Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرٹھ: ہندو لیڈر پر دو مسلم نوجوانوں کے خلاف جھوٹا ’لو جہاد‘ اور گینگ ریپ کا کیس تیار کرنے کا الزام

Updated: June 01, 2026, 10:07 PM IST | Lucknow

پولیس کو شبہ ہے کہ نکول گوجر کے منصوبے کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا تھا جنہیں بعد میں گینگ ریپ اور ”لو جہاد“ کے کیس کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ مقصد ان نوجوانوں کو مجرمانہ مقدمات اور عوامی تنازع کی دھمکی دے کر ان سے خطیر رقم بٹورنا تھا۔ پولیس نے گوجر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک ہندو خاتون کے مبینہ اغواء کے کیس کی پولیس تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ خود ساختہ ہندو لیڈر نکول گوجر نے دو مسلم نوجوانوں کو گینگ ریپ اور ”لو جہاد“ کے ایک من گھڑت کیس میں جھوٹا پھنسانے کیلئے یہ سازش رچی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، گوجر نے پولیس کو اطلاع دی کہ دو مسلم نوجوان، جن کی شناخت ذیشان اور شاہویز کے طور پر ہوئی ہے، ایک کار میں ایک ہندو خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرکے لے جا رہے ہیں۔ اس شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے گاڑی کو روکا، خاتون کو بازیاب کرایا اور دونوں نوجوانوں کو تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا۔

تاہم، تفتیش کے دوران، خاتون نے پولیس کو بتایا کہ یہ واقعہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ اس کے بیان کے مطابق، گوجر نے پیسے اور ملازمت کے وعدوں کے ساتھ اس سے رابطہ کیا تھا اور اسے ان مسلم نوجوانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کیلئے کہا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا تھا جنہیں بعد میں گینگ ریپ اور ”لو جہاد“ کے کیس کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس منصوبے کا مبینہ مقصد ان نوجوانوں کو مجرمانہ مقدمات اور عوامی تنازع کی دھمکی دے کر ان سے خطیر رقم بٹورنا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اس اسکیم کے تحت نکول، دونوں نوجوانوں سے تقریباً ۱۰ لاکھ روپے کا مطالبہ کرنے والا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ۳۴؍ کروڑ خوں بہا، ۲۰؍ سال بعد عبدالرحیم کی رہائی، کیرالا میں ہندو مسلم اتحاد

یہ معاملہ اس لئے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ رپورٹس کے مطابق، گوجر اس سے قبل بھی گینگ ریپ کے ایک کیس سمیت سنگین مجرمانہ الزامات کے تحت گرفتار ہوا تھا لیکن اسے ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔ پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس سے پہلے کے کسی واقعے میں بھی ایسے ہی طریقے استعمال کئے گئے تھے یا نہیں۔

دونوں مسلم نوجوانوں کو، جنہیں شکایت کے بعد شروع میں حراست میں لیا گیا تھا، مبینہ سازش بے نقاب ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے ”لو جہاد“ سے منسلک الزامات اور سنگین مجرمانہ الزامات کے غلط استعمال کے خدشات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکام نے ابھی تک اس معاملے پر حتمی رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آج تک کے تاج محل کو ہندومندر قرار دینے کے شو میں ترمیم کا ریگولیٹرکا حکم

خاتون کے بیان کے بعد، پولیس نے نکول گوجر کے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کو تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس کو ڈھونڈنے کیلئے متعدد چھاپے مارے گئے ہیں، لیکن وہ اب بھی مفرور ہے۔ پولیس اس سازش سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کرتے ہوئے اسے گرفتار کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK