Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: سڑک پر نماز عید ادا کرنے کے الزام میں ۴۰؍ افراد کے خلاف مقدمہ درج

Updated: June 01, 2026, 10:07 PM IST | Bijnor

اتر پردیش کے ضلع بجنور میں عید الاضحی کے موقع پر عیدگاہ کے باہر عوامی سڑک پر نماز ادا کرنے کے الزام میں ۴۰؍ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں ۱۵؍ افراد کو نامزد بھی کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق عیدگاہ میں گنجائش کم ہونے کے باعث متعدد نمازی سڑک کے کنارے بیٹھ گئے تھے۔ واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی سڑکوں پر نماز سے متعلق سرکاری ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد کیا گیا، جبکہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے ضلع بجنور میں عید الاضحی کی نماز کے دوران عیدگاہ کے باہر عوامی سڑک پر نماز ادا کرنے کے الزام میں ۴۰؍ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان میں ۱۵؍ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ دیگر کی شناخت کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کو محمود پور مارگ پر واقع عیدگاہ کے قریب پیش آیا، جہاں عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں عقیدت مند جمع ہوئے تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق عیدگاہ کے احاطے میں جگہ کم پڑنے اور غیر معمولی ہجوم کے باعث کئی نمازی احاطے کے باہر سڑک کے کنارے بیٹھ کر نماز ادا کرنے لگے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نماز کے دوران بڑی تعداد میں افراد نے عیدگاہ کے مرکزی دروازے کے باہر عوامی سڑک کے ایک حصے پر نماز ادا کی، حالانکہ وہاں ہجوم کے نظم و نسق اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور انتظامی اہلکار پہلے سے تعینات تھے۔ واقعے کے ویڈیوز بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جس کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا اور تحقیقات شروع کیں۔ حکام کے مطابق وائرل ویڈیو اور مقامی پولیس کی رپورٹ کی بنیاد پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: انتروالی سراٹی میں منوج جرنگے کی بھوک ہڑتال ختم، اہم مطالبات منظور

کوتوالی کے انچارج انسپکٹر راہل سنگھ نے اپنی شکایت میں کہا کہ پولیس نے نمازیوں کو سڑک پر نماز ادا کرنے سے روکنے اور عیدگاہ کے اندر یا متبادل جگہوں پر منتقل ہونے کی ہدایت دی تھی، تاہم بعض افراد نے اس پر عمل نہیں کیا۔ ان کے مطابق نماز کے وقت شدید بھیڑ تھی اور کچھ افراد عیدگاہ کے باہر سڑک کے کنارے بیٹھ گئے۔ پولیس نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹے اور نماز ادا کرتے رہے۔ پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں ۱۵؍ افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں سلمان، نور بخش، اعجاز، سلیم، ممتاز، عبدالرؤف، بدرالدین، وکیل الدین، چمن عرف سیف الدین اور یوسف سمیت دیگر شامل ہیں۔ باقی افراد کی شناخت ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی ریاستی حکومت کی ان ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی کے تناظر میں کی گئی ہے جن کے تحت عوامی سڑکوں اور شاہراہوں پر نماز یا دیگر مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تاکہ ٹریفک، عوامی نقل و حرکت اور امن و امان متاثر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: شہری شعور کو سنجیدگی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے:ہرش گوئنکا

یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتر پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں عید، جمعہ اور دیگر مذہبی اجتماعات کے دوران عوامی مقامات کے استعمال کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ عوامی نظم و نسق اور شہری سہولتوں کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ قانون کے مطابق آئندہ کارروائی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK