اگر تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری سے صرف ِنظر کیا جائے اور صرف مغربی بنگال اور آسام میں بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کا مجموعی فیصد پیش نظر رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آسام میں اس پارٹی کو ۳۷ء۸۱؍ فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ بنگال میں ۴۵ء۸؍ فیصد۔ اگر دونوں ریاستو ںمیں اس کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد پچاس فیصد تک بھی پہنچ جاتی تو بلاشبہ یہ اور بھی بڑی کامیابی ہوتی مگر اس کا دوسرا معنی بھی ہوتا۔
الیکشن۔ تصویر:آئی این این
اگر تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری سے صرف ِنظر کیا جائے اور صرف مغربی بنگال اور آسام میں بی جے پی کو ملنے والے ووٹوں کا مجموعی فیصد پیش نظر رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ آسام میں اس پارٹی کو ۳۷ء۸۱؍ فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ بنگال میں ۴۵ء۸؍ فیصد۔ اگر دونوں ریاستو ںمیں اس کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد پچاس فیصد تک بھی پہنچ جاتی تو بلاشبہ یہ اور بھی بڑی کامیابی ہوتی مگر اس کا دوسرا معنی بھی ہوتا۔ دوسرا معنی یہ کہ بقیہ پچاس فیصد نے اسے مسترد کیا۔ آسام میں اسے ۳۷ء۸۱؍ فیصد ووٹ ملے ہیں یعنی ۶۲؍ فیصد سے زائد لوگوں نے اور مغربی بنگال میں جہاں اسے ۴۵ء۸؍ فیصد ووٹ ملے وہاں کم و بیش۵۴؍ فیصد لوگوں نے اسے مسترد کیا ہے۔ تمام سرکاری طاقت، آئینی اداروں کا ’’تعاون‘‘، میڈیا کا چوبیس گھنٹے کا ابھیان، سرمائے کی ریل پیل، غیر معمولی انتخابی مہم، تفرقہ پسند سیاست اور طبقاتی مساوات کو ذہن میں رکھ کر حکمت عملی تیار کرنے کی روش کے باوجود زیادہ سے زیادہ ۵۰؍ فیصد ووٹوں کا ملنا یہ ثابت کرتاہے کہ کسی دوسری پارٹی یا اتحاد کیلئے بھی کامیابی کا اُتنا ہی موقع ہے جتنا بی جے پی کے پاس تھا۔ معترضِین کہیں گے کہ دیگر پارٹیوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ (یکساں طور پر ہموار زمین، منصفانہ مواقع) نہیں ملتے جو بی جے پی کو میسر ہیں تو یہ بات یقیناً اہم ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر کامیابی کا امکان بھی تو موجود ہے کیونکہ بہت ہوا تو پچاس فیصد ووٹر ہر ریاست میں بی جے پی کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ خود کو وابستہ کرتے ہیں۔ اس سے قبل کے انتخابات کو بھی سامنے رکھ لیجئے، ہر وقت یہی کیفیت رہی۔ ہندی میں سام دام دنڈ بھید کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کا معنی ہے مثبت ومنفی ہر طرح کے وسائل۔ ایسے وسائل صرف بی جے پی کا طرۂ امتیاز ہیں۔ اتنے وسائل دیگر پارٹیوں کو میسر نہیں ہیں مگر امکان واحد چیز ہے جو مساوی ہے۔ آج بھی جتنا (امکان) بی جے پی کیلئے ہے اُتنا ہی دیگر کیلئے بھی ہے۔ جس دن امکان ختم ہوجائیگا اُس دن الیکشن یکطرفہ ہوکر اپنی معنویت گنوا دیں گے۔ ابھی امکان موجود ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا بھرپور فائدہ اُٹھانے کیلئے غیر بی جے پی پارٹیاں نئے سرے سے حکمت عملی تیار کریں۔ ہماری قومی سیاست کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ دیگر پارٹیوں یعنی غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کو اتحاد کی ضرورت کا تب ہی احساس ہوتا ہے جب اُنہیں اپنی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی۔ جہاں اُن کیلئے آسانیاں پیدا ہوتی ہیں اُن کے تیور بدل جاتے ہیں۔ اسی لئے مخلوط سیاست کبھی پائیدار نہیں رہ پاتی۔دو تین یا زیادہ پارٹیاں کسی الیکشن میں ساتھ آتی ہیں پھر الگ الگ راہ اختیار کرلیتی ہیں۔ جولائی ۲۳ء میں ’’انڈیا‘‘ اتحاد بنا تو اس میں ۲۶؍ پارٹیاں تھیں جو بعد میں ۳۵؍ تک پہنچیں۔ آج کتنی ہیں کوئی نہیں جانتا۔ انڈیا اتحاد کس حد تک فعال ہے کوئی نہیں جانتا۔ لطف کی بات دیکھئے کہ جب تک ممتا بنرجی اقتدار میں تھیں، انہیں انڈیا اتحاد کی یاد نہیں آئی، اقتدار جاتے ہی اُنہیں جو باتیں سب سے پہلے یاد آئیں ان میں سے ایک انڈیا اتحاد ہے۔مطلب صاف ہے کہ کرسی ہےتو اتحاد کی ضرورت نہیں، کرسی نہیں ہے تو اتحاد یاد آتا ہے۔ ایسی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔ بی جے پی زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد کے ذریعہ اس لئے شاندار کامیابی حاصل کرتی ہے کہ بقیہ پچاس فیصد ووٹ کا دعویدار کوئی نہیں ہے۔ تین چار دعویدار ہوں تو بات نہیں بن سکتی جبکہ وسائل بھی نہیں ہیں۔ ایک ہی دعویدار ہو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے۔