۱۳؍ سال بعد عدالت کا فیصلہ مگر مظلومین انصاف سے محروم ، عدالت نے شواہد کے فقدان کی بنا پر ملزمین کو ’شک کا فائدہ ‘ دیا
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 5:45 AM IST | Muzaffarnagar
۱۳؍ سال بعد عدالت کا فیصلہ مگر مظلومین انصاف سے محروم ، عدالت نے شواہد کے فقدان کی بنا پر ملزمین کو ’شک کا فائدہ ‘ دیا
اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں ۲۰۱۳ء میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملہ میں مقامی عدالت نے ۳۲؍ ملزمین کو ثبوتوں کے فقدان کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منجولا بھالوٹیہ نے سنایا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور مقدمے کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کہا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف عائد الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا انہیں شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔مذکورہ معاملہ شاہ پورتھانہ علاقے کے کٹبا گاؤں کا ہے،جہاں فسادکے دوران قتل، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات رونماہوئے تھے۔
۲۰۱۳ء میں مظفر نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ اسی دوران۸؍ ستمبر۲۰۱۳ء کی صبح تقریباً ۹؍ بجے کٹبا گاؤں میں تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ گاؤں کے رہائشی عمران ولد شمشاد نے شاہ پور تھانے میں دو الگ الگ مقدمات درج کروائے تھے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ۱۱۱؍ سے زائد افراد، جو رائفل، بندوق، طمنچے، تلواریں، بھالے اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں سے لیس تھے، ان سب نے مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کر دیا۔ شکایت گزار کے مطابق حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس میں وحید، شمشاد، ارشاد، تراب الدین، قیوم، فیاض، مومن اور ایک خاتون جاں بحق و متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ گاؤں میں بھگدڑ مچ گئی۔ الزام تھا کہ مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی، مکانات، دکانیں، موٹر سائیکلیں اور جنریٹر نذر آتش کئے گئے جبکہ نقدی، قیمتی سامان اور مویشی لوٹ لئے گئے۔اس واقعے میں ۸؍ افراد کے قتل کا الزام تھا۔ پولیس کے مطابق تقریباً ساڑھے ۱۱؍ بجے پولیس فورس موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پایا۔تفتیش کے بعد پولیس نے مجموعی طور پر۳۶؍ افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران چار ملزمین سونو، دیپک، چترا اور دیویند ر کا انتقال ہو چکا ہے۔ باقی۳۲؍ ملزمین کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات ۱۴۷؍، ۱۴۸؍، ۱۴۹؍۳۰۲؍، ۳۰۷؍، ۳۲۳؍، ۱۵۳۔ اے؍ ۴۳۶؍ ، ۴۲۷؍اور کریمنل لا امینڈمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔یہ مقدمہ تقریباً ۱۳؍ برس تک زیرِ سماعت رہا۔ اس دوران ۲۰۰؍ سے زائد تاریخیں پڑیں اور ۳۰؍سے زیادہ گواہوںکے بیانات قلم بند کئے گئے۔ وکیل دفاع اجے سہراوت کے مطابق استغاثہ کے پیش کردہشواہد میں تضادات اور خامیاں موجود تھیں ۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فوجداری قانون کے تحت سزا دینے کیلئے الزامات کا مضبوط اور ثبوت کا ناقابلِ تردید ہونا ضروری ہے، جو اس مقدمے میں فراہم نہیں کیا جا سکا۔ اسی بنیاد پر تمام ۳۲؍ ملزمین کو بری کر دیا گیا۔ ان میںمنوج، گُلو، بھالو، نیرج، لو کمار، دیویندر، شوکی، گوریش، پردیپ، کالو، کالا، پپو، کنورپال، نیتو، نیتو کا بیٹا پرلہاد، گڈو، نریندر، جتیندر، بھیم، رام سنگھ، دیشویر عرف ڈیسا، چھیتو عرف شیو کمار، مدالی کا، جولی، جولی، دیش ویر عرف ڈیسا وکاس شامل ہیں۔واضح رہے کہ ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فسادات میں کُل۶۰؍ سے زائد افراد ہلاک جبکہ ۴۰؍ ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ ان فسادات سے متعلق مختلف مقدمات کی سماعت مختلف عدالتوں میں جاری رہی، جن میں سے بعض میں فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔کٹبا گاؤں کے اس مقدمے کا فیصلہ طویل قانونی عمل کے بعد سامنے آیا ہے۔جسے فسادات سے متعلق اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا تھا۔