Updated: April 20, 2026, 10:09 PM IST
| London
آر ایم ایس ٹائی ٹینک کے ایک مسافر کی لائف جیکٹ برطانیہ میں ہونے والی نیلامی میں ۶؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے ۸؍ کروڑ روپے) میں فروخت ہوئی، جو اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ نایاب یادگار لورا میبل فرانکیٹیلی کی تھی اور اس پر زندہ بچ جانے والوں کے دستخط موجود ہیں۔
برطانیہ میں ایک تاریخی نیلامی کے دوران RMS Titanic سے منسلک ایک نایاب اور جذباتی اہمیت رکھنے والی لائف جیکٹ ۶؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار پاؤنڈ (تقریباً ۳۹ء۸؍ کروڑ روپے) میں فروخت ہوئی، جو اس کی متوقع قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ لائف جیکٹ لورا میبل فرانکیٹیلی کی تھی، جو ٹائی ٹینک کی فرسٹ کلاس مسافر تھیں اور حادثے کے دوران لائف بوٹ کے ذریعے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس جیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر کئی دیگر زندہ بچ جانے والوں کے دستخط بھی موجود ہیں، جو اسے ایک منفرد تاریخی دستاویز بنا دیتے ہیں۔
یہ نیلامی سن ہنری ایلڈریج کی جانب سے ڈیوزیس میں منعقد کی گئی تھی۔ ماہرین نے اس جیکٹ کی قیمت ڈھائی سے ساڑھے تین لاکھ پاؤنڈ کے درمیان لگائی تھی، لیکن ایک گمنام خریدار نے فون کے ذریعے اس کے لیے ریکارڈ بولی دی۔ اسی نیلامی میں ٹائی ٹینک کا ایک لائف بوٹ سیٹ کشن بھی ۳؍ لاکھ ۹۰؍ ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوا، جسے امریکہ میں پیجن فورج اور برانسن میں موجود ٹائی ٹینک میوزیمز کے مالکان نے خریدا۔ نیلام گھر کے ماہر اینڈریو ایلڈریج نے کہا کہ ’’یہ ریکارڈ توڑ قیمتیں ٹائی ٹینک کی کہانی میں مسلسل دلچسپی اور مسافروں و عملے کے لیے احترام کو ظاہر کرتی ہیں، جن کی کہانیاں ان یادگار اشیاء کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ٹائی ٹینک کو اپنے وقت کا سب سے پرتعیش اور ’’ناقابلِ غرق‘‘ جہاز سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، اپنے پہلے ہی سفر کے دوران ۱۵؍ اپریل ۱۹۱۲ء کو نیو فاؤنڈ لینڈ کے قریب ایک آئس برگ سے ٹکرا کر چند گھنٹوں میں ڈوب گیا۔ اس سانحے میں تقریباً ۲۲۰۰؍ مسافروں اور عملے میں سے ۱۵۰۰؍ کے قریب افراد ہلاک ہو گئے، جس نے اسے تاریخ کے مہلک ترین بحری حادثات میں شامل کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان پر وحشیانہ حملہ، ۴؍قصبوں کے کئی گھروں کو تباہ کر دیا
لورا میبل فرانکیٹیلی اس سفر میں اپنے آجر لوسی ڈف گورڈن اور ان کے شوہر کاسمو ڈف گورڈن کے ساتھ سوار تھیں۔ تینوں لائف بوٹ نمبر ایک کے ذریعے بچ گئے، حالانکہ اس کشتی میں ۴۰؍ افراد کی گنجائش تھی لیکن صرف ۱۲؍ افراد سوار تھے، جو اس سانحے کے دوران وسائل کے غیر مؤثر استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔ خیال رہے کہ ٹائی ٹینک سے جڑی یادگار اشیاء کی مانگ آج بھی برقرار ہے۔ اس سے قبل ۲۰۲۴ء میں ایک سونے کی جیبی گھڑی، جو جہاز کے کپتان کو تحفے میں دی گئی تھی، ۵۶ء۱؍ ملین پاؤنڈ میں فروخت ہو کر ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔