے پانچ سال کی قید  ناقابلِ قبول اور غیر انسانی ہے۔عمر خالد نے کبھی بھی تشدد پر اکسانے کی عوامی اپیل نہیں کی۔ اس کے برعکس ان کی وہ تقریر جو بار بار پیش کی  جاتی ہے، اس میں وہ صاف کہتے ہیں کہ ’’ہم نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دیں گے اور تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دیں گے۔‘‘عدالت میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ عمر خالد نے سی اے اے مخالف تحریک کیلئے فنڈنگ کی یا اسلحہ کی ترسیل میں کوئی کردار ادا کیا (یہ الگ بحث ہے کہ اگر ایسا ہوتا بھی تو یہ لازمی طور پر تشدد پر اکسانے کا ثبوت نہیں بنتا۔) جب دہلی کے بعض علاقوں میں فسادات شروع ہوئے تھے تو اس وقت عمر خالد دہلی میں موجود ہی نہیں تھے۔پھر سوال یہ ہے کہ عدالت نے عمر خالد کے خلاف کن شواہد پر انحصار کیا؟ قابلِ غور بات یہ ہے کہ استغاثہ کے تمام اہم گواہ گمنام ہیں۔

  ڈاکٹر اشوینی کمار کے مطابق ان گواہوں کو ’محفوظ گواہ‘ کہا گیا ۔ ان کے بیانات اور گواہیوں کی نوعیت زیادہ تر سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض گواہوں کو دورانِ سماعت ’رومیو‘ اور ’جولیٹ‘ جیسے فرضی نام بھی دیے گئے۔ دفاع نے یہ دلیل دی کہ یہ بیانات ناقابلِ اعتبار ہیں، فسادات کے کافی عرصے بعد ریکارڈ  کئےگئے  اور آپس میں متضاد ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے ان نکات کو نوٹ تو کیا، مگر یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا کہ ان پر غور صرف ٹرائل کے دوران ہی کیا جا سکتا ہے جبکہ ستم ظریقی یہ ہے کہ ٹرائل کا آغاز اب تک نہیں ہوا ہے۔یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر قانونی برادری کے ایک بڑے طبقے کو سپریم کورٹ کی جانب سے عمر خالد کو ضمانت نہ دیے جانے پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔
کئی ماہرین قانون نے  اس پر بھی اعتراض کیا کہ عدالت نے  دونوں کو کم از کم ایک سال تک یا محفوظ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے تک ضمانت کی نئی درخواست دائر  نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل  بنچ نے کہا کہ ایسے معقول اسباب موجود ہیں جن سے یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ خالد کا طرزِ عمل یو اے پی اے کے تحت بادی النظر میں ایک دہشت گردانہ عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ ان تبصروں اور نکات پر کئی قانونی ماہرین نے کہا کہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی شواہد کی جانچ پڑتال میں اس حد تک جانا سپریم کورٹ کی جانب سے ناانصافی کے مترادف ہے۔ چند ماہرین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ یہ فیصلہ دہلی اور بامبے  ہائی کورٹ کے ان فیصلوں کے بالکل برعکس ہے جو۲۰۲۱ء میں آئے تھے، جہاں عدالتوں نے واضح کیا تھا کہ یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت عدلیہ کا کردار محض استغاثہ کے الزامات کی نقل اتارنا نہیں بلکہ ان کی سخت جانچ کرنا ہے، تاکہ لوگوں کو ۱۰؍ یا ۱۵؍  سال تک بغیر فیصلے کے جیل میں نہ رکھا جائے۔ان ہائی کورٹس نے اپنے  فیصلوں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ چونکہ یو اے پی اے میں ضمانت کا معیار غیر معمولی طور پر سخت ہے، اس لیے استغاثہ کے مقدمے کو بھی غیر معمولی سختی سے پرکھا جانا چاہیے۔
عمر خالد کے معاملے میںچاہے وہ ٹرائل کورٹ ہو یا دہلی ہائی کورٹ یہ بات بارہا سامنے آئی کہ ٹھوس اور مخصوص شواہد کی شدید کمی ہے۔ محض تقاریر کرنے اور احتجاجی میٹنگز میں شرکت کو دہشت گردی کے مترادف مان لینا نہ صرف ٹرائل کو متاثر کرتا ہے بلکہ انصاف کے اصولوں کو بھی مجروح کرتا ہے۔ کم از کم عدالت کو یہ تو واضح کرنا چاہیے تھا کہ وہ کس بنیاد پر یہ مان رہی ہے کہ ایک اسکالر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔دہلی ہائی کورٹ کا ایک سابقہ فیصلہ، جس میں عمر خالد کی ضمانت مسترد کی گئی تھی، یو اے پی اے کی نوعیت کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ آئینی ماہر ایڈوکیٹ گوتم بھاٹیہ کے حوالے سے اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یو اے پی اے کے تحت صرف نیت ہی نہیں بلکہ اتحاد و سالمیت کو لاحق خطرے کا امکان بھی کافی ہے، صرف دہشت پھیلانے کی نیت نہیں بلکہ اس کا امکان بھی،صرف آتشیں اسلحہ نہیں بلکہ کسی بھی نوعیت کا کوئی بھی ذریعہ بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔‘‘ قانون کی یہی وہ خطرناک وسعت ہے جو اس قانون کو اختلافِ رائے کے  لئے مہلک بنا دیتی ہےاور یہی وہ نکتہ ہے جس پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے سب سے زیادہ سوالات کھڑے کر د ئیے ہیں۔
اس بات کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بنیاد بنا کر یو اے پی اے کے دیگر معاملات میں بھی تفتیشی ایجنسیاں مقدمہ کی سماعت کےبغیر ہی ملزمین کو غیر معینہ مدت تک جیل میں  رکھنے کی حکمت عملی پر عمل درآمد کی کوشش کریں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK