مناسک حج کے آغاز کے ساتھ ہی سیکوریٹی ہائی الرٹ، سعودی عرب نے جدید دفاعی نظام کا ویڈیو جاری کیا۔
عازمین کی سہولت کے پیش نظر ہزاروں طبی اہلکارتعینات کئے گئے ہیں- تصویر:آئی این این
حج ۱۴۴۷ ھ کے دوران صحت کے نظام نے ۳؍ہزار سے زائد مختلف اقسام کی ایمبولینس گاڑیاں اور ۱۱؍فضائی ایمبولینس طیارے تعینات کئے ہیں، جو شدید نوعیت کے مریضوں کے لئے فضائی امدادی نظام کا حصہ ہیں۔ یہ تمام اقدامات جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات سے لیس ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل اور بہتر طبی خدمات کو یقینی بنایا جاسکے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب وزیر صحت فہد الجلاجل نے فیلڈ دورہ کیا اور حج کیلئے مختص صحت کے نظام کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے خدمات کے معیار اور کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔ صحت کے نظام کے تحت مختلف اداروں نے اس عملی جائزے اور تیاریوں میں شرکت کی جن میں نیشنل یونائیفائیڈ پروکیورمنٹ کمپنی برائے ادویات، طبی آلات اور سامان (نوبکو) بھی شامل تھی۔ کمپنی نے جدید اختراعات پیش کیں، جن میں طبی سامان کی تیز تر ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون طیارے بھی شامل ہیں۔
اسی طرح جنرل اتھاریٹی برائے خوراک و ادویات نے اپنی جدید نگرانی اور معائنہ کے نظام کی نمائش کی، جو خصوصی ریفریجریٹرز، باڈی کیمروں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں۔ یہ نظام حج سیزن کے دوران فیلڈ سطح پر نگرانی اور کنٹرول کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ہیلتھ ہولڈنگ کمپنی نے ایمبولینس فلیٹ کے انتظام اور طبی اسکریننگ سے متعلق متعدد جدید تکنیکی نظام پیش کیے۔ اس کے ساتھ الیکٹرک اسکوٹرز اور برقی ایمبولینس بائکس بھی شامل تھیں، جو طبی عملے کی نقل و حرکت کو تیز کرنے اور ہنگامی مریضوں تک فوری رسائی کو یقینی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس نمائش میں سعودی ہلال احمر کے آپریشنل منصوبے کو بھی شامل کیا گیا، جس کے تحت مختلف اقسام کی ایمبولینس گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان میں تیز رفتار رسپانس گاڑیاں، الیکٹرک گالف کارٹس، موٹر سائیکلیں، بائیسکلز، اسکوٹرز اور فضائی ایمبولینس سروس شامل ہے، جو شدید نوعیت کے مریضوں کی فوری مدد کے لیے مختص ہیں۔دوسری جانب سعودی عربیہ نے حج کے دوران لاکھوں حجاج کرام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جامع دفاعی اور سیکورٹی انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ مقدس مقامات کے اطراف جدید دفاعی نظام نصب کرنے کا ویڈیو بھی جاری کیا گیا ہے۔