بنگال میں این آر سی کے نفاذ کا منصوبہ نہیں، سی اے اے نافذ ہوگا

Updated: April 05, 2021, 11:37 AM IST | Agency | Kolkata

اسمبلی انتخابات کے بیچ کیلاش وجے ورگیہ کو صفائی پیش کرنی پڑی، ٹی ایم سی کی انتخابی مہم سے زعفرانی پارٹی پریشان

Kailash Vijayvargiya. Picture:INN
کیلاش وجے ورگیہ۔تصویر :آئی این این

 مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کو اتوار کو یہ صفائی پیش کرنی پڑی کہ بنگال میں اس کا این آر سی کے نفاذ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔  واضح  رہے کہ انتخابی مہم کے دوران ٹی ایم سی کی جانب سے رائے دہندگان کو متنبہ کیا جارہاہے کہ بی جےپی  اگر  اقتدار میں آئی تو وہ این آر سی  نافذ کرے گی اور اس طرح  بڑی تعداد میں لوگ اپنی شہریت سے محروم ہوجائیں گے۔اس کی وجہ سے الیکشن میں ممکنہ نقصان کے اندیشے کو پیش نظر رکھتے ہوئے  بی جےپی کے جنرل سیکریٹری کیلاش  وجے ورگیہ نے کہا ہے کہ ’’ہم الیکشن کے بعد انتخابی منشور میں  کئے گئے وعدے کے مطابق صرف سی اے اے نافذکرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،ہمارے لئے یہ اہم موضوع ہے اور ہم  مظالم کا شکار ہونے والے  پناہ گزینوں کو شہریت دینا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ’’الیکشن جیت جانے کے بعد بھی ہمارا این آرسی نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘اس تعلق سے ٹی ایم سی کے دعوؤں کو بی جےپی لیڈر نے گمراہ کن قراردیا۔ ممتا بنرجی کی پارٹی پر ’’زعفرانی   محاذ کے خلاف غلط فہمی پر مبنی مہم‘‘ چلانے کا الزام لگاتے ہوئے ۶۴؍ سالہ لیڈر نے حیرت کااظہار کیا کہ ٹی ایم سی سی اے اے کی مخالفت کیوں کررہی ہے جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا اور شہریت ملے گی۔ بی جے پی کا خیال ہے کہ اگر شہریت ترمیمی ایکٹ نافذ ہوتا ہے تو۱ء۵؍کروڑ افراد کو ہندوستانی شہریت ملے گی جن میں۷۲؍لاکھ کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ بی جےپی کی نظر متوا سماج پر ہے  جس نے ۱۹۵۰ء میں نقل مکانی کی تھی اور ۴۰؍ اسمبلی حلقوں میں اثر رکھتا ہے۔ 

bengal Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK