کروڑوں بجلی صارفین پریشان، مہنگی بجلی خریدنے کے نام پر سرچارج عائد کیا گیا۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 1:09 PM IST | Lucknow
کروڑوں بجلی صارفین پریشان، مہنگی بجلی خریدنے کے نام پر سرچارج عائد کیا گیا۔
اتر پردیش کے کروڑوں بجلی صارفین کو جون کے مہینے میں بجلی کے زائد بلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو مارچ کے بڑھے ہوئے بجلی کی خریداری اور ترسیلی اخراجات (پاور پرچیز اینڈ ٹرانسمیشن کوسٹ) کی تلافی کیلئے جون میں ۱۰؍ فیصد فیول اینڈ پاور پرچیز ایڈجسٹمنٹ سرچارج وصول کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ جمعہ کی دیر رات جاری کردہ آرڈر کے مطابق، مارچ کیلئے طے شدہ یہ سرچارج جون کے بجلی کے بلوں میں شامل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق جولائی کے مہینے میں بھی اسی طرح کا۱۰؍ فیصد سرچارج وصول کیا جا سکتا ہے، جس سے صارفین پر اضافی معاشی بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ ریاست میں تقریباً ۳ء۷۳؍ کروڑ بجلی صارفین ہیں اور اس فیصلے کا براہِ راست اثر گھریلو، تجارتی (کمرشل) اور دیگر زمروں کے صارفین پر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ملک کی شرح نمو ۹ء۶؍ فیصد رہنے کا امکان
اتر پردیش اسٹیٹ الیکٹریسٹی کنسیومر کونسل کے صدر اور ریاستی مشاورتی کمیٹی کے رکن اودھیش کمار ورما نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فروری میں بھی ۱۰؍ فیصد فیول سرچارج لگایا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شدید گرمی، بجلی کے بحران، مہنگائی اور پیٹرول، ڈیزل اور روزمرہ کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان بجلی کے نرخ میں یہ اضافہ عام صارفین کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنے گا۔ ورما نے دعویٰ کیا کہ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (یو پی ای آر سی) کے ٹیرف آرڈر میں منظور شدہ بجلی کی اصل قیمت ۴ء۹۴؍ روپے فی یونٹ تھی، جبکہ مارچ میں بجلی کی خریداری کی قیمت تقریباً ۵ء۶۵؍ روپے فی یونٹ دکھا کر صارفین پر تقریباً۱۶؍سو کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ مارچ میں کن نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (پرائیویٹ پاور جنریشن کمپنیوں) سے مہنگی بجلی خریدی گئی اور کن حالات میں خریدی گئی۔ صارفین کونسل کا الزام ہے کہ مارچ کے مہینے کے فیول سرچارج میں گزشتہ مدت کے تقریباً۱۴؍سو کروڑ روپے کے کلیمز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے صارفین پر بوجھ بڑھا ہے۔