ہائی کورٹ کی جانب سے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی سخت سرزنش، جسٹس تھومبرے نے کہا’’ گھر بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے ‘‘
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 2:50 AM IST | Mumbai
ہائی کورٹ کی جانب سے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی سخت سرزنش، جسٹس تھومبرے نے کہا’’ گھر بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے ‘‘
بامبےہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس سدھیشور تھومبرے نے ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل کے مکان کو منہدم کئے جانے کے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی سخت سرزنش کی ہے اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’ یہ یوپی اور بہار نہیں ہے ، یہاں بلڈوزر کلچر نہیں چلے گا۔‘‘ یاد رہے کہ گزشتہ ۱۳؍ اپریل کو اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے مجلس اتحادالمسلمین کے کارپوریٹر متین پٹیل کے مکان کو منہدم کر دیا تھا۔ پٹیل پر الزام تھا کہ انہوں نے ناسک کی ٹی سی ایس کمپنی کے تنازع میں ملزم بنائی گئی ندا خان کو پناہ دی تھی۔ یاد رہے کہ میونسپل کارپوریشن کے نوٹس کے جواب میں متین پٹیل نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ معاملہ عدالت میں تھا مگر ان کا مکان گرا دیا گیا۔
معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس تھومبرے نے سرکاری وکیل سمبھاجی ٹوپے سے انتہائی جذباتی انداز میں کہا’’گھر بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ میرے اورآپ کی طرح ہر کوئی اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ مہاراشٹر میں بلڈوزر کلچر کو پروان مت چڑھائیے یہ یوپی یا بہار نہیں ہے۔‘‘ عدالت نے دلائل سننے کے بعد پایا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کا پاس نہیں رکھا گیا ہے۔ کسی بھی معاملے میں انہدامی کارروائی سے پہلے ۱۵؍ دنوںکا نوٹس دینا ضروری ہے لیکن اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن نے متین پٹیل کو صرف ۳؍ دنوں کا نوٹس دیا تھا۔ متین پٹیل نے اسی نکتے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا ۔ ان کی عرضداشت پر عدالت نے میونسپل کارپوریشن کو نوٹس دے کر جواب طلب کیا تھا لیکن کارپوریشن نے یہ کہہ کر متین پٹیل کا گھر گرا دیا کہ عدالت نے جواب طلب ضرور کیا ہے لیکن انہدامی کارروائی پر اسٹے نہیں دیا ہے۔ اس لئے میونسپل کارپوریشن انہدامی کارروائی کر سکتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر عدالت نے تبصرہ کیا ’’ شہری انتظامیہ نے عدالت کے نوٹس کا کوئی جواب نہیں بلکہ مکان منہدم کر دیا جس کی وجہ سے کئی لوگ بے گھر ہو گئے۔ یہ شہری انتظامیہ کی من مانی ہے۔ ‘‘
عدالت نے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن سے سوال کیا کہ ’’کیا انتظامیہ نے پہلے اس بات کی تصدیق کر لی تھی کہ متین پٹیل کےمکان کا کون سا حصہ غیر قانونی تھا؟ ‘‘ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ انہدام سے قبل ۱۵؍ دنوں کا نوٹس دینا ضروری ہے جو کہ سپریم کورٹ کی ہدایت ہے۔ اس کا پاس نہیں رکھا گیا۔ متین پٹیل کے وکیل ابھے سنگھ بھوسلے نے عدالت کو بتایا کہ شہری انتظامیہ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ انہدامی کارروائی کے تعلق سے قانونی عمل کا پاس رکھا جائے گا اس کے باوجود اس مکان کو گرا دیاگیا۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت ۱۵؍ جون کو مقرر کی ہے۔
یاد رہے کہ متین پٹیل کے مکان کو جس طرح منہدم کیا گیا اس پر مہاراشٹر کے سماجی اور سیاسی حلقوں میں تنقیدیں ہوئی تھیں۔ ایک ایسا معاملہ جس سے مذکورہ مکان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا اس میں اس مکان کو گرایا گیا۔ یاد رہے کہ سرکاری وکیل نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ متین پٹیل نے مذکورہ جگہ پر اپنی ملکیت ثابت کرنے کے ثبوت پیش کئے ہیں لیکن ان کے پاس مکان کی تعمیر کا اجازت نامہ نہیں تھا۔ یعنی شہری انتظامیہ کو صرف یہ شکایت ہے کہ متین پٹیل کے مکان کا نقشہ منظور شدہ نہیں تھا۔