• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بابر کے نام پر مسجد پر پابندی کی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کردی

Updated: February 20, 2026, 7:10 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے بابر یا بابری مسجد کے نام پر کسی بھی مذہبی ڈھانچے کی تعمیر یا نام رکھنے پر پابندی کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ بنچ کی عدم دلچسپی کے بعد درخواست گزار نے عرضی واپس لے لی۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

جمعہ کو سپریم کورٹ نے اس درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا جس میں مغل بادشاہ بابر یا بابری مسجد کے نام پر کسی بھی مسجد یا مذہبی ڈھانچے کی تعمیر، قیام یا نام رکھنے پر روک لگانے کی ہدایت مانگی گئی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے درخواست قبول کرنے میں عدم دلچسپی ظاہر کی، جس کے بعد عرضی گزار کے وکیل نے درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے ریکارڈ پر درج کیا: ’’خارج کیا گیا، اور اسے واپس لیا گیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’روزگار کے مواقع پیدا کریں، سب کو مفت سہولیات بانٹنا غلط ہے‘‘

عرضی میں کیا مطالبہ تھا؟
درخواست گزار کے وکیل نے ہمایوں کبیر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں بابری مسجد کی نقل تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ ملک میں ’’حملہ آوروں‘‘ کے نام پر مساجد کی تعمیر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ عرضی میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی کہ وہ بابر یا بابری مسجد کے نام پر کسی بھی مذہبی ڈھانچے کی تعمیر یا نام رکھنے پر پابندی عائد کریں اور اس سلسلے میں رہنما خطوط جاری کریں۔

پس منظر: تاریخی فیصلہ
یاد رہے کہ نومبر ۲۰۱۹ء میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ میں تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے ایودھیا میں متنازع مقام پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی اور سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ متبادل زمین الاٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK