Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں، ذمہ داری سے پلہ جھاڑنا ہے‘‘

Updated: March 03, 2026, 11:26 PM IST | New Delhi

سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت پر مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کرانےکا مطالبہ کیا ہے ، راہل گاندھی نے بھی تنقید کی

Sonia Gandhi and Rahul Gandhi object to government`s silence on the assassination of Iran`s Supreme Leader
ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر حکومت کی خاموشی، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے اعتراض کیا

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی مذمت کی ہے اور اس معاملےپر مودی حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے ایک انگریزی اخبار میں لکھے اپنے مضمون میں کہا کہ حکومت کی یہ خاموشی غیر جانبداری نہیںبلکہ اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑنے اور اس سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے، جس سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کی سمت اور اس کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور پرامن حل جیسے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ خاموشی ان اصولوں کے منافی معلوم ہوتی ہے۔ 
 سونیا گاندھی نے کہا کہ یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی تھی کہ اس کے سپریم لیڈر ایک روز قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئے گئےحملوں میں شہید کردیئے گئے۔ انہوں نے اسے جاری سفارتی مذاکرات کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا قتل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات میں ایک سنگین خلل بتایا اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں جامع بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ہند نے نہ تو اس قتل کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی ٹھوس ردعمل دیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اپنے ابتدائی ردعمل میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا ذکر کئے بغیر صرف ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات (یواے ای) پر کی گئی جوابی کارروائی پر تنقید کی۔ بعد ازاں انہوں نے عمومی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مکالمے اور سفارت کاری کی بات کہی، حالانکہ حملوں سے قبل یہی عمل جاری تھا۔ 
 سونیا گاندھی نے کہا کہ باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر اور سفارتی عمل کے دوران کسی سربراہِ مملکت کا قتل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل۲(۴) کی روح کے خلاف ہے، جو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے اقدامات پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جانب سے اصولی اعتراض درج نہ کیا جائے تو بین الاقوامی معیارات کا زوال معمول بنتا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے سے ۴۸؍ گھنٹے قبل وزیر اعظم مودی اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے  اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو حکومت کے تئیں حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ ان کے مطابق عالمی جنوب کے کئی ممالک اور برکس شراکت داروں کی جانب سے فاصلہ اختیار کئے جانے کے درمیان ہندوستان کا یہ مؤقف تشویش ناک ہے اور اس سے عالمی سطح پر غلط پیغام جاتا ہے۔ 
 اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے مزید لکھا کہ جب کسی غیر ملکی سربراہ کی ٹارگٹ کلنگ پر ہمارا ملک خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کا کوئی واضح دفاع نہیں کرتا اورغیر جانبداری کو چھوڑ کر خاموش رہتا ہے تو اس سے ہماری خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اس صورتحال میں خاموشی بالکل بھی غیر جانبداری نہیں کہلاسکتی۔کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ نے کہا کہ ’’اس نازک عالمی منظر نامے میں، ہندوستان کو خودمختاری اور امن کیلئے کھڑا ہونا چاہئے اور اپنی اخلاقی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہئے۔‘‘
 راہل گاندھی نے بھی اس موضوع پر مودی حکومت کی خاموشی کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے سونیا گاندھی کے  مضمون کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملے میں ایرانی رہنما کی شہادت پر ہندوستان کی خاموشی ناقابل اعتماد اور کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کا موقف قابل اعتبار اور ہندوستانی روایات کے مطابق نہیں ہے۔ مودی حکومت کا یہ موقف اس کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK