Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ پھول کھلکے رہیں گےجو کھلنے والے ہیں!

Updated: May 10, 2026, 3:01 AM IST | Chennai

ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا کہ تمل ناڈو میں ’’وِجے رتھ‘‘ رُک جائے اور جیسے تیسے کوئی دوسری سرکار بن جائے مگر بے سود۔ آج چنئی میں ’’وِجے دِوَس‘‘

Tamil Nadu`s next Chief Minister Vijay Thalapathy with Governor Rajendra Vishwanath Arlekar
تمل ناڈو کے اگلے وزیراعلیٰ وجے تھلاپتی گورنر رجندر وشوناتھ آرلیکر کے ساتھ

بہت کوشش کی گئی کہ تمل ناڈو میں اپنے پہلے ہی الیکشن میں ۱۰۸؍ نشستوں کے ساتھشاندار کامیابی حاصل کرنے والی نئی پارٹی ’’ٹی وی کے‘‘کی حکومت نہ بننے پائے مگر سنیچر کی سہ پہر تک ازسرنو، مگر، اس بار حتمی طور پر واضح ہوگیا کہ تھلاپتی  وجے ہی اقتدار سنبھالیں گے۔ چار دنوں تک اُمید اور نا اُمیدی کا ماحول رہا۔ اس دوران تھلاپتی وجے تین مرتبہ ریاستی گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے ملے مگر اُنہیں ایک ہی جواب ملا کہ حکومت بنانے کیلئے اراکین اسمبلی کی درکار حمایت کا ثبوت دیجئے تب ہی حکومت سازی کی دعوت دی جائیگی۔ گورنر کے اس طرز عمل پر کافی تنقید ہوئی کیونکہ ضابطہ اور روایت یہ ہے کہ الیکشن کے بعد سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو حکومت سازی کی دعوت دی جاتی ہے مگر گورنر نے تھلاپتی وجے کو مذکورہ جواب کے ساتھ واپس کردیا اور جمہوری ضابطے کی پاسداری نہیں کی۔ سنیچر کو چوتھی مرتبہ تھلاپتی وجے نے گورنر سے ملاقات کرکے وہ شرط بھی پوری کردی جس پر اُن کا اصرار تھا۔ 
 بہرحال کافی رسہ کشی کے بعد تھلاپتی وجے آج (اتوار، ۱۰؍ مئی ۲۶ء) کو جواہر لال نہرو اسٹیڈیم واقع چنئی میں حلف لیں گے۔ حلف لینے والوں میں وجے کو ملا کر ۱۰؍ اراکین ہوں گے۔ تقریب ِ حلف برداری میں حمایت دینے والی پارٹیوں کے لیڈران بشمول راہل گاندھی شریک ہونگے۔ نئی حکومت ۱۳؍ مئی کو ایوانِ اسمبلی میں اکثریت ثابت کریگی۔ 
  اتوار کو وزیر اعلیٰ کا حلف لینے والے وجے نے جس وقت گورنر سے ملاقات کی، لوک بھون کے باہر بہت بڑی تعداد میں اُن کے حامی جمع ہوگئے تھے۔ چنئی کے بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب سے حکومت سازی کی دعوت نہ ملنے کے سبب عوام میں کافی بے چینی تھی۔یاد رہے کہ تمیلیگا وِٹری کزگم جو ’’ٹی وی کے‘‘ کے مخفف سے جانی جاتی ہے، ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کے سامنے بالکل نئی نویلی ہے مگر اس نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں تاریخ بنا دی۔ اسے اقتدار سے روکنے کیلئے پچھلے چار دنوں میں بہت کچھ ہوا۔ یہاں تک کہ ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے، جو ایک دوسرے کی سخت ترین مخالف ہیں، کے بھی ہاتھ ملانے کے اشارے مل رہے تھے مگر ان پارٹیوں کو بھی علم تھا کہ وجے کو روکا گیا تو بڑی تعداد میں لوگ نہ صرف سڑکوں پر اُتر آئینگے بلکہ وجے کی حمایت کا دائرہ وسیع ہوگا جو اُن کیلئے مزید سیاسی فائدہ اور مخالف پارٹیوں کیلئے مزید سیاسی نقصان کا سبب بنے گا اس لئے اُنہوں نے سپر ڈال دی اور ٹی وی کے کی مجوزہ حکومت کے آڑے آنے سے باز رہے۔
 جیسے ہی گورنر کے ذریعہ وجے کو حکومت سازی کی دعوت ملنے کی خبر عام ہوئی، ڈی ایم کے کے سربراہ اسٹالن نے کہا کہ اُنہیں عوامی فلاح و بہبود کی تمام اسکیموں کو جاری رکھنا چاہئے ۔ آخری وقت تک حمایت کے بارے میں پس و پیش کرنے والی پارٹی ’’وی سی کے‘‘ کے سربراہ تھول تھریماولون نے کہا کہ اُن کی پارٹی نے ریاست کو سیاسی انتشار اور بحران سے بچانے اور صدر راج کی نوبت نہ آنے دینے کے مقصد سے حمایت دی ہے جس کا ڈی ایم کے سے اُن کے اتحاد پر اثر نہیں پڑے گا۔
   وی سی کے کے ساتھ ہی  آل انڈیا مسلم لیگ نے بھی وجے کی پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔  مسلم لیگ نے  اسمبلی الیکشن میں ۲؍  سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔واضح  رہے کہ  بائیں محاذ کی دونوں  پارٹیاں، وی سی کے اور انڈین مسلم لیگ ڈی ایم کے  کے اتحاد کا حصہ تھیں اور ان کے لیڈروں  نے رخصت پزیر وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن  سے صلاح و مشورہ کے بعد ہی وجے کی پارٹی کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

tamil nadu Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK